*رافضی کا مطلب اور کچھ روایات۔ شعیہ منابع سے*
احمد بن محمد بن خالد برقی اپنی کتاب المحاسن (کتاب) میں دو حدیثیں نقل کرتے ہیں جن کے مطابق قیام زید سے پہلے امام باقرؑ کے دور میں بھی یہ لفظ رائج تھا۔
ابوالجارود کہتے ہیں: ایک شخص نے امام باقرؑ سے عرض کیا: یا ابن رسول اللہ! لوگ *ہم (شیعوں) کو* *"رافضی"* کہتے ہیں۔ امامؑ نے اپنے سینہ اطہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
*میں بھی رافضی ہوں*۔ (اس کو تین دفعہ تکرار فرمایا)۔
برقی، محاسن، ج1، ص157
ابو بصیر کہتے ہیں: امام باقرؑ سے عرض کیا: میں آپ پر قربان جاؤں ہم شیعوں کا ایک نام رکھا گیا ہے جس کے بہانے حکومتی کارندے ہمارے جان و مال پر ظلم و ستم کو روا سمجھتے ہیں۔ امامؑ نے فرمایا: وہ نام کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: رافضی۔
امامؑ نے فرمایا: فرعون کے لشکر سے 70 لوگوں نے اسے رفض (یعنی چھوڑ) کر کے *حضرت موسیؑ کا ساتھ دیا تھا* اور یہ لوگ دوسروں سے زیادہ اپنے دین پر قائم تھے اور سب سے زیادہ ہارون سے محبت کرتے تھے۔ اس وقت حضرت موسیؑ نے *انہیں رافضی کا لقب دیا*۔ خدا کی طرف سے حضرت موسیٰ پر وحی نازل ہوئی کہ یہ نام تورات میں ان لوگوں کیلئے ثبت کرو کیونکہ میں نے ان کیلئے یہ نام انتخاب کیا ہے۔ اس کے بعد امامؑ نے فرمایا: خدا نے یہ نام تم(شیعوں) کیلئے بھی انتخاب کیا ہے
۔
ہمیں رافضی ہونے پر فخر ہے
عمار کوفی کا قصہ.
عمار دھنی(کوفی) حضرت امام جعفر صادق ع کے بہت ہی عظیم شاگردوں میں شمار کیے جاتے تھے اور کوفہ میں رہتے تھے ایک دن محاکمہ کی خاطر جو پیش آگیا تھا قاضی ابی لیلی کے پاس آئے تاکہ گواہی دیں جس وقت انہوں نے قاضی کے سامنے گواہی پیش کی تو قاضی نے کہا آپکی شہادت قبول نہیں ہے اس لیے کہ آپ رافضی اور شیعہ ہیں عمار نے جیسے ہی یہ بات سنی ابر بہاری کی طرح گریہ و نالہ شروع کر دیا قاضی جو عمار کو پہنچاتا تھا کہ جانتا تھا کہ عمار عاقل و متقی انسان ہیں اس نے متاثر ہو کر کہا اگر آپ رنجیدہ ہوئے ہو تو اعلان کر سکتے ہو رافضی شیعہ حضرت علی ع نہیں ہوتا کہ میں تمہاری گواہی قبول کروں عمار دھنی نے کہا
میرا گریہ کرنا میری اور تیری خاطر ہے اپنے لیے اس وجہ سے روتا ہوں کہ تم نے مجھے بہت بڑے مرتبہ کی نسبت دی ہے میں اپنے کو اسکا لائق اور سزاوار نہیں سمجھتا تم مجھے رافضی کہتے ہو لیکن رافضی وہ لوگ ہیں جو تمام باطل ترک کر دیں اور حق کی جانب چلیں درآنحالیکہ میں ایسا نہیں ہوں تم مجھے شیعہ امیرالمومنین حضرت علی ع کے نام سے یاد کرتے ہو لیکن میں کہاں اور شیعہ پیروعلی ع ہونا کہاں؟
لیکن تیرے لیے گریہ اس وجہ سے ہے کہ اتنے بڑے اور بلند مرتبوں کا ذکر تم نے سبکی و اہانت کے ساتھ کیا جب عمار دھنی کی باتوں کو حضرت امام جعفر صادق ع کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آنحضرت ع نے فرمایا اس ادب و تواضع کی وجہ سے جو عمار نے پیش کیے (برفرض) اس کے تمام گناہ یہاں تک کہ اگر زمین و آسمان سے بڑے رہے ہوں وہ بھی معاف ہو گئے اور خدا وند عالم نے اسکے اچھے اعمال کو ہزار گناہ کر دیا
اس نے بلندی اس وجہ سے پائی کہ اپنے کو پست و حقیر سمجھا اور وہ راہ خدا میں فنا ہو گیا ہم فقط شیعان علی ع کی شکل و صورت رکھتے ہیں اور اسی پر ہم خوش ہیں ہم سب انکو اور انکے شیعوں کو دوست رکھتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ خدا وند عالم ان حضرات کے ساتھ ہمیں بھی محشور فرمائے آمین
کتاب.مولائی داستانیں
صفحہ.٢٩٨
مصنف.شہید محراب آیت اللہ عبدالحسین دستغیب