حدیث ثقلین
اہل سنت امام مسلم نے اپنی صحیح میں زید بن ارقم سے نقل کرتے ہیں: ایک دن پیغمبر اکرمۖ نے ایک ایسے تالاب کے کنارے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس کا نام ''خم'' تھا یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع تھا اس خطبے میں آپۖ نے خداوندکریم کی حمدو ثنا کے بعد لوگوں کو نصیحت فرمائی اور یوں فرمایا:
📜 ''ألاٰ أیّہاالناس ، فاِنما أنا بشر یوشک أن یأت رسول رب فأجیب وأنا تارک فیکم الثقلین. أولھما کتاب اللّہ فیہ الھدی والنور ، فخذوا کتاب اللہ واستمسکوا بہ ، فحث علی کتاب اللّہ ورغب فیہ ثم قال: وأھل بیت اُذکرکم اللّہ ف أھل بیت . اُذکرکم اللّہ ف أھل بیت . اُذکرکم اللّہ ف أھل بیت .''
📃 اے لوگو! بے شک میں ایک بشر ہوں اور قریب ہے کہ میرے پروردگار کا بھیجا ہوا نمائندہ آئے اور میں اس کی دعوت قبول کروں میں تمہارے درمیان دو وزنی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک کتاب خدا ہے جس میں ہدایت اور نور ہے کتاب خدا کو لے لو اور اسے تھامے رکھو اور پھر پیغمبر اسلامۖ نے کتاب خدا پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی اور اس کی جانب رغبت دلائی اس کے بعد یوں فرمایا اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں . اپنے اہل بیت کے سلسلے میں، میں تمہیں خدا کی یاد دلاتا ہوں اور اس جملے کی تین مرتبہ تکرار فرمائی.
📚 صحیح مسلم جلد٤ ص١٨٠٣حدیث نمبر ٢٤٠٨طبع عبدالباقی
ترمذی نے بھی اس حدیث کے متن کو لفظ ''عترتی اھل بیتی'' کے ساتھ نقل کیا ہے : متنِ حدیث اس طرح ہے:
📜 ''اِنّ تارک فیکم ما اِن تمسکتم بہ لن تضلوا
بعد ، أحدھما أعظم من الاخر : کتاب اللّہ
حبل ممدود من السماء اِلی الأرض و عترت
أھل بیت ، لن یفترقا حتی یردا علَّ الحوض
فانظروا کیف تخلفون فیھما''
📃 میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان سے متمسک رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہو گے ، ان دو چیزوں میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے ، کتاب خدا ایک ایسی رسی ہے جو اسمان سے زمین تک آویزاں ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں . اور یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملیں .لہذا یہ دیکھنا کہ تم میرے بعد ان کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتے ہو.
📚 سنن ترمذی جلد٥ص٦٦٣نمبر٣٧٧٨٨
حددیث ثقلین کی ٣٤ صحابہ و صحابیات نے جناب رسول خدا صلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت کی ہے، اور دور تالیف سے آج تک ہر عہد کے علماء ،انہیں حدیث و سیرت و مناقب و تاریخ کی کتابوں میں درج کرتے چلے آئے ہیں:
١۔ حضرت امیرالمو منین علی علیہ السلا م سے بزار، محب الدین طبری ،دولالی، سخاوی، سمہودی وغیرہ نے اپنی تالیفات میں حدیث ثقلین کو درج کیا ہے۔
٢۔ امام حسن سے ابن قندوزی نے '' ینابیع المودة'' میں حدیث ثقلین کی روایت کی ہے ۔
٣۔سلمان فارسی سے بھی قندوزی نے حدیث ثقلین کی روایت کی ہے ۔
٤۔ حضرت ابوذرغفاری سے ( صحیح ترمذی )
٥۔ ابن عباس سے ( قندوزی)
٦۔ ابوسعیدی خدری سے (مسعودی، طبری، ترمذی و غیرہ )
٧۔ جابر بن عبد اللہ انصاری سے (ترمذی ،ابن اثیر و غیرہ)
٨۔ ابوالہیثم تیہان سے (سخاوی وقندوزی)
٩۔ ابورافع سے (سخاوی وقندوزی )
١٠۔ حذیفہ یمان سے (، محب الدین طبری ،مودةالقربی)
١١۔ حذیفہ بن اسید غفاری سے (ترمذی،ابونعیم اصفہانی،ابن اثیر ،سخاوی و غیرہ)
١٢ ۔ خزیمہ بن ثابت سے (سخاوی ،سہمودی،قندوزی )
١٣۔ ابوہریرہ سے (بزار ، سخاوی،سہمودی)
١٤ ۔ زیدبن ثابت سے (احمدبن حنبل، محب الدین طبری، ابن اثیر و غیرہ)
١٥ ۔ عبد اللہ بن حنطب سے (طبرانی،ابن اثیر وغیرہ)
١٦۔ جبیربن مطعم سے (ابونعیم اصفہانی و غیرہ)
١٧ ۔ براا بن عازب سے ( ابو نعیم اصفہانی)
١٨۔ انس بن مالک سے ( ابو نعیم اصفہانی )
١٩ ۔ طلحہ بن عبید اﷲ بن تمیمی سے ( قندوزی )
٢٠۔ عبد الرحمن بن عوف سے ( قندوزی )
٢١۔ سعد بن وقاص سے ( قندوزی )
٢٢۔ عمرو بن عاص ( خوارزمی )
٢٣۔ سہل بن سعد انصاری (سخاوی ، سمہودی )
٢٤ ۔ عدی بن حاتم ( سخاوی ،سمہودی و غیرہ)
٢٥۔ عقبہ بن عامر (سخاوی وغیرہ )
٢٦۔ ابو ایوب انصاری ( سخاوی)
٢٧۔ شریح خزاعی ( سخاوی ، سمہودی و غیرہ)
٢٨۔ ابو قدامہ انصاری ( سخاوی وغیرہ )
٢٩۔ ضمیرہ ٔ اسلمی( سخاوی وغیرہ)
٣٠۔ ابو لیلی انصاری ( سخاوی ، سمہودی ، قندوزی )
٣١۔ حضرت فاطمہ الزہرا ص سے ( قندوزی )
٣٢۔ ام المومنین ام سلمہ رض سے ( سخاوی س،سمہودی )
٣٣۔ ام ہانی بنت ابو طالب سے ( سخاوی، سمہودی وغیرہ )
٣٤۔ زید بن ارقم سے ( صحیح مسلم ،مسند احمد بن حنبل ، کنزالعمال ۔ سیوطی؛ در منثور،ترمذی)
https://www.facebook.com/Talimaat.e.Ahlbait/
حوالہ جات کے اسکین پیجز 👇🏻
۔
حدیث ثقلین کے منابع:
صحیح مسلم بن حجاج ج 7 ص 122
ابو داؤد مسند میں
ترمذی جزء دوم ص 307 سنن، میں
نسائی در ص 30 خصائص میں
احمد بن حنبل جلد سوئم صص 14 و 17، جلد صص 26 و 59 جلد چہارم و صص 182 و 189 جلد پنجم مسند، میں
حاکم جلد سوئم صص 109 و 148 مستدرک میں
حافظ ابو نعیم اصفهانی ص 355 جلد اول حلیة الاولیاء میں
سبط ابن جوزی صفحه 182 تذکره الاولیاء میں
ابن اثیر الجزری جلد 2 ص 12 و ص 147 ج 3 اسدالغابه میں
حمیدی جمع بین الصحیحین میں
رزین جمع بین الصحاح السته میں
طبرانی معجم الکبیر میں
ذهبی تلخیص مستدرک میں
ابن عبد ربه عقد الفرید میں
محمد بن طلحه شافعی مطالب السؤل میں
خطیب خوارزمی مناقب میں
سلیمان بلخی حنفی باب 4 ینابیع الموده میں
میر سید علی همدانی مودة دوئم از مودة القربی میں
ابن ابی الحدید شرح نهج البلاغه میں
شبلنجی ص 99 نور الابصار میں
نورالدین ابن صباغ مالکی ص 25 فصول المهمة میں
حموینی فرائد السمطین میں
امام ثعلبی تفسیر البیان میں
سمعانی و ابن مغازلی شافعی مناقب میں
محمد بن یوسف گنجی شافعی باب اول صحت خطبه غدیر خم کے ضمن میں اور ص 130 کفایة الطالب باب 62 میں
محمد بن سعد کاتب ص 8 جلد 4 طبقات میں
فخر رازی در ص 113 ج 4 تفسیر آیت اعتصام کی تفسیر میں
ابن کثیر دمشقی ص 113 جلد چہارم تفسیر میں آیت مودت کی تفسیر میں
ابن عبد ربه ص 158 اور 346 جلد 2 عقد الفرید میں
ابن ابی الحدید ص 130 جزء ششم شرح نهج البلاغه میں
سلیمان حنفی قندوزی صص 18، 25، 29، 30، 31، 32، 34، 95، 115، 126، 199 و 230 ینابیع المودة میں مختلف عبارات کے ساتھ
٭ ابن حجر مکی صص 75، 78، 90، 99 و 136 صواعق المحرقة میں،
اور دیگر اکابر علمائے اہل سنت نے مختصر سے لفظی اختلاف کے ساتھ اس حدیث شریفہ کو شیعہ اور سنی منابع کے حوالے سے تواتر کے ساتھ رسول اکرم صلی الله علیه و آله و سلم سے نقل کیا ہے
۔
اسناد دوسرے انداز سے
1. مصابیح السنة، البغویالشافعی، ج2، ص205 (چاپ مصر)؛
2. نظم درر السمطین، الزرندیالحنفی، ص231؛
3. تفسیر الخازن، ج1، ص4؛
4. مشکاة المصابیح، العمری، ج2، ص255 (چاپ دمشق)؛
5. السیرة النبویة، احمدزیندحلان الشافعی (مفتی مکه) در حاشیه السیرة الحلبیة، ج3، ص330؛
6. الفتح الکبیر، النبهانی، ج1، ص352؛
7. مناقب علیبنابیطالب(علیهالسلام)، ابنالمغازلی الشافعی، ص236، ح214؛
8. ذخائر العقبی، الطبریالشافعی، ص16؛
9. کفایة الطالب، الگنجیالشافعی، ص53؛
10. فرائد السمطین، الجوینیالخراسانی، ج2، ص268، ح535؛
11. المسند، احمدبنحنبل، ج5، ص181 (چاپ المیمنة، مصر)؛
12. مجمع الزوائد، ج5، ص195 و ج9، ص162و164؛
13. شرح نهجالبلاغه، ابنابیالحدید، ج6، ص375 (چاپ مصر)؛
14. تاریخ دمشق، ابنعساکر الشافعی، ج2، ص36، ح534و545 (چاپ بیروت)؛
15. انساب الاشراف، البلاذری، ج2، ص110، ح48؛
16. النهایة، ابنالاثیر، ج1، ص155 (چاپ مصر)؛
17. نهایة الارب، النویری، ج18، ص377 (چاپ مصر)؛
18. حلیة الاولیاء، ابونعیم، ج1، ص355؛
19. الاتحاف بحب الاشراف، الشبراویالشافعی، ص6؛
20. الدر المنثور فی تفسیر المأثور، جلالالدین السیوطی، ج2، ص60.
۔
💠 *من صحح حديث کتاب الله وعترتی.*💠
🔴🔴🔴🔴🔴🔴🔴🔴🔴🔴🔴
📚الحاكم النيسابوري - في المستدرك.
📚والذهبي - في التلخيص.
📚والسيوطي - في الجامع الصغير.
📚والهيثمي - في مجمع الزوائد.
📚وإبن حجر العسقلاني - في المطالب العالية.
📚والبوصيري - في مختصر إتحاف السادة المهرة
📚والألباني - في سلسلة الأحاديث *الصحيحة* وصحيح الجامع الصغير ، وحسنه.
Gallery
Tap any image to view full screen