کیا شیعہ کتب سے اذان میں الصلاۃ خیر من النوم ثابت ہے ؟
السلام علیکم
ایک برادر نے دو شیعہ روایات پیش کیں جن میں کسی اہلسنت نے ثابت کیا تھا کہ شیعہ کتب میں اذان میں الصلاۃ خیر من النوم ثابت ہے
اس کا مختصر جواب عرض ہے
.
یہ روایات کچھ وجوہات کی بنا پر مردود ہیں
.
( 1 ) یہ حالت تقیہ میں بیان کی گئی ہیں
.
2 ) مذہب شیعہ کے اصولوں میں سے ایک اصول ہے کہ جب دو روایات میں اختلاف آجائے تو ان روایات کو قبول کیا جائے جو مذہب شیعہ کے موافق ہوں اور ان روایات کو رد کردیا جائے جو اہلسنت مذہب کے موافق ہوں
.
اخبار شاذ کو ترک کردیا جائے اور اخبار متواترہ کو ترجیح دی جائے
اخبار متواترہ سے جو اذان و اقامت نقل ہوئی ہے اس میں یہ الفاظ موجود نہیں
.
3 ) ان میں سے دوسری روایت کی سند مؤثق ہے
.
اور مؤثق روایت اس روایت کو کہتے ہیں جس میں غیر شیعہ راوی ہوں ، اور غیر شیعہ راوی کی روایت اس وقت قابل قبول نا ہوگی جب وہ شیعہ مذہب کے برخلاف کوئی روایت نقل نا کرے
.
شیخ طوسی فرماتے ہیں
كان الراوي من فرق الشيعة مثل الفطحية، والواقفة، والناووسية وغيرهم نظر فيما يرويه:فان كان هناك قرنية تعضده أو خبر آخر من جهة الموثوقين بهم، وجب العمل به.
وان كان هناك خبر آخر يخالفه من طريق الموثوقين، وجب اطراح ما اختصوا بروايته والعمل بما رواه الثقة
مختصر ترجمہ: شیخ صاحب لکھتا ہے اگرچہ کوئی راوی شیعہ فرقے سے ہو مثلا فطحی واقفی وغیرہ ان لوگوں کی روایات اس صورت میں قبول ہیں جب اُن کی روایات ثقہ روایات کے خلاف نہ ہو اگر ثقہ روایات کے خلاف کوئی واقفی، فطحی ، روایت نقل کرے تو اُس کی روایت قبول نہیں ہے
عدة الأصول الشيخ الطوسي - ج ١ - الصفحة ١٥٠
.
علامہ تقی مجلسی رح نے ایک روایت نقل کی ہے جس میں امام ع نے الصلاۃ خیر من النوم کو بدعت قرار دیا ہے
روضة المتقین ج 3 ص 361
شیخ آصف محسنی نے بھی لکھا ہے کہ یہ روایات عامہ کے موافق ہیں
Gallery
Tap any image to view full screen