قرآن اور اہل بیت کا ”ثقلین“ نام رکھنے کی وجہ
رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے قرآن و عترت کو ”ثقلین“ کے نام سے کیوں نوازا؟
کلمہ ثقلین ، ثَقل کے مادہ سے تثنیہ ہے اور اس کے معنی سامان، زادراہ اور ہر اس نفیس چیز کے ہیں جس کی حفاظت کی ضرورت ہو (۱) یا ثِقل کے مادہ سے سنگینی اور وزنی کے معنی میں ہے۔
ثعلب نے کہا ہے : کتاب او رعترت کو ثقلین اس لئے کہا گیا ہے کہ ان دونوں پر عمل کرنا بہت سخت ہے اور ان دونوں کی بہت زیادہ قدر ومنزلت بتانے کیلئے ان کا نام ثقلین رکھا (۲) ۔
ابن حجر مکی کہتا ہے: ”سمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) القرآن و عترتہ (الاھل والنسل والرھط الادنون)ثقلین، لان الثقل کل شئی نفیس خطیر مصون، وہذان کذلک، اذ کل منہما معدن للعلوم الدنیه والاسرار والحکم الالھیه، ولذلک حث النبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) علی الاقتداء بھم والتعلم منھم“
رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے قرآن و عترت کا ثقلین نام رکھا ، ”ثقل“ ہر نفیس چیز کو کہا جاتا ہے اور قرآن و عترت بھی انہی میں سے ہیں، کیونکہ ان دونوں میں سے ہرایک علوم لدنی کی کان اور خدا کے اسرارمیں سے ایک ہے، اسی وجہ سے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے لوگوں کو ان دونوں کی پیروی کرنے کی تاکید اور سفارش کی ہے (۳) ۔
دوسری عبارت میں یہ کہا جائے : ثقل ایسا معیار ہے جس کے ذریعہ ترازو کو ثابت کرنے کیلئے وضع کیا جاتا ہے اوران دونوں کو اسی وجہ سے اس معیار اور کسوٹی سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ کتاب اور عترت لوگوں کی زندگی کو حیات اور استقرار بخشتے ہیں، یعنی اگر یہ دونوں ختم ہوجائیں تو لوگوں کا چین وسکون ختم ہوجائے گا
حوالہ جات:
۱۔ قاموس المحیط، مادہ ثقل۔
۲۔ لسان العرب، مادہ ثقل۔
۳۔ الصواعق المحرقة، ص ۹۰۔