ضرت امام حسن مجتبی(ع) غیرمعمولی حد تک غریبوں کا خیال رکھتے تھے
آیت اللہ طباطبائی نے حضرت امام حسن(ع) کی سیرت پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
نمائندہ ولی فقیہ اور امام جمعہ اصفہان آیت اللہ طباطبائی نے حضرت امام حسن مجتبی(ع) کی مناسبت سےمنعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسن مجتبی(ع) اپنی حیات مطہرہ میں غرباء اور مساکین کا بہت خیال رکھتے تھے۔
انہوں نے کہا ضرورت مند آپ کے گھر کے باہر جمع رہتے تھے اور آپ ان کی ضرورت سے زیادہ عطا فرماتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا تاریخ میں حضرت امام حسن(ع) کا دسترخوان معروف ہے آپ کے دسترخوان سے روزانہ غیرمعمولی حدتک غرباء مستفید ہوتے تھے۔
آیت اللہ طباطبائی نے حضرت امام حسن(ع) کے دسترخوان کا ایک معروف واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک غریب شخص آپ کے دسترخوان پر آیا۔ امام(ع) نے دیکھا کہ وہ شخص کچھ کھانا اپنے ساتھ لے کر جارہا ہے۔ آپ نے پوچھا کہ یہ کھانا کس کیلئے لے کر جارہے ہو؟ تو جواب ملا کہ باغ میں کام کرنے والے شخص کیلئے لے کر جارہا ہوں جس کے پاس کھانے کیلئے خشک روٹی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اس پر حضرت امام حسن(ع) نے فرمایا کہ یہ دسترخوان انہی حضرت کا ہی ہے۔ وہ ہمارے ولی نعمت امیرالمومنین علی(ع) ہیں۔
آیت اللہ طباطبائی نے مزید کہا ضرورت اس امر کی ہے کہ حضرت امام حسن(ع) کی سیرت پر عمل کیا جائے تاکہ معاشرے سے غربت کا خاتمہ ہوسکے۔
۔
علامہ ابن شہر آشوب تحریر فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت امام حسن علیہ السلام گھوڑے پرسوار کہیں تشریف لیے جا رہے تھے، راستہ میں امیر شام کے طرف داروں کا ایک شامی سامنے آپڑا، اس نے حضرت ع کو گالیاں دینی شروع کر دیں، آپ نے اس کا مطلقا کوئی جواب نہ دیا جب وہ اپنی جیسی کر چکا تو آپ اس کے قریب گئے اور اس کو سلام کر کے فرمایا کہ بھائی شاید تو مسافر ہے، سن اگر تجھے سواری کی ضرورت ہو تو میں تجھے سوری دیدوں، اگر تو بھوکا ہے تو کھانا کھلا دوں، اگر تجھے کپڑے درکار ہوں تو کپڑے دیدوں، اگر تجھے رہنے کو جگہ چاہئے تو مکان کا انتظام کر دوں، اگر دولت کی ضرورت ہے تو تجھے اتنا دیدوں کہ تو خوش حال ہوجائے یہ سن کر شامی بے انتہا شرمندہ ہوا اور کہنے لگا کہ میں گواہی دیتاہ وں کہ آپ ع زمین خدا پر اس کے خلیفہ ہیں، مولا میں تو آپ کو اور آپ کے باپ دادا کو سخت نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا، لیکن آج آپ کے اخلاق نے مجھے آپ کا گردیدہ بنا دیا، اب میں آپ کے قدموں سے دور نہ جاؤں گا اور تاحیات آپ کی خدمت میں رہوں گا (مناقب جلد ۴ ص ۵۳ ،وکامل مبروج جلد ۲ ص ۸۶) ۔
۔
۔
مورخین لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت امام حسن علیہ السلام سے کچھ مانگا دست سوال دراز ہونا تھا کہ آپ نے پچاس ہزار درہم اور پانچ سو اشرفیاں دے دیں اور فرمایا کہ مزدور لا کر اسے اٹھوالے جا، اس کے بعد آپ نے مزدور کی مزدوری میں اپنا چغا بخش دیا (مراة الجنان ص ۱۲۳) ۔ ایک مرتبہ آپ نے ایک سائل کو خدا سے دعا کرتے دیکھا خدایا مجھ دس ہزار درہم عطا فرما، آپ نے گھر پہنچ کر مطلوبہ رقم بھجوا دی(نورالابصار ص ۱۲۲)۔ آپ سے کسی نے پوچھا کہ آپ تو فاقہ کرتے ہیں، لیکن سائل کو محروم واپس نہیں فرماتے ارشاد فرمایا کہ میں خدا سے مانگنے والا ہوں اس نے مجھے دینے کی عادت ڈال رکھی ہے اور میں نے لوگوں کو دینے کی عادت ڈالی رکھی ہے، میں ڈرتا ہوں کہ اگر اپنی عادت بدل دوں، تو کہیں خدا بھی نہ اپنی عادت بدل دے اور مجھے بھی محروم کر دے (ص ۱۲۳) ۔
۔
۔
دنیا مومن کیلیے قیدخانہ اور کافر کیلیے جنّت
ایک دن امام حسن مجتبیٰ (ع) غسل کرنے کے بعد نیا کپڑا زیب تن کرکے ہیبت اور وقار کے ساتھ گھر سے خارج ہوئے۔ آپ کا نورانی چہرہ تمام دیکھنے والوں کو اپنی طرف کھینچ رہا تھا جب کہ آپ کے اصحاب آپ کے ارد گرد حلقہ بنائے ہوئے تھے۔ مدینے کی گلیوں سے گزررہے تھے کہ ناگہاں آپ کی نظر ایک بوڑھے یہودی پر پڑی، جو فقر کی وجہ سے نہایت ناتواں ہوچکا تھا اور سورج کی دھوپ نے اس کے بدن کو جھلسا دیا تھا۔ اس کے کاندھوں پر پانی کا مشکیزہ تھا مگر کمزوری اور نقاہت اسے چلنے کا موقع نہیں دے رہی تھی۔ اسکی کیفیت کو دیکھ کر ہر انسان کو ترس آرہا تھا۔ جب اس کی نظر امام پر پڑی تو اس نے کہا: ذرا ایک لمحہ ٹھہر کر میری بات سنئے!۔ امام ٹھہر گئے، یہودی نے کہا: اے فرزند رسول! انصاف کریں!۔ امام نے فرمایا: کس چیز میں؟۔ یہودی نے کہا: آپ کے جد رسول خدا نے فرمایا: دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت۔ مگر میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ دنیا آپ کے لیے جنت ہے کیوں آپ ناز و نعم میں زندگی گزار رہے ہیں جب کہ میں سختیوں میں زندگی بسر کررہا ہوں۔ حالانکہ آپ مومن ہیں اور میں کافر۔ امام نے فرمایا: اگر تمہاری آنکھوں کے سامنے سے پردے اٹھا لئے جائیں تو تمہیں محسوس ہوگا کہ خداوند متعال نے جنت میں کیسی کیسی نعمتیں میرے اور تمام مومنوں کے لیے خلق کی ہیں پھر تمہیں احساس ہوگا کہ دنیا ان تمام نعمتوں کے باوجود میرے لیے کسی قیدخانے سے کم نہیں ہے۔ اور اگر تم یہ دیکھ لو کہ خدا نے تمہارے لیے اور تمام کافروں کے لیے کیسا کیسا عذاب آمادہ کررکھا ہے تو تم تصدیق کروگے کہ اس قدر فقر و پریشانی کے باوجود دنیا تمہارے لیے ایک وسیع جنت ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) کی حدیث کا صحیح مطلب یہی ہے کہ جس میں آپ نے فرمایا: دنیا مومن کے لیے قیدخانہ ہے اور کافر کے لیے جنت۔
بحارالانوار ج 43، ص 346۔
۔
۔
لوگوں کی حاجت روائی کرنا
میمون بن مہران کہتے ہیں: میں امام حسن (ع) کی خدمت میں تھا کہ ایک شخص نے آکر کہا: اے فرزند رسول! میں فلاں شخص کا مقروض ہوں مگر قرض ادا کرنے کے لیے میرے پاس پیسے نہیں ہیں، اسی وجہ سے وہ مجھے قید میں ڈلوانا چاہتا ہے۔ امام نے فرمایا: فی الحال میرے پاس بھی پیسہ نہیں ہے کہ تمہارا قرض ادا کیا جاسکے۔ اس نے کہا: پھر کچھ ایسا کریں کہ مجھے قید نہ ہو۔ امام نے اپنے جوتوں کو پہنا (اور باہر نکلنے کا ارادہ کیا) جب کہ آپ مسجد میں معتکف تھے۔ میں نے کہا: اے فرزند رسول! کیا آپ بھول گئے کہ آپ اعتکاف کی حالت میں ہیں (اور مسجد سے نکلنا نہیں چاہئے)؟ امام نے فرمایا: میں بھولا نہیں ہوں، مگر اپنے والد کو رسول خدا (ص) کی حدیث نقل کرتے سنا کہ جو شخص کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کی کوشش کرےگا وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے نو ہزار سالوں تک دنوں کو روزہ رکھا اور راتوں کو عبادت میں بسر کیا۔
روایت ها و حکایت ها122
۔
۔
دنیا کو آباد کرنا اور آخرت کو تباہ کرنا
ایک شخص نے امام حسن مجتبیٰ (ع) سے سوال کیا: اے فرزند رسول! کیوں ہمیں موت ناپسند ہے؟ امام نے فرمایا: کیونکہ تم نے اپنی آخرت کو تباہ کرکے دنیا کو آباد کرلیا ہے اسی وجہ سے تمہیں آبادی سے ویرانی اور تباہی کی طرف قدم بڑھانا پسند نہیں آتا۔
ناصر مکارم شیرازی- پیام قرآن (معاد در قرآن مجید)- جلد 5- از صفحه 440
۔
۔
زاہدانہ زندگی
بزرگان عرب میں سے ایک شخص امام حسن مجتبیٰ (ع) کے دسترخوان پر مہمان بنا جب دسترخوان لگایا گیا تو اس نے غم و اندوہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں کچھ نہیں کھاؤں گا۔
امام حسن (ع) نے اس سے کہا: کیوںکچھ نہیں کھاتے؟ اس نے کہا: کچھ دیر پہلے میں نے ایک فقیر کو دیکھا، جس کی فقیری اور غربت مجھے اس دسترخوان پر یاد آگئی، میں یہ کھانا اس وقت تک نہیں کھا سکتا جب تک آپ اس کھانے کو اس فقیر تک نہ پہنچا دیں۔ امام حسن (ع) نے پوچھا: وہ فقیر کون ہے؟ اس شخص نے کہا: کچھ دیر پہلے جب میں نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں گیا تو ایک فقیر کو دیکھا جو نماز پڑھ رہا تھا۔ جب وہ نماز ادا کرچکا تو اس نے افطار کرنے کے لیے ایک کپڑے کا ٹکڑا کھولا جس میں صرف جو کی روٹی اور پانی تھا۔ جب اس فقیر نے مجھے دیکھا تو مجھے بھی افطار کی دعوت دی لیکن چونکہ مجھے اس طرح کا فقیرانہ کھانا کھانے کی عادت نہیں تھی اس لیے منع کردیا۔ امام حسن (ع) نے جب یہ باتیں سنیں تو گریہ کرنے لگے اور فرمایا: وہ میرے والد امیر المومنین اور مسلمانوں کے خلیفہ علی (ع) ہیں۔ وہ ایک وسیع و عریض خطے پر حکومت کے باوجود فقیرترین لوگوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں اور ہمیشہ معمولی غذا کھاتے ہیں۔
آدابی از قرآن، آیة الله شهید دستغیب ص۲۸۲۔
۔
۔
امام حسن مجتبیٰ (ع) اور شام کا باشندہ
ایک روز امام حسن مجتبیٰ (ع) اپنی سواری پر سوار تھے کہ ایک شامی شخص نے آپ کی شان میں گستاخی کی۔ لیکن امام نے صبر کیا اور اس سے کچھ نہ کہا یہاں تک کہ اس کی طعن و تشنیع کا سلسلہ ختم ہوا۔ پھر آپ (ع) اس کے پاس مسکراتے ہوئے پہنچے، اسے سلام کیا اور فرمایا: اے شخص! مجھے لگتا ہے کہ تم مسافر ہو اور بدگمانی کا شکار ہوگئے ہو، اگر تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتاؤ تاکہ اسے تمہارے لئے مہیا کردوں، اگر بھٹک گئے ہو تو تمہاری راہنمائی کردوں، اور اگر بھوکے ہو تو کھانا حاضر ہے، اگر لباس چاہیئے تو وہ بھی آمادہ ہے، اور اگر ضرورتمند ہو تو تمہاری ضرورت کو پورا کردیا جائےگا، اور اگر کوئی جگہ یا گھر نہیں ہے تو اسکا بھی انتظام کردیں گے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ جب تک واپس نہیں جاتے ہمارے مہمان رہو، ہمارا گھر بڑا۔ جب اس شامی نے امام سے یہ باتیں سنیں تو رو پڑا اور کہنے لگا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ زمین پر خدا کے خلیفہ ہیں، اورخدا ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت اور خلافت کو کہاں قرار دے۔ آپ سے ملاقات سے پہلے میں آپ اور آپ کے والد سے نہایت درجہ نفرت کرتا تھا مگر اب آپ میری نظر میں سب سے محبوب مخلوق ہیں۔ اس کے بعد اس شخص نے اپنا سامان سفر اتارا اور جب تک وہ مدینے میں رہا آپ ہی کا مہمان رہا اور اہل بیت کے محبوں میں شامل ہوگیا۔
منتهی الآمال ج 1 ص 122۔
۔
کریم اہل بیت(ع) کا کرم
ہم ایسے لوگ ہیں جن کی عطا و بخشش اور داد و دہش سر سبز و شاداب ہے جس میں آرز و اور امید چرتی رہتی ہے،ہم سوال کئے جانے سے پہلے ہی سخاوت کرتے ہیں تاکہ سائل کی آبرو محفوظ رہے،اگر سمندرکو ہماری بخشش کی فضیلت معلوم ہوتی تو وہ اپنی فیاضی سے شرمندہ ہو جاتا۔
امام حسن(ع) لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے ،آپ اکثر غریبوں پر احسان فرماتے تھے ،کسی سائل کو کبھی رد نہیں کرتے تھے اور ایک مرتبہ آپ(ع) سے سوال کیا گیا کہ آپ(ع) سائل کو رد کیوں نہیں کرتے ہیں ؟توآپ(ع) نے فرمایا:بے شک میں اللہ کا سائل ہوں ،اسی سے لو لگاتا ہوں ،مجھے اس بات سے شرم آتی ہے کہ میں خود تو سائل ہوں اور سوال کرنے والے کو رد کردوں ،بیشک خدا کی مجھ پر اپنی نعمتیں نازل کرنے کی عادت ہے، لہٰذا میں نے بھی اس کی نعمتیں لوگوں کو دینے کی عادت بنالی ہے اور مجھے یہ خوف ہے کہ اگر میں نے اپنی داد و دہش کی عادت ختم کر لی تو کہیں خدائے وہاب اپنی عطا و بخشش کی عادت ختم نہ کر لے،اس کے بعد آپ نے یہ شعر پڑھے:
إِذا ما أَتانِي سَائِلُ قُلْتُ مَرْحَباً
بِمَنْ فَضْلُهٗ فَرْضٌ عَليَّ مُعَجَّلُ
وَمَنْ فَضْلُهٗ فَضْلٌ عَلیٰ کُلِّ فَاضِلٍ
وَأَفْضَلُ أَیَّامِ الْفَتیَ حِیْنَ یُسْأَلُ۔(۱)
ترجمہ:اگر میرے پاس کوئی سائل آتا ہے تو میں اسے خوش آمدید کہتا ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ آپ کا احترام کرنا مجھ پر واجب ہے۔
آپ کا احترام ہر شخص پر فرض ہے اور انسان کے بہترین ایام وہ ہیں جن میں اس سے سوال کیا جائے۔
آپ(ع) کے دروازے پر محتاجوں اورفقیروں کی بھیڑ لگی رہتی تھی، آپ(ع) ان کے ساتھ احسان و نیکی کرتے اور انھیں ان کی خواہش سے زیادہ عطا کیا کرتے تھے ،مؤرخین نے آپ(ع)کے کرم و سخاوت کے متعدد واقعات نقل کئے ہیں، ہم ان میں سے بعض واقعات ذیل میں نقل کررہے ہیں :
۱۔ایک اعرابی نے آکر سوال کیا تو امام(ع) نے فرمایا: جو کچھ خزانہ میں ہے اس کو دیدو! اس وقت خزانہ میں دس ہزار درہم تھے،اس اعرابی نے امام (ع) کی خدمت میں عرض کیا :کیا آپ(ع) مجھے یہ اجازت مرحمت فرمائیں گے کہ میں آپ(ع) کی شان و مدح میں کچھ اشعار پڑھوں ؟ تو امام نے فرمایا:
نَحْنُ اُنَاسٌ نَوَالُنَا حَضِلُ
یَرْتَعُ فِیْهِ الرَّجاءُ وَالأَمَلُ
تَجُوْدُ قَبْلَ السَّؤالِ أَنْفُسُنَا
خَوْفاً علیٰ مائِ وَجْهِ مَنْ یَسَلُ
لَوْ یَعْلَمُ الْبَحْرُ فَضْلَ نَائِلِنَا
لَفَاضَ مِنْ بَعْدِ فَیْضِہٖ خَجَلُ ۔(۲)
ترجمہ:ہم ایسے لوگ ہیں جن کی عطا و بخشش اور داد و دہش سر سبز و شاداب ہے جس میں آرز و اور امید چرتی رہتی ہے۔
ہم سوال کئے جانے سے پہلے ہی سخاوت کرتے ہیں تاکہ سائل کی آبرو محفوظ رہے۔
اگر سمندرکو ہماری بخشش کی فضیلت معلوم ہوتی تو وہ اپنی فیاضی سے شرمندہ ہو جاتا۔
۲۔امام حسن(ع)ایک ایسے حبشی غلام کے پاس سے گذرے جو اپنے سامنے رکھی ہوئی روٹی کا ایک ٹکڑا خود کھاتا تھا اور دوسرا ٹکڑا اپنے کتے کو ڈال رہا تھا ،امام(ع) نے اس سے فرمایا:تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟
اس نے کہا مجھے شرم آتی ہے کہ میں تو روٹی کھاؤں اور اس کو نہ کھلاؤں۔
امام (ع) نے اس غلام میں اس بہترین خصلت کا مشاہدہ فرمایا اور اس کو اس اچھی خصلت کی جزا دینا چاہی، اس کے احسان کے مقابلہ میں احسان کرنا چاہا تاکہ فضیلتوں کو رائج کیا جا سکے،اس سے فرمایا :تم اسی جگہ پر رہو ،پھر آپ(ع) نے اس کے مالک کے پاس جاکر غلام اور جس باغ میں وہ رہتا تھا اس کو خریدا اور اس کے بعد اسے آزاد کرکے اس باغ کا مالک بنا دیا۔(۳)
۳۔ایک مرتبہ امام حسن(ع) مدینہ کی ایک گلی سے گذر رہے تھے تو آپ(ع) نے سنا کہ ایک آدمی اللہ سے دس ہزار درہم کا سوال کر رہا ہے تو جلدی سے اپنے بیت الشرف میں آئے اور اس کے لئے دس ہزار درہم بھیج دیئے۔ (۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔نور الابصار،ص۱۱۱۔
۲۔اعیان الشیعۃ،ج۴،ص۸۹۔۹۰ ۔
۳۔البدایۃ و النھایۃ،ج۸،ص۳۸۔
۴۔طبقات الکبری،شعرانی،ج۱،ص۲۳،الصبان،ص ۱۱۷ ۔