Back to شیعہ خیر البریہ

صرف ولائی مولائی شیعہ کہلوانا کافی نہیں

*صرف ولائی مولائی شیعہ کہلوانا کافی نہیں*

 

- أبي رحمه الله قال حدثني علي بن الحسين السعدآبادي عن جابر الجعفي قال: قال أبو جعفر ع:

 

 يا جابر يكتفى من اتخذ التشيع أن يقول بحبنا أهل البيت فوالله ما شيعتنا إلا من اتقى الله و أطاعه و ما كانوايعرفون إلا بالتواضع و التخشع و أداء الأمانة و كثرة ذكر الله و الصوم و الصلاة و البر بالوالدين و التعهد للجيران من الفقراء و أهل المسكنة و الغارمين و الأيتام و صدق الحديث و تلاوة القرآن و كف الألسن عن الناس إلا من خير و كانوا أمناء عشائرهم في الأشياء قال

 

 جابر يا ابن رسول الله ما نعرف أحدا بهذه الصفة فقال لي يا جابر لا تذهبن بك المذاهب حسب الرجل أن يقول أحب عليا ص و أتولاه فلو قال إني أحب رسول الله ص و رسول الله خير من علي ثم لا يتبع سيرته و لا يعمل بسنته ما نفعه حبه إياه شيئا فاتقوا الله و اعملوا لما عند الله ليس بين الله و بين أحد قرابة أحب العباد إلى الله و أكرمهم عليه أتقاهم له و أعملهم بطاعته يا جابر ما يتقرب العبد إلى الله تبارك و تعالى إلا بالطاعة ما معنا براءة من النار و لاعلى الله لأحد منكم حجة من كان لله مطيعا فهو لنا ولي و من كان لله عاصيا فهو لنا عدو و لا تنال ولايتنا إلا بالعمل و الورع[1]

 

ترجمہ

 

جابر جعفی کہتے ہیں: امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:

 

اے جابر ! کیا وہ شخص جو صرف یہ کہے کہ میں اہل بیت کو دوست رکھتا ہوں ہمارے شیعوں میں سے ہو جائے گا؟ خدا کی قسم ! ہمارے شیعہ وہ لوگ ہیں جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہیں۔

 

وہ تواضع ، خوف خدا، امانت داری، کثرت ذکر، روزہ داری، نماز، والدین کے ساتھ نیکی کرنے، فقیر پڑوسیوں کا خیال رکھنے، مسکینوں کی مدد کرنے، قرض داروں اور یتیموں کی دستگیری کرنے، سچ بولنے، قرآ ن کی تلاوت کرنے، لوگوں کے بارے میں سوائے خیرخواہی کے بات نہ کرنے کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ اپنے کنبہ قبیلے کے درمیان امین معروف ہوتے ہیں۔

 

جابر نے عرض کیا: اے فرزند رسول! ہم کسی کو ان اوصاف کے ذریعے نہیں پہچانتے۔

 

فرمایا: اے جابر! بات کو ٹالو نہیں، کیا انسان کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ کہے: میں علی علیہ السلام کا دوست ہوں اور ان کی ولایت کو قبول کرتا ہوں اور بس؟

 

اگر وہ کہے کہ میں پیغمبر خدا کو دوست رکھتا ہوں کہ جن کا مقام علی علیہ السلام سے بھی بڑا ہے لیکن ان کی سیرت اور تعلیمات پر عمل نہ کرے یہ دوستی کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی۔

 

خدا سے ڈرو اور اللہ سے ثواب حاصل کرنے کے لیے نیک اعمال بجا لاو۔

 

خدا اور کسی کے درمیان رشتہ داری نہیں ہے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور محترم وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ با تقوی اور اطاعت الہی کا پابند ہے۔

 

اے جابر ! کوئی بندہ خدا سے سوائے اس کی اطاعت اور بندگی کے ذریعے اس کے قریب نہیں جا سکتا اور صرف کہنے سے کہ ہمارے ساتھ ہو جہنم کی آگ سے بچ نہیں جاؤ گے اور یہ چیز خدا پر کوئی دلیل اور حجت نہیں ہے۔ جو شخص اللہ کا فرمانبردار بندہ ہے وہ ہمارا دوست ہے اور جو خدا کا نافرمان ہے وہ ہمارا دشمن ہے ہماری دوستی پرہیزگاری اور نیک اعمال انجام دئیے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔

_________________________ 

[1] الامالی: ۴۹۹،ح۳۔ الکافی: ۷۴/۲ ح ۳ الطوسی فی امالیہ : ۹۵ و الطبرسی فی مشکاۃ الانوار: ۵۹، عنھا البحار۹۷/۷۰ح۴۔