لغت میں شیعہ کسے کہتے ہیں؟
حضرت ابراہیم کے بارے میں اعلان ہوتا ہے:{ وَإِنَّ مِنْ شِیعَتِہِ لَإِبْرَاهیمَ} ،نوح کے شیعوں میں سے ایک ابراہیم تھے۔(۱۰) مراد یہ ہے کہ توحید،عدل اور حق کی پیروی کے سلسلہ میں حضرت ابراہیم کی وہی راہ و روش تھی جو راہ و ہیروش حضرت نوح کی تھی ۔(۱۱)اس آیت سے یہ مراد نہیں ہے کہ ایک دوسرے کی پیروی کرتے تھے کہ ایک امام و رہبر اور دوسرا ماموم و پیرو ہو بلکہ یہاں پر مراد راہ و روش اور دین میں اتحاد و ہم آہنگی ہے ۔
لفظ«شیعہ»
عربی لغت میں کسی فرد یا افراد کی دوسرے فرد یا افراد کے اتباع اور پیروی کرنے، کسی کی نصرت و حمایت کرنے، نیزقول یا فعل میں موافقت و مطابقت کے معنی میں ہے ۔ ذیل میں چند معروف لغات کے اقتباسات پیش کئے جارہے ہیں۔
۱۔القاموس:«شیعة الرجل اتباعه و انصارہ،الفرقة علی حدۃ و یقع علی الواحد و الاثنین و الجمع و المذکر و المونث»(۱)،کسی شخص کے شیعہ اس کے پیرو اور مددگار ہوتے ہیں،ایک فرقہ پر بھی شیعہ کا اطلاق ہوتا ہے یہ لفظ واحد،تثینہ،جمع،مذکر،مونث سب کے لئے ایک ہی صور ت میں استعمال ہوتا ہے۔
۲۔لسان العرب:«الشیعة:القوم الذین یجتمعون علی الامر و کل قوم اجتمعوا علی امر فھم شیعة،و کل قوم امرھم واحد یتبع بعضھم رأي بعض فھم شیعة»۔ (۲)
شیعہ وہ گروہ ہے جو کسی امر پر مجتمع ہو،جو گروہ کسی امر پر اجتماع کرے وہ شیعہ ہے،ہر وہ گروہ جو ایک امر پر متفق ہو اور ان میں سے بعض،بعض کی پیروی کرے وہ شیعہ ہے۔
۳۔معجم المقائیس:«الشین و الیاء و العین اصلان یدل احدھما علی المعاضدۃ و مساعفة و الی آخر علی بث و اشادۃ و الشیعة الانصار و الاعوان»(۳)،ش، ی، ع، اس لفظ کی لغت میں دو اصل بیان ہوئی ہیں، ایک اصل نصرت و امداد پر دلالت کرتی ہے اور دوسری نشر و پراکندہ ہونے پر،اور یہاں پر پہلی اصل مراد ہے،شیعہ یعنی مددگار ، اعوان و انصار۔
۴۔المصباح المنیر:«الشیعة:الاتباع و الانصار،و کل قوم اجتمعوا علی امر فھم شیعة» (۴)شیعہ پیرو اور انصار کو کہا جاتا ہے جو گروہ بھی کسی بات پر اتفاق کرے وہ شیعہ ہے۔
۵۔اقرب الموارد:«شیعة الرجل اتباعہ و انصارہ،شیع و اشیاع»(۵)،کسی شخص کے شیعہ اس کے پیرو اور مددگار ہیں،شیعہ کی جمع شِیَعْ اور اشیاع ہے۔(۶)
۶۔النہایة:«اصلھا من المشایعة و ھی المتابعة و المطاوعة»(۷)،شیعہ کی اصل مشایعت ہے یعنی دوسرے کی پیروی کرنا۔
مذکورہ عبارتوں میں غور کرنے سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ لغت کے اعتبار سے لفظ شیعہ کے تین معنی ہیں اور ان تین معانی میں سے کوئی ایک معنی ضرور مراد ہیں، ۱۔ اطاعت و پیروی، ۲۔ نصرت و مدد، ۳۔ اجتماع و موافقت۔
قرآن کریم میں لفظ شیعہ یا اس کے مشتقات (شیع ، اشیاع)اپنے لغوی معنی میں ہی استعمال ہوئے ہیں یعنی ایسا گروہ جو ایک بات پر متفق ہو،کسی خاص مذہب و مکتب کی پیروی کرنا، بعض کا بعض کی پیروی کرنا، جیسے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کو جو قبطی سے جھگڑ اکررہا تھا قرآن نے اسے موسیٰ کا شیعہ کہا ہے:{فَوَجَدَ فِیھَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلاَنِ هَذَا مِنْ شِیعَتِه}،انھوں نے دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا ایک ان کے شیعوں میں سے تھا اور ایک دشمنوں میں سے۔(۸)
مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک بنی اسرائیل اور دوسرا قبطی تھا اس لئے کہ بنی اسرائیل خود کو ابراہیم، یعقوب اور اسحاق کا پیرو سمجھتے تھے اگرچہ ان انبیاء کرام(ع) کی شریعت میں تبدیلیاں آچکی تھیں لیکن ان انبیاء کا پیرو ہونے کی بنیاد پر بنی اسرائیل کے شخص کو موسیٰ کا شیعہ کہا گیا یعنی اس دین و شریعت کا پیرو جس دین پر حضرت موسیٰ تھے ۔(۹)
اسی طرح حضرت ابراہیم کے بارے میں اعلان ہوتا ہے:{ وَإِنَّ مِنْ شِیعَتِہِ لَإِبْرَاهیمَ} ،نوح کے شیعوں میں سے ایک ابراہیم تھے۔(۱۰)
مراد یہ ہے کہ توحید،عدل اور حق کی پیروی کے سلسلہ میں حضرت ابراہیم کی وہی راہ و روش تھی جو راہ و ہیروش حضرت نوح کی تھی ۔(۱۱)اس آیت سے یہ مراد نہیں ہے کہ ایک دوسرے کی پیروی کرتے تھے کہ ایک امام و رہبر اور دوسرا ماموم و پیرو ہو بلکہ یہاں پر مراد راہ و روش اور دین میں اتحاد و ہم آہنگی ہے اسی لئے اس میں زمانہ کے تقدم و تاخر کا کوئی دخل نہیں ہے ۔(۱۲)چنانچہ قرآن مجید کبھی سابقین کو متاخرین کا شیعہ کہتا ہے:{وَحِیلَ بَیْنَهمْ وَبَیْنَ مَا یَشْتَهونَ کَمَا فُعِلَ بِأَشْیَاعِهمْ مِنْ قَبْل}،اور ان کے اور ان چیزوں کے درمیان جن کی یہ خود خواہشیں رکھتے تھے پردے حائل کر دئے گئے ہیں جس طرح ان کے پہلے والوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔(۱۳) اس آیہ کریمہ میں گذشتہ امتوں کے کفار کو عہد رسالت کے کفار کا شیعہ کہا گیا ہے مقصود یہ ہے کہ دونوں کفر و الحاد میں متحد و متفق اور ایک دوسرے کے مانند ہیں۔
حوالہ جات:
(۱)القاموس المحیط ج۳، ص۴۷،کلمہ «شَاعَ»۔
(۲)لسان العرب ج۱، ص۵۵، کلمہ«شَیَعَ»۔
(۳) معجم المقائیس اللغۃ ص ۵۴۵، کلمہ«شَیَعَ»۔
(۴)المصباح المنیر ج۱، ص۳۹۸۔
(۵)اقرب الموارد ج، ۱، ص۶۲۶ ۔
(۶)المصباح المنیر میں فیومی کا قول ہے اشیاع،شیع کی جمع ہے اس طرح اشیاع جمع الجمع ہے۔
(۷)ابن الاثیر، النہایة، ج۲، ص۵۱۹۔
(۸) سورہ قصص:آیت ۱۵۔
(۹)المیزان،ج۱۷،ص۱۶۔
(۱۰)سورہ صافات:آیت ۸۳۔
(۱۱)«یعنی انہ علی منہاج و سنۃ فی التوحید و العدل و اتباع الحق»، مجمع البیان ج۴، ص۴۴۹۔
(۱۲)«کل من وافق غیرہ فی طریقتہ فھو من شیعتہ تقدم او تاخر»،المیزان ج۱۷، ص۱۴۷۔
(۱۳)سورہ سبا:آیت ۵۴۔
۔
۔
شیعہ لغت میں
اہلِ لغت شیعہ کے معنی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"شیعہ: کسی شخص کے پیروکار اور مددگار"
یعنی شیعہ اس شخص کے پیروکاروں اور مدد کرنے والوں کو کہا جاتا ہے۔
📚 لسان العرب: 8/188
پھر ایک اور مقام پر کہتے ہیں:
یہ نام ہر اس شخص پر غالب آ گیا ہے جو حضرت علی اور ان کے اہلِ بیت (رضی اللہ عنہم اجمعین) کی ولایت اور پیروی کرتا ہے، یہاں تک کہ یہ نام خاص انہی کے لیے مخصوص ہو گیا۔ اس لفظ کی اصل "مشایعت" سے ہے، جس کا مطلب ہے کسی کے پیچھے چلنا اور اس کی اطاعت کرنا۔
📚 تاج العروس: 2/120
📚 لسان العرب: 8/188
پس "شیعہ" اصطلاحی طور پر ان لوگوں پر بولا جاتا ہے جو فکر، عمل اور اخلاق کے لحاظ سے اہلِ بیتِ محمدؑ کی پیروی کرتے ہیں اور ان کی اطاعت کرتے ہیں۔
---
ابن عبدالبر امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے حالات میں لکھتے ہیں:
سلمان، ابوذر، مقداد، خبّاب، جابر، ابو سعید خدری اور زید بن ارقم سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالبؑ سب سے پہلے اسلام لانے والے تھے، اور یہ حضرات انہیں دوسروں پر فضیلت دیتے تھے۔
📚 الاستیعاب: 3/1090
یہ سات افراد ہیں جن کا ذکر ابن عبدالبر نے کیا، لیکن صدرِ اسلام میں حضرت علیؑ کی افضلیت کے قائل لوگوں کی تعداد اس سے زیادہ تھی۔
---
امام ذہبی اس بارے میں لکھتے ہیں:
حضرت علیؑ کو افضل ماننا نہ رفض (گمراہی) ہے اور نہ بدعت، بلکہ بہت سے صحابہ اور تابعین اس رائے کے قائل تھے۔
📚 سیر اعلام النبلاء: 16/457
---
اسی طرح واضح ہوتا ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور، بلکہ نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں بھی کچھ صحابہ ایسے تھے جو رسول اللہ ﷺ کے بعد بلا فصل خلافت کے لیے امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے قائل تھے۔ یہ لوگ حضرت علیؑ کے پیروکار کے طور پر پہچانے جاتے تھے، اور رسول خدا ﷺ نے انہیں "شیعۂ علیؑ" کے نام سے یاد فرمایا۔
---
اہلِ سنت کے نزدیک "تشیع" کی اصطلاح:
یہ واضح ہو گیا کہ شیعہ اور تشیع کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ بیتؑ کی پیروی کی جائے اور رسول اللہ ﷺ کے بعد حضرت علیؑ کی بلا فصل خلافت پر ایمان رکھا جائے۔