کیا حدیث ثقلین میں”عترتی ، اہل بیتی“ سے مراد علمائے امت ہیں؟
کیا حدیث ثقلین میں”عترتی ، اہل بیتی“ سے مراد علمائے امت ہیں؟
جواب: ناصر الدین البانی سند کے اعتبار سے حدیث کی تصحیح کرنے کے بعد حدیث کی دلالت کی توجیہ کرتا ہے او رکہتا ہے: ”عترتی اہل بیتی“ سے مراد یا پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی ازواج ہیں یااہل بیت سے مراد امت کے صالح علماء ہیں جو کتاب اور سنت سے تمسک کرتے ہیں. (۱) ۔
اصل میں اس توجیہ کو قاضی عبدالجبار معتزلی نے ”المغنی“ میں بیان کیا ہے۔
ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں:
۱۔ آیہ تطہیر کی بحث میں یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ اہل بیت سے مرادصرف پنجتن اصحاب کساء ہیں اور ازواج پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کبھی بھی اہل بیت میںشامل نہیں ہوسکتیں۔
۲۔ اور اس بات کے کیا معنی ہیں کہ پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) اپنی وفات کے وقت امت کی نجات کا راستہ کتاب خدا اور اپنی ازواج سے تمسک کرنے کو معرفی کریں اور اس میں اصحاب کا نام نہ ہو۔
۳۔ عترت او راہل بیت پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو علماء امت پرحمل کرنا لغت اور اصطلاح کے مخالف ہے ، کس نے کہا ہے کہ عترت او راہل بیت سے علمائے امت مراد ہیں۔ اس طرح کے بیان ایک طرح کی تفسیر بالرای ہے جس کی شدید طور سے مذمت کی گئی ہے۔
۴۔ جس طرح کے بعض آیات دوسری بعض آیات کی تفسیر کرتی ہیں اسی طرح روایات بھی ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔ حدیث ثقلین میں اگر چہ عترت و اہل بیت کا مصداق مشخص نہیں ہوا ہے لیکن حدیث کساء اور دوسری روایات میں جو کہ آیہ مباہلہ کے ذیل میں وارد ہوئی ہیں عترتی و اہل بیتی کا مصداق معین ہوا ہے ۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین کی طرف اشارہ کرنے کے بعد فرمایا: ” بار الہا! یہ میرے اہل بیت ہیں“۔
۵۔ حدیث ثقلین میں اہل بیت کی عصمت پر بہت سے قراین موجود ہیں لہذا قطعی طور سے یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ اہل بیت سے مراد علمائے امت نہیں ہیں
حوالہ سلسلة الاحادیث الصحیحة، ج۴، ص ۳۵۹و ۳۶۰۔
Gallery
Tap any image to view full screen