امام حسن مجتبی (ع) کی حیات طیبہ
بچپن کا زمانہ:
امام حسن ابن علی ابن ابیطالب (ع) شیعہ امامیہ کے دوسرے امام ہیں۔ آپ 15 رمضان سن 3 ہجری کو پیغمبر اسلام (ص) کے زمانے میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔
الارشاد (شيخ مفيد)، ص 346
رمضان در تاريخ (لطف اللہ صافی گلپايگانی)، ص 107
منتہي الآمال (شيخ عباس قمي)، ج1، ص 219
كشف الغمہ (علي بن عيسي اربلي)، ج2، ص 80
تاريخ الطبري، ج2، ص 213
البدايہ و النہايہ (ابن كثير)، ج8 ، ص 37
آپ رسول خدا (ص) کے نواسے اور پہلے امام امیر المؤمنین علی ابن ابیطالب (ع) اور سیدۃ نساء العالمین فاطمہ زہرا (س) کے فرزند ہیں۔
امام حسن مجتبی (ع) ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے، جو وحی اور فرشتوں کے نازل ہونے کی جگہ تھی۔ وہی گھرانہ کہ جس کی پاکیزگی اور طہارت کے بارے میں قرآن کریم نے بھی گواہی دی ہے:
إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّہ لِيُذْھبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ اھلَ الْبَيْتِ وَيُطَہرَكُمْ تَطْہيرًا،
بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہل بیت کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جیسا کہ پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔
سورہ احزاب، آیت 33
اس طرح خداوند سبحان نے قرآن کریم میں اس گھرانے کی بار بار تحسین اور تمجید کی ہے۔
امام حسن مجتبی (ع) ، امیر المؤمنین علی ابن ابیطالب (ع) اور سیدۃ النساء العالمین فاطمہ زہرا (س) کے پہلے فرزند تھے۔ اسی لیے ان کا تولد پیغمبر اکرم (ص)، انکے اہل بیت اور اس گھرانے کے تمام چاہنے والوں کی خوشیوں کا باعث بنا۔
پیغمبر اکرم (ص) نے مولود کے دائیں کان میں اذان اور بائيں کان میں اقامت کہی اور مولود کا نام حسن رکھا۔
بحار الانوار (علامہ مجلسی)، ج43، ص 238
كشف الغمہ، ج2، ص 82
زبان رسالت، دہن امامت میں:
علل الشرائع میں ہے کہ جب امام حسن (ع) کی ولادت ہوئی اور آپ سرور کائنات کی خدمت میں لائے گئے تو رسول کریم بے انتہاء خوش ہوئے اور ان کے دہن مبارک میں اپنی زبان اقدس دیدی۔
بحار الانور میں ہے کہ آنحضرت نے نوزائیدہ بچے کو آغوش میں لے کر پیار کیا اور داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت فرمانے کے بعد اپنی زبان ان کے منہ میں دیدی، امام حسن اسے چوسنے لگے اس کے بعد آپ نے دعا کی:
خدایا اس کو اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ امام حسن کو لعاب دہن رسول کم اور امام حسین کو زیادہ چوسنے کا موقع دستیاب ہوا تھا، اسی لیے امامت نسل حسین میں مستقر ہو گئی۔
امام حسن (ع) کا عقیقہ:
آپ کی ولادت کے ساتویں دن سرکار کائنات نے خود اپنے دست مبارک سے عقیقہ فرمایا اور بالوں کو منڈوا کر اس کے ہم وزن چاندی صدقے میں دی۔
اسد الغابة ج 3 ص 13
علامہ کمال الدین کا بیان ہے کہ عقیقہ کے سلسلے میں دنبہ ذبح کیا گیا تھا۔
مطالب السؤل، ص 220
کافی کلینی میں ہے کہ سرور کائنات نے عقیقہ کے وقت جو دعا پڑھی تھی اس میں یہ عبارت بھی تھی:
اللھم عظمھا بعظمہ، لحمھا بلحمہ دمھا بدمہ وشعرھا بشعرہ اللھم اجعلھا وقاء لمحمد والہ،
خدایا اس کی ہڈی، مولود کی ہڈی کے عوض، اس کا گوشت، اس کے گوشت کے عوض، اس کاخون، اس کے خون کے عوض، اس کے بال، اس کے بال کے عوض قرار دے اور اسے محمد و آل محمد کے لیے ہر بلا سے نجات کا ذریعہ قرار دے۔
امام شافعی کا کہنا ہے کہ آنحضرت نے امام حسن کا عقیقہ کر کے، اس کے سنت ہونے کی دائمی بنیاد ڈل دی۔
مطالب السؤل ص 220
امام حسن مجتبی (ع) کے بہت سے القاب ہیں از جملہ: سبط اكبر، سبط اول، طيب، قائم، حجت، تقی، زكی، مجتبی، وزير، اثير، امير، امين، زاہد و برّ مگر سب سے زیادہ مشہور لقب، مجتبی ہے اور شیعہ آنحضرت کو کریم اہل بیت کہتے ہیں۔
ان حضرت کی کنیت ، ابو محمد ہے۔
منتہي الآمال، ج1، ص 219
رمضان در تاريخ، ص 111
كشف الغمہ، ج2، ص 86
مطالب السؤل، ص 221
زیارت عاشورہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا لقب ناصح اور امین بھی تھا۔
پیغبر اسلام (ص)، امام حسن مجتبی (ع) سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور بچپن سے ہی نانا رسول خدا (ص) اور والد امیر المؤمنین علی (ع) اور والدہ سیدۃ النساء العالمین فاطمہ زہرا (س) کے ملکوتی آغوش میں پروان چڑھے اور ایک انسان کامل اور امام عادل کی صورت میں معاشرے کے سامنے آئے۔
پیغمبر اسلام (ص) نے ایک حدیث کے ذریعے اپنے نور چشم حسن مجتبی (ع) کی فضیلت یوں بیان فرمائی ہے کہ:
البتہ حسن میرا فرزند اور بیٹا ہے، وہ میرا نور چشم ہے، میرے دل کا سرور اور میرا ثمرہ ہے، وہ بہشت کے جوانوں کا سردار ہے اور امت پر خدا کی حجت ہے۔ اس کا حکم میرا حکم ہے، اسکی بات میری بات ہے، جس نے اسکی پیروی کی، اس نے میری پیروی کی ہے، جس نے اس کی مخالفت کی، اس نے میری مخالفت کی ہے۔
منتہي الآمال، ج1، ص 220
كشف الغمہ، ج2، ص 87
البدايہ و النہايہ، ج8، ص 37
ایک دوسری حدیث ہے کہ:
میں جب اس کی طرف دیکھتا ہوں تو، میرے بعد اسے کیسے کمزور کریں گے، اس یاد میں کھو جاتا ہوں، جبکہ یہ اسی حالت میں اپنی ذمہ داری نبھاتا رہے گا، جب تک کہ اسے ستم و دشمنی سے زہر دے کر شہید کیا جاۓ گا۔ اس وقت آسمان کے ملائکہ اس پر عزاداری کریں گے۔ اسی طرح زمین کی ہر چیز از جملہ آسمان کے پرندے، دریاؤں اور سمندروں کی مچھلیاں بھی اس پر عزادری کریں گی۔
بحار الانوار، ج44، ص 148
پیغمبر اکرم (ص) نے بار ہا فرمایا تھا کہ: حسن و حسین (ع) میرے بیٹے ہیں، اسی وجہ سے حضرت علی (ع) اپنے تمام بیٹوں سے فرمایا کرتے تھے: تم میرے بیٹے ہو اور حسن و حسین رسول خدا (ص) کے بیٹے ہیں۔
مناقب ابن شہر آشوب، ج 1 ص 21
ذخائر العقبیٰ، ص 67 ، 121
امام حسن (ع) انسانی کمالات میں اپنے والد گرامی کا کامل نمونہ اور اپنے نانا بزرگوار کی نشانی تھے۔ جب تک پیغمبر اکرم (ص) زندہ رہے آپ اور آپ کے بھائی (امام حسین) ہمیشہ آنحضرت کے پاس رہتے تھے۔ آنحضرت کبھی کبھی ان کو اپنے کندہوں پر سوار کیا کرتے تھے۔
پیغمبر اکرم (ص) سے عام و خاص نے بہت زیادہ احادیث بیان کی ہیں کہ آپ نے امام حسن اور امام حسین کے بارے میں فرمایا :
یہ دونوں میرے بیٹے امام ہیں، خواہ وہ اٹھیں یا بیٹھیں۔ (کنایہ ہے ظاہری خلافت پر فائز ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ہے)۔
ارشاد، مفید
رسول خدا (ص) فرماتے تھے: پروردگارا ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس کو دوست رکھ ۔ اس کے علاوہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا: حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔
ایک دن امام حسن (ع) اپنے نانا کی پشت پر سوار تھے کہ ایک شخص نے کہا: واہ کیا خوب سواری ہے!
پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: بلکہ کیا خوب سوار ہے!
اسد الغابة، ج 3 ص 15 بحوالہ کتاب سنن ترمذی
امام حسن مجتبیٰ (ع) باوقار اور متین شخصیت کے حامل تھے۔ آپ غریبوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔ راتوں کو ان کے درمیان کھانا تقسیم کیا کرتے تھے۔ ان کی ہر طرح سے مدد کیا کرتے تھے۔ اسی لیے سارے لوگ بھی آپ سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں دوبار اپنی ساری دولت و ثروت غریبوں اور فقیروں میں تقسیم کر دی تھی۔ تین بار اپنی جائیداد کو وقف کیا تھا جس میں سے آدھی اپنے لیے اور آدھی راہ خدا میں بخش دی تھی۔
امام حسن مجتبیٰ (ع) نہایت شجاع اور بہادر بھی تھے۔ اپنے بابا امام علی (ع) کے ساتھ جب آپ جنگ کرنے جاتے تھے تو، فوج میں آگے ہی آگے رہتے تھے۔ جنگ جمل اور صفین میں آپ نے بہت خطرناک جنگیں لڑی تھیں۔ حضرت علی (ع) کی شہادت کے بعد آپ نے صرف 6 مہینے حکومت کی تھی۔
مولا علی (ع) اور حضرت فاطمہ (ع) کے پہلے بیٹے 15 رمضان المبارک سن 3 ہجری کو شہر مدینہ میں پیدا ہوئے۔
ارشاد مفید ص 187
تاریخ الخلفاء سیوطی ص 188
رسول خدا (ص) مبارک باد کے لیے جناب فاطمہ (ع) کے گھر تشریف لائے اور خداوند کی طرف سے نواسے کا نام ' حسن ' رکھا۔
بحار الانوار ج 43 ص 238
امام حسن مجتبی (ع) سات سال تک پیغمبر اسلام (ص) کے ساتھ رہے۔
دلائل الامامہ طبری ص 60
رسول اکرم (ص) اپنے نواسے سے بہت پیار کرتے تھے۔ کبھی اس کو اپنے کاندھے پر سوار کرتے اور فرماتے:
خدایا میں اس سے محبت کرتا ہوں، آپ بھی اس سے محبت فرما۔
تاریخ الخلفاء، ص 188
تذکرة الخواص، ص 177
اور پھر فرماتے:
من احبّ الحسن و الحسین (ع) فقد احبّنی و من ابغضھما فقد ابغضنی ،
جس نے حسن (ع) و حسین (ع) سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے دشمنی کی، اس نے مجھ سے دشمنی کی۔
بحار الانوار، ج 43 ص 264
کشف الغمہ، ج 1 ص 550
سنن ترمذی ج 5 ص 7
امام حسن (ع) کی عظمت اور بزرگی کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ کم سنی کے با وجود پیغمبر اکرم (ص) نے بہت سے عہد ناموں میں آپ کو گواہ بنایا تھا۔
واقدی نے نقل کیا ہے کہ رسول خدا (ص) نے قبیلہ ثقیف کے ساتھ ذمّہ والا معاہدہ کیا، خالد ابن سعید نے عہد نامہ لکھا اور امام حسن و امام حسین (ع) اس کے گواہ قرار پائے ۔
طبقات کبیر ج 1 ص 23
والد گرامی امیر المؤمنین علی (ع) کے ساتھ:
رسول خدا (ص) کی رحلت کے تھوڑے ہی دنوں بعد آپ کے سر سے چاہنے والی ماں کا سایہ بھی اٹھ گیا۔ اس بناء پر اب آپ کا صرف ایک سہارا علی (ع) کی مہر و محبت بھری آغوش تھی۔ امام حسن مجتبی (ع) نے اپنے باپ کی زندگی میں ان کا ساتھ دیا اور ہمیشہ ہر جگہ پر ان کے ساتھ ساتھ رہے۔ ظالموں پر تنقید اور مظلوموں کی حمایت فرماتے رہے اور ہمیشہ سیاسی مسائل کو حل کرنے میں مصروف رہے۔
جب عثمان نے رسول خدا (ص) کے عظیم الشان صحابی جناب ابوذر کو شہر بدر کر کے رَبَذہ بیجھنے کا حکم دیا تو، اس وقت یہ بھی حکم دیا تھا کہ کوئی بھی ان کو رخصت کرنے نہ جائے۔ اس کے باوجود بھی حضرت علی (ع) نے اپنے دونوں بیٹوں امام حسن، امام حسین (ع) اور کچھ دوسرے افراد کو اس صحابی با وفا کے ساتھ بھیج کر اسے بڑی شان سے رخصت کیا اور ان کو صبر و ثبات قدم کی وصیت فرمائی۔
حیاة الامام الحسن ج 1 ص 20،
مروج الذہب ج 2 ص 341
تاریخ یعقوبی ج 2 ص 172
شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج 8 ص 255
سن 36 ہجری میں اپنے والد بزرگوار کے ساتھ مدینہ سے بصرہ روانہ ہوئے تا کہ جنگ جمل کہ جس کی آگ کو عائشہ، طلحہ اور زبیر نے بھڑکایا تھا، بجھا دیں۔
بصرہ کے مقام ذی قار میں داخل ہونے سے پہلے علی (ع) کے حکم سے عمار یاسر کے ہمراہ کوفہ تشریف لے گئے تا کہ لوگوں کو جمع کریں۔ آپ کی کوششوں اور تقریروں کے نتیجے میں تقریباً 12 ہزار افراد امام کی مدد کے لیے آ گئے ۔
کامل ابن اثیر ج 3 ص 227
آپ نے جنگ کے زمانہ میں بہت شجاعت اور فداکاری کا مظاہرہ کیا، یہاں تک کہ امام (ع) کے لشکر کو فتح نصیب ہوئی۔
حیاة الامام الحسن ج 1 ص 396
جنگ صفین میں بھی آپ نے اپنے پدر بزرگوار کے ساتھ ثابت قدمی کا مظاہرہ فرمایا۔ اس جنگ میں معاویہ نے عبد اللہ ابن عمر کو امام حسن مجتبی (ع) کے پاس بھیجا اور کہلوایا کہ آپ اپنے باپ کی حمایت سے دست بردار ہو جائیں تو، میں خلافت آپ کے لیے چھوڑ دونگا۔ اس لیے کہ قریش ماضی میں اپنے آباء و اجداد کے قتل پر آپ کے والد سے ناراض ہیں لیکن آپ کو وہ لوگ قبول کر لیں گے۔
لیکن امام حسن (ع) نے جواب میں فرمایا:
نہیں ، خدا کی قسم ایسا نہیں ہو سکتا پھر اس کے بعد ان سے خطاب کر کے فرمایا: گویا میں تمہارے مقتولین کو آج یا کل میدان جنگ میں دیکھوں گا، شیطان نے تم کو دھوکہ دیا ہے اور تمہارے کام کو اس نے اس طرح زینت دی ہے کہ تم نے خود کو سنوارا اور معطّر کیا ہے تا کہ شام کی عورتیں تمہیں دیکھیں اور تم پر فریفتہ ہو جائیں لیکن جلد ہی خدا تجھے موت دے گا۔
وقعہ صفین، ص 297
امام حسن (ع) اس جنگ میں آخر تک اپنے پدر بزرگوار کے ساتھ رہے اور جب بھی موقع ملتا، دشمن پر حملہ کرتے اور نہایت بہادری کے ساتھ موت کے منہ میں کود پڑتے تھے۔
آپ (ع) نے ایسی شجاعت کا مظاہرہ فرمایا کہ جب حضرت علی (ع) نے اپنے بیٹے کی جان، خطرے میں دیکھی تو مضطرب ہوئے اور کہا کہ:
املکو عنّی ھذا الغلام لا یھدّنی فانّنی انفس بھذین یعنی الحسن و الحسین علی الموت لئلا ینقطع بھما نسل رسول اللہ ،
اس نوجوان کو روکو تا کہ ( اسکی موت ) مجھے شکستہ حال نہ بنا دے۔ میں ان دونوں حسن و حسین (ع) کی موت سے ڈرتا ہوں کہ ان کی موت سے نسل رسول خدا (ص) منقطع نہ ہو جائے۔
نہج البلاغہ فیض الاسلام خطبہ 198 ص 11660 ،
واقعہ حکمیت میں ابو موسی کے ذریعہ حضرت علی (ع) کے برطرف کر دیئے جانے کی درد ناک خبر عراق کے لوگوں کے درمیان پھیل جانے کے بعد فتنہ و فساد کی آگ بھڑک اٹھی۔ حضرت علی (ع) نے دیکھا کہ ایسے افسوسناک موقع پر چاہیے کہ ان کے خاندان کا کوئی ایک شخص تقریر کرے اور ان کو گمراہی سے بچا کر سکون اور ہدایت کی طرف رہنمائی کرے، لہذا اپنے بیٹے امام حسن (ع) سے فرمایا:
میرے بیٹا اٹھو اور ابو موسی و عمرو عاص کے بارے میں کچھ کہو۔ امام حسن مجتبی (ع) نے ایک پر زور تقریر میں وضاحت کی کہ :
ان لوگوں کو اس لیے منتخب کیا گیا تھا تا کہ کتاب خدا کو اپنی دلی خواہش پر مقدم رکھیں لیکن انہوں نے ہوس کی بناء پر قرآن کے خلاف فیصلہ کیا اور ایسے لوگ حَكَم بنائے جانے کے قابل نہیں، بلکہ ایسے افراد محکوم اور مذمت کے قابل ہیں۔
الامامہ و السیاسة ج 1 ص 119،
حیاة الامام الحسن ج 1 ص 444
شہادت سے پہلے حضرت علی (ع) نے پیغمبر اکرم (ص) کے فرمان کی بناء پر حضرت حسن (ع) کو اپنا جانشین معین فرمایا اور اس امر پر امام حسین (ع) اور اپنے تمام بیٹوں اور بزرگ شیعوں کو گواہ قرار دیا۔
اصول کافی ج 1 ص 297
اخلاقی خصوصیات:
امام حسن (ع) کی اخلاقی شخصیت ہر جہت سے کامل تھی۔ آپ کے وجود مقدس میں انسانیت کی اعلی ترین نشانیاں جلوہ گر تھیں۔
جلال الدین سیوطی اپنی تاریخ کی کتاب میں لکھتے ہیں کہ:
حسن ابن علی (ع) اخلاقی امتیازات اور بے پناہ انسانی فضائل کے حامل تھے۔ ایک بزرگ ، باوقار ، بردبار، متین، سخی، نیز لوگوں کی محبتوں کا مرکز تھے۔
تاریخ الخلفاء، ص 189
ان کے درخشاں اور غیر معمولی فضائل میں سے ایک قطرہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے:
پرہیزگاری:
آپ خداوند کی طرف سے مخصوص توجہ کے حامل تھے اور اس توجہ کے آثار کبھی وضو کے وقت آپ کے چہرہ پر لوگ دیکھتے تھے، جب آپ وضو کرتے تو اس وقت آپ کا رنگ متغیر ہو جاتا اور آپ کاپنے لگتے تھے۔ جب لوگ سبب پوچھتے تو فرماتے تھے:
حقٌ علی کل من وقف بین یدی رب العرش ان یصفر لونہ و ترتعد مفاصلہ،
جو شخص خدا کے سامنے کھڑا ہو، اس کے لیے اس کے علاوہ اور کچھ مناسب نہیں ہے۔
مناقب ابن شہر آشوب، ج 4 ص 14
امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا:
امام حسن (ع) اپنے زمانے کے عابد ترین اور زاہد ترین شخص تھے۔ جب موت اور قیامت کو یاد فرماتے تو روتے ہوئے بے قابو ہو جاتے تھے۔
بحار الانوار ج 43 ص 331
امام حسن (ع) اپنی زندگی میں 25 بار پیادہ اور کبھی پا برہنہ زیارت خانہ خدا کو تشریف لے گئے تا کہ خدا کی بارگاہ میں زیادہ سے زیادہ ادب و خشوع پیش کر سکیں اور زیادہ سے زیادہ اجر لے سکیں۔
بحار الانوار ج 43 ص 331
تاریخ الخلفاء ، ص 190
مناقب ابن شہر آشوب، ج 4 ص 14
شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج 16 ص 10
تذکرة الخواص، ص 178
سخاوت:
امام حسن (ع) کی سخاوت اور عطا کے سلسلہ میں اتنا ہی بیان کافی ہے کہ آپ نے اپنی زندگی میں دو بار اپنے تمام اموال کو خدا کی راہ میں دیا اور تین بار اپنے پاس موجود تمام چیزوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ آدھا راہ خدا میں دیا اور آدھا اپنے پاس رکھا ۔
تاریخ یعقوبی، ج 2 ص 215
بحار الانوار ج 43 ص 232
تاریخ الخلفاء، ص 190
مناقب ابن شہر آشوب، ج 4 ص 14
ایک دن آپ نے خانہ خدا میں ایک شخص کو خدا سے گفتگو کرتے ہوئے سنا وہ کہہ رہا تھا کہ خداوندا: مجھے دس ہزار درہم دے دے۔ امام (ع) اسی وقت گھر گئے اور وہاں سے اس شخص کو دس ہزار درہم بھیج دیئے۔
کشف الغمہ، ج 1 ص 558
ایک دن آپ کی ایک کنیز نے ایک خوبصورت گلدستہ آپ کو ہدیہ کیا تو، آپ (ع) نے اس کے بدلے اس کنیز کو آزاد کر دیا۔ جب لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ خداوند نے ہماری ایسی ہی تربیت کی ہے پھر آپ (ع) نے یہ آیت پڑھی:
و اذاحُيّیتم بتحيّة، فحَيّوا باحسن منھا،
جب تم کو کوئی ہدیہ دے تو اس سے بہتر اس کا جواب دو۔
بحار الانوار ج 43 ص 342
بردباری:
ایک شخص شام سے آیا ہوا تھا اور معاویہ ملعون کے اکسانے پر اس نے امام (ع) کو برا بھلا کہا۔ امام (ع) نے سکوت اختیار کیا ، پھر آپ نے اس کو مسکرا کر نہایت شیرین انداز میں سلام کیا اور کہا:
اے محترم انسان میرا خیال ہے کہ تو مسافر ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ تم کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ اگر تم مجھ سے میری رضا مندی کے طلبگار ہو یا کوئی چیز چاہیے تو میں تم کو دونگا اور ضرورت کے وقت تمہاری راہنمائی کروں گا۔ اگر تمہارے اوپر قرض ہے تو، میں اس قرض کو ادا کروں گا۔ اگر تم بھوکے ہو تو میں تم کو سیر کر دوں گا اور اگر میرے پاس آؤ گے تو زیادہ آرام محسوس کرو گے۔
وہ شخص شرمسار ہوا اور رونے لگا اور اس نے عرض کی:
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ زمین پر خدا کے خلیفہ ہیں۔ خدا بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کو کہاں قرار دے۔ آپ اور آپ کے والد میرے نزدیک مبغوض ترین شخص تھے لیکن اب آپ میری نظر میں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔
بحار الانوار ج 43 ص 344
مروان ابن حکم کہ جو آپ کا سخت دشمن تھا۔ آپ (ع) کی رحلت کے بعد اس نے آپ کی تشیع جنازہ میں شرکت کی، امام حسین (ع) نے پوچھا میرے بھائی کی حیات میں تم سے جو ہو سکتا تھا، وہ تم نے کیا لیکن اب تم ان کی تشییع جنازہ میں شریک اور رو رہے ہو ؟ مروان نے جواب دیا: میں نے جو کچھ کیا اس شخص کے ساتھ کیا کہ جس کی بردباری پہاڑ ( کوہ مدینہ کی طرف اشارہ ) سے زیادہ تھی۔
تاریخ الخلفاء، ص 191
شرح ابن ابی الحدید ج 16 ص 51
خلافت:
21رمضان المبارک سن 40 ہجری کی شام کو حضرت علی (ع) کی شہادت ہو گئی۔ اس کے بعد لوگ شہر کی جامع مسجد میں جمع ہوئے، حضرت امام حسن مجتبی (ع) منبر پر تشریف لے گئے اور اپنے پدر بزرگوار کی شہادت کے اعلان اور ان کے فضائل بیان کرنے کے بعد اپنا تعارف کرایا، پھر بیٹھ گئے اور عبد اللہ ابن عباس کھڑے ہوئے اور کہا لوگو یہ امام حسن (ع) تمہارے پیغمبر (ص) کے فرزند، حضرت علی (ع) کے جانشین اور تمہارے امام (ع) ہیں ان کی بیعت کرو۔
لوگ چھوٹے چھوٹے دستوں میں آپ کے پاس آتے اور بیعت کرتے رہے۔
الارشاد، شیخ مفید، ص 188
شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج 16 ص 30
مقاتل الطالبین، ص 50 _ 52
نہایت ہی غیر اطمینان نیز مضطرب و پیچیدہ صورت حال میں کہ جو آپ کو اپنے پدر بزرگوار کی زندگی کے آخری مراحل میں در پیش تھی، آپ نے حکومت کی ذمہ داری سنبھالی۔ آپ نے حکومت کو ایسے لوگوں کے درمیان شروع کیا جو جہاد کی حکمت عملی اور اس کے اعلی مقاصد پر زیادہ ایمان نہیں رکھتے تھے، کیونکہ ایک طرف آپ (ع) پیغمبر (ص) و علی (ع) کی طرف سے اس عہدہ کے لیے منصوب تھے اور دوسری طرف لوگوں کی بیعت اور ان کی آمادگی نے بظاہر ان پر حجت تمام کر دی تھی، اس لیے آپ نے زمام حکومت کو ہاتھوں میں لیا اور تمام گورنروں کو ضروری احکام صادر فرمائے اور معاویہ ملعون کے فتنہ کو ختم کرنے کی غرض سے لشکر اور سپاہ کو جمع کرنا شروع کیا، معاویہ کے جاسوسوں میں سے دو افراد کی شناخت اور گرفتاری کے بعد قتل کرا دیا۔ آپ (ع) نے ایک خط بھی معاویہ کو لکھا:
اما بعد فانک دسَّست الرجال و الاغتیال و ارصدت العیون کانک تحت اللقاء و ما اشک فی ذالک فتوقعہ انشاء اللہ،
تم جاسوس بھیجتے ہو ؟ گویا تم جنگ کرنا چاہتے ہو، جنگ بہت نزدیک ہے، پس منتظر رہو انشاء اللہ۔
الارشاد، مفید، ص 189 ،
بحار الانوار ج 44 ص 45 ،
شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج 16 ص 31
مقاتل الطالبین، ص 53
معاویہ (لع) کی وعدہ خلافی:
جس بہانے سے قریش نے حضرت علی (ع) سے رو گردانی کی اور ان کی کم عمری کو بہانہ بنایا، معاویہ نے بھی اسی بہانے کی وجہ سے امام حسن (ع) کی بیعت سے انکار کیا۔ امام حسین (ع) کے مقابل معاویہ کی منطق سے واقفیت کے لیے امام حسن (ع) کے نام معاویہ کا وہ خط پڑھا جائے، جس کو ابن ابی الحدید نے اپنی شرح کی ج 16 ص 37 پر درج کیا۔
وہ دل میں تو یہ سمجھ رہا تھا کہ امام حسن (ع) تمام لوگوں سے زیادہ مناسب ہیں لیکن اسکی ریاست طلبی نے اسکو حقیقت کی پیروی سے باز رکھا ہوا تھا۔
معاویہ نے نہ صرف یہ کہ بیعت سے انکار کیا بلکہ وہ امام (ع) کو درمیان سے ہٹا دینے کی کوشش کرنے لگا کچھ لوگوں کو اس نے خفیہ طور پر اس بات پر معین کیا کہ امام (ع) کو قتل کر دیں۔ اس بناء پر امام حسن (ع) لباس کے نیچے زرہ پہنا کرتے تھے اور بغیر زرہ کے نماز کے لیے نہیں جاتے تھے، معاویہ کے بندوں میں سے ایک شخص نے ایک دن امام حسن (ع) کی طرف تیر پھینکا لیکن پہلے سے کیے گئے انتظام کی بناء پر آپ کو کوئی صدمہ نہیں پہنچا۔
بحار الانوار ج 44 ص 23
معاویہ نے اتحاد کے بہانے اور اختلاف کو روکنے کے حیلے سے اپنے عمّال کو لکھا کہ:
تم لوگ میرے پاس لشکر لے کر آؤ پھر اس نے اس لشکر کو جمع کیا اور امام حسن (ع) سے جنگ کرنے کے لیے عراق کی طرف بھیجا۔
شرح شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج 16 ص 37
مقاتل الطالبین، ص 60
امام حسن (ع) نے بھی حجر ابن عدی کندی کو حکم دیا کہ وہ حکام اور لوگوں کو جنگ کے لیے آمادہ کریں۔
الارشاد، مفید، ص 189
بحار الانوار، ج 44 ص 46
شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج 16 ص 38
مقاتل الطالبین، ص 61
امام حسن (ع) کے حکم کے بعد کوفہ کی گلیوں میں منادی نے الصّلوة الجامعة، کی آواز بلند کی اور لوگ مسجد میں جمع ہو گئے، امام حسن (ع) منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ:
معاویہ تمہاری طرف جنگ کرنے کے لیے آ رہا ہے تم بھی نُخَیلہ کے لشکر گاہ کی طرف جاؤ ... پورے مجمع پر خاموشی طاری رہی۔
حاتم طائی کے بیٹے عدی نے جب ایسے حالات دیکھے تو اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے کہا سبحان اللہ یہ کیسا موت کا سناٹا ہے جس نے تمہاری جان لے لی ہے ؟ تم امام (ع) اور اپنے پیغمبر (ص) کے فرزند کا جواب نہیں دیتے۔ خدا کے غضب سے ڈرو، کیا تم کو ننگ و عار سے ڈر نہیں لگتا ... ؟ پھر امام حسن (ع) کی طرف متوجہ ہوا اور کہا:
میں نے آپ کی باتوں کو سنا اور ان کی بجا آوری کے لیے حاضر ہوں۔ پھر اس نے مزید کہا کہ اب میں لشکر گاہ میں جا رہا ہوں، جو آمادہ ہو وہ میرے ساتھ آ جائے۔ قیس ابن سعد، معقل ابن قیس اور زیاد ابن صَعصَعہ نے بھی اپنی پر زور تقریروں میں لوگوں کو جنگ کی ترغیب دلائی پھر سب لشکر گاہ میں پہنچ گئے۔
شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج 16 ص 37
بحار الانوار ج 44 ص 50
الارشاد، مفید، ص 189
بحار الانوار، ج 44 ص 46
امام حسن (ع) نے لشکر کے ایک دستہ کو حَكَم کی سرداری میں شہر انبار کی طرف بھیجا، لیکن وہ معاویہ سے جا ملا اور اس کی طرف چلا گیا۔حَكَم کی خیانت کے بعد امام (ع) مدائن کے مقام ساباط تشریف لے گئے اور وہاں سے بارہ ہزار افراد کو عبید اللہ ابن عباس کی سپہ سالاری میں معاویہ سے جنگ کرنے کے لیے روانہ کیا اور قیس ابن سعد کو بھی اس کی مدد کے لیے منتخب فرمایا کہ اگر عبید اللہ ابن عباس شہید ہو جائیں تو وہ سپہ سالاری سنبھال لیں۔
معاویہ ابتداء میں اس کوشش میں تھا کہ قیس کو دھوکہ دے دے۔ اس نے دس لاکھ درہم قیس کے پاس بھیجے تا کہ وہ اس سے مل جائے یا کم از کم امام حسن (ع) سے الگ ہو جائے، قیس نے اس کے پیسوں کو واپس کر دیا اور جواب میں کہا: تم دھوکے سے میرے دین کو میرے ہاتھوں سے نہیں چھین سکتے۔
تاریخ یعقوبی، ج 2 ص 214
لیکن عبید اللہ ابن عباس صرف اس پیسہ کے وعدہ پر دھوکہ میں آ گیا اور راتوں رات اپنے خاص افراد کے ایک گروہ کے ساتھ معاویہ سے جا ملا، صبح سویرے لشکر بغیر سر پرست کے رہ گیا، قیس نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی اور اس واقعہ کی خبر امام حسن (ع) کو بھیج دی۔
الارشاد، مفید ص 190
قیس نے بڑی بہادری سے جنگ کی چونکہ معاویہ قیس کو دھوکہ دینے میں ناکام رہا، اس لیے اس نے عراق کے سپاہیوں کے حوصلے کو پست کرنے کے لیے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ اس نے امام حسن (ع) کے لشکر میں، چاہے وہ مَسکن، نہر دجیل کے کنارے پر ایک جگہ ہے، جہاں قیس کی سپہ سالاری میں امام حسن (ع) کا لشکر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا، میں رہا ہو یا مدائن میں ، چند جاسوس بھیجے تا کہ وہ جھوٹی افواہیں پھیلائیں اور سپاہیوں کو وحشت میں مبتلا کریں۔
مقام مَسکن میں یہ پروپیگنڈہ کر دیا گیا کہ امام حسن (ع) نے معاویہ سے صلح کی پیشکش کی ہے اور معاویہ نے بھی قبول کر لی ہے۔
تاریخ یعقوبی، ج 2 ص 214
اور اس کے مقابل مدائن میں بھی یہ افواہ پھیلا دی کہ قیس ابن سعد نے معاویہ سے ساز باز کر لی ہے اور اس سے جا ملا ہے۔
تاریخ یعقوبی، ج 2 ص 214
ان افواہوں نے امام حسن (ع) کے سپاہیوں کے حوصلوں کو توڑ دیا اور یہ پروپیگنڈے امام (ع) کے اس لشکر کے کمزور ہونے کا سبب بنے جو لشکر ہر لحاظ سے طاقت ور اور مضبوط تھا۔
معاویہ کی سازشوں اور افواہوں سے خوارج اور وہ لوگ جو صلح کے موافق نہ تھے، انہوں نے فتنہ و فساد پھیلانا شروع کر دیا۔ انھیں لوگوں میں سے کچھ افراد نہایت غصّے کے عالم میں امام (ع) کے خیمہ پر ٹوٹ پڑے اور اسباب لوٹ کر لے گئے، یہاں تک کہ امام حسن (ع) کے پیر کے نیچے جو فرش بچھا ہوا تھا اس کو بھی کھینچ لے گئے۔
الارشاد، مفید ص 190
تاریخ یعقوبی، ج 2 ص 215 ،
بحار الانوار، ج 44 ص 47 ،
شرح ابن ابی الحدید، ج 16 ص 41
مقاتل الطالبین، ص 63
ان کی جہالت اور نادانی یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ بعض لوگ فرزند پیغمبر کو ( معاذ اللہ) کافر کہنے لگے اور جراح ابن سَنان تو قتل کے ارادے سے امام (ع) کی طرف لپکا اور چلّا کر بولا، اے حسن (ع) تم بھی اپنے باپ کی طرح مشرک ہو گئے۔ (معاذ اللہ) اس کے بعد اس نے حضرت کی ران پر وار کیا اور آپ (ع) زخم کی تاب نہ لا کر زمین پر گر پڑے ، امام حسن (ع) کو لوگ فوراً مدائن کے گورنر سعد ابن مسعود ثقفی کے گھر لے گئے اور وہاں کچھ دنوں تک آپ کا علاج ہوتا رہا۔
الارشاد، مفید ص 190
تاریخ یعقوبی، ج 2 ص 215 ،
بحار الانوار ج 44 ص 47
شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج 16 ص 41
مقاتل الطالبین، ص 63
اس دوران امام (ع) کو خبر ملی کہ قبائل کے سرداروں میں سے کچھ نے خفیہ طور پر معاویہ کو لکھا ہے کہ اگر عراق کی طرف آ جاؤ تو ہم تم سے یہ معاہدہ کرتے ہیں کہ حسن (ع) کو تمہارے حوالے کر دیں گے۔
معاویہ نے ان کے خطوط کو امام حسن (ع) کے پاس بھیج دیا اور صلح کی خواہش ظاہر کی اور یہ عہد کیا کہ جو بھی شرائط آپ (ع) پیش کریں گے وہ مجھے قبول ہیں۔
الارشاد، شیخ مفید ص 190
تاریخ یعقوبی ج 2 ص 215
ان درد ناک واقعات کے بعد امام (ع) نے سمجھ لیا کہ معاویہ اور اس کے کارندوں کی چالوں کے سامنے ہماری تمام کوششیں ناکام ہیں۔ ہماری فوج کے نامور افراد معاویہ سے مل گئے ہیں، لشکر اور جانبازوں نے اپنے اتحاد و اتفاق کا دامن چھوڑ دیا ہے، ممکن ہے کہ معاویہ بہت زیادہ تباہی اور فتنے برپا کر دے۔
مذکورہ بالا باتوں اور دوسری وجوہ کے پیش نظر امام حسن (ع) نے جنگ جاری رکھنے میں اپنے پیروکاروں اور اسلام کا بالکل فائدہ نہیں دیکھا۔ اگر امام (ع) اپنے قریبی افراد کے ہمراہ مقابلہ کیلئے اٹھ کھڑے ہوتے اور قتل کر دیئے جاتے تو، نہ صرف یہ کہ معاویہ کی سلطنت کے پایوں کو متزلزل کرنے یا لوگوں کے دلوں کو جلب کرنے کے سلسلہ میں ذرّہ برابر بھی اثر نہ ہوتا، بلکہ معاویہ اسلام کو جڑ سے ختم کر دینے اور سچے مسلمانوں کا شیرازہ منتشر کر دینے کے ساتھ ساتھ اپنی مخصوص فریب کارانہ روش کے ساتھ لباس عزا پہن کر انتقام خون امام حسن (ع) کے لیے نکل پڑتا اور اس طرح فرزند رسول (ص) کے خون کا داغ اپنے دامن سے دھو ڈالتا، خاص کر ایسی صورت میں جب صلح کی پیشکش معاویہ کی طرف سے ہوئی تھی اور وہ امام (ع) کی طرف سے ہر شرط قبول کر لینے پر تیار نظر آتا تھا۔ بناء بر این کافی تھا کہ امام (ع) نہ قبول کرتے اور معاویہ ان کے خلاف اپنے وسیع پروپیگنڈے کے ذریعہ اپنی صلح کی پیشکش کے بعد ان کے انکار کو خلاف حق بناء کر آپ (ع) کی مذمت کرتا اور کیا بعید تھا جیسا کہ امام (ع) نے خود پیشین گوئی کر دی تھی کہ ان کو اور ان کے بھائی کو گرفتار کر لیتا اور اس طریقے سے فتح مکہ کے موقع پیغمبر (ص) کے ہاتھوں اپنی اور اپنے خاندان کی اسیری کے واقعہ کا انتقام لیتا۔ اس وجہ سے امام (ع) نے نہایت سخت حالات میں مجبوری کی حالت میں صلح کی پیشکش قبول کر لی۔
بحار الانوار ج 44 ص 17 ،
شرح ابن ابی الحدید، ج 16 ص 41_ 42،
مقاتل الطالبین، ص 14
معاہدہ صلح:
معاہدہ صلح امام حسن (ع) کا متن، اسلام کے مقدس مقاصد اور اہداف کو بچانے میں آپ کی کوششوں کا آئینہ دار ہے۔ جب کبھی کوئی منصف مزاج اور باریک بین شخص صلح نامہ کی ایک ایک شرط کی تحقیق کرے گا تو، بڑی آسانی سے فیصلہ کر سکتا ہے کہ امام حسن (ع) نے کن خاص حالات میں اپنی اور اپنے پیروکاروں اور اسلام کے مقدس مقاصد کو بچایا تھا۔
صلح نامہ کی بعض شرائط ملاحظہ ہوں:
1۔ حسن (ع) زمام حکومت معاویہ کے سپرد کر رہے ہیں، اس شرط پر کہ معاویہ قرآن و سیرت پیغمبر (ص) اور شائستہ خلفاء کی روش پر عمل کرے گا۔
بحار الانوار ج 44 ص 65
2۔ بدعت اور علی (ع) کے لیے نا سزا کلمات ہر حال میں ممنوع قرار پائیں اور ان کی نیکی کے سوا اور کسی طرح یاد نہ کیا جائے گا۔
الارشاد، مفید ص 191
مقاتل الطالبین ، ص 44
حیاة الامام الحسن بن علی ج 2 ص 237
شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج 16 ص 4
3۔ کوفہ کے بیت المال میں پچاس لاکھ درہم موجود ہیں، وہ امام مجتبی (ع) کے زیر نظر خرچ ہوں گے اور معاویہ داراب گرد کی آمدنی سے ہر سال دس لاکھ درہم جنگ جمل و صفین کے ان شہداء کے پسماندگان میں تقسیم کرے گا، جو حضرت علی (ع) کی طرف سے لڑتے ہوئے شہید کر دیئے گئے تھے۔
تاریخ دول الاسلام، ج 1 ص 53 ،
حیاة الامام الحسن بن علی، ج 2 ص 238 و 337
تذکرة الخواص ابن جوزی، ص 180
تاریخ طبری ج 5 ص 160
4۔ معاویہ اپنے بعد کسی کو خلیفہ معین نہیں کرے گا۔
بحار الانوار ج 44 ص 65
5۔ ہر شخص چاہے وہ کسی بھی رنگ و نسل کا ہو اس کو مکمل تحفظ ملے اور کسی کو بھی معاویہ کے خلاف اس کے گذشتہ کاموں کی بنا پر سزا نہ دی جائے۔
مقاتل الطالبین، ص 43
6۔ شیعیان علی (ع) جہاں کہیں بھی ہوں گے، محفوظ رہیں گے اور کوئی ان کو تنگ نہیں کرے گا۔
الارشاد، مفید ص 192
حیاة الامام الحسن بن علی ج 2 ص 237
شرح ابن ابی الحدید، ج 16 ص 4
امام (ع) نے اور دوسری شرطوں کے ذریعہ اپنے بھائی امام حسین (ع) اور اپنے چاہنے والوں کی جان کی حفاظت کی اور اپنے چند اصحاب کے ساتھ جن کی تعداد بہت ہی کم تھی، ایک چھوٹا سا اسلامی لیکن با روح معاشرہ تشکیل دیا اور اسلام کو حتمی فنا سے بچا لیا۔
معاویہ کی پیمان شکنی:
معاویہ وہ نہیں تھا، جو معاہدہ صلح کو دیکھ کر امام (ع) کے مطلب کو نہ سمجھ سکے۔ اسی وجہ سے صلح کی تمام شرطوں پر عمل کرنے کا عہد کرنے کے باوجود صرف جنگ بندی اور مکمل غلبہ کے بعد ان تمام شرطوں کو اس نے اپنے پیروں کے نیچے روند دیا اور مقام نُخَیلہ میں ایک تقریر میں صاف صاف کہہ دیا کہ:
میں نے تم سے اس لیے جنگ نہیں کی کہ تم نماز پڑھو، روزہ رکھو اور حج کے لیے جاؤ بلکہ میری جنگ اس لیے تھی کہ میں تم پر حکومت کروں اور اب میں حکومت کی کرسی پر پہنچ گیا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ صلح کے معاہدہ میں جن شرطوں کو میں نے ماننے کیلئے کہا تھا، ان کو پاؤں کے نیچے رکھتا ہوں اور ان کو پورا نہیں کروں گا۔
حیاة الامام الحسن بن علی ج 2 ص 237
مقاتل الطالبین ص 43
لہذا اس نے اپنے تمام لشکر کو امیر المؤمنین علی (ع) کی شان میں نا سزا کلمات کہنے پر برانگیختہ کیا۔ اس لیے کہ وہ جانتا تھا کہ انکی حکومت صرف امام کی اہانت اور ان سے انتقامی رویہ کے سایہ میں استوار ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ مروان نے اس کو صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ:
علی کو دشنام دیئے بغیر ہماری حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔
بحار الانوار، ج 44 ص 49
ابن شرح نہج البلاغہ ابی الحدید، ج 16 ص 14، 15 ، 46
مقاتل الطالبین، ص 70
الارشاد، مفید ص 91
دوسری طرف امیر المؤمنین علی (ع) کے چاہنے والے جہاں کہیں بھی ملتے، ان کو مختلف بہانوں سے قتل کر دیتا تھا۔ اس زمانہ میں تمام لوگوں سے زیادہ کوفہ کے رہنے والے سختی اور تنگی سے دوچار تھے، اس لیے کہ معاویہ نے مغیرہ کے مرنے کے بعد کوفہ کی گورنری کو زیاد کے حوالہ کر دیا تھا اور زیاد شیعوں کو اچھی طرح پہچانتا تھا، وہ ان کو جہاں بھی پاتا، بڑی بے رحمی سے قتل کر دیتا تھا۔
الصواعق المحرقہ ص 33
مدینہ کی طرف واپسی:
معاویہ ہر طرف سے طرح طرح کی امام کو تکلیفیں پہنچانے لگا۔ آپ (ع) اور آپکے اصحاب پر اس کی کڑی نظر تھی ان کو بڑے سخت حالات میں رکھتا اور علی (ع) و خاندان علی (ع) کی ہمیشہ توہین کرتا تھا۔
یہاں تک کہ کبھی تو امام حسن (ع) کے سامنے آپ کے پدر بزرگوار کی برائی کرتا اور اگر امام (ع) اس کا جواب دیتے تو آپ (ع) کو بھی ادب سکھانے کی کوشش کرتا۔
حیاة الامام الحسن ابن علی ج 2 ص 356
کوفہ میں رہنا مشکل ہو گیا تھا اس لیے آپ نے مدینہ لوٹ جانے کا ارادہ کیا۔
لیکن مدینہ کی زندگی بھی آپ کے لیے عافیت کا سبب نہیں بنی، اس لیے کہ معاویہ کے کارندوں میں سے ایک پلید ترین شخص مروان مدینہ کا حاکم تھا، مروان وہ ہے جس کے بارے میں پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا تھا:
ھو الوزغ ابن الوزغ، الملعون ابن الملعون،
وہ ملعون ہے اور ملعون کا بیٹا ہے۔
الارشاد، مفید ص 191
شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج 16 ص 47
اس نے امام (ع) اور آپ کے اصحاب کا جینا مشکل کر دیا تھا، یہاں تک کہ امام حسن (ع) کے گھر تک جانا مشکل ہو گیا تھا، اس کے با وجود کہ امام (ع) دس برس تک مدینہ میں رہے لیکن ان کے اصحاب ، فرزند پیغمبر کے چشمہ علم و دانش سے بہت کم فیض یاب ہو سکے۔
مروان ملعون اور اس کے علاوہ دس سال کی مدت میں جو بھی مدینہ کا حاکم بنا، اس نے امام حسن (ع) اور ان کے چاہنے والوں کو تکلیف و اذیت پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کی۔
شہادت:
معاویہ جو امام (ع) کی کمسنی کے بہانے سے اس بات کے لیے تیار نہیں تھا کہ آپ (ع) کو خلافت دی جائے، وہ اب اس فکر میں تھا کہ اپنے نالائق جوان بیٹے یزید کو ولی عہدی کے لیے نامزد کرے تا کہ اس کے بعد مسند سلطنت پر وہ متمکن ہو جائے۔
اور ظاہر ہے کہ امام حسن (ع) اس اقدام کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ تھے، اس لیے کہ اگر معاویہ کے بعد امام حسن (ع) مجتبی زندہ رہ گئے تو ممکن ہے کہ وہ لوگ جو معاویہ کے بیٹے سے خوش نہیں ہیں، وہ امام حسن (ع) کے گرد جمع ہو جائیں اور اس کے بیٹے کی سلطنت کو خطرہ میں ڈال دیں لہذا یزید کی ولی عہدی کے مقدمات کو مضبوط بنانے کے لیے اس نے امام حسن (ع) کو راستے سے ہٹا دینے کا ارادہ کیا۔ آخر کار اس نے شیطانی مکر کا مظاہرہ کرتے ہوئے، امام حسن (ع) کی بیوی جعدہ بنت اشعث کے ذریعے سے آپ (ع) کو زہر دے دیا اور امام معصوم (ع) 47 سال کی عمر میں شہید ہو گئے اور مدینہ کے قبرستان بقیع میں دفن ہوئے۔
حیاة الامام الحسن بن علی ج 1 ص 239
مستدرک حاکم ج 4 ص 479
امام حسن (ع) کی شخصیت:
امام حسن (ع) کے فضائل کے بارے میں بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں۔ ان روایات کے راوی بہت سے علمائے اہل سنت اور علمائے شیعہ ہیں۔ تاریخ کے متعدد ادوار میں ایسی بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں کہ جن میں امام حسن کے فضائل کو جمع کیا گیا ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ آپ کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں حالیہ زمانے تک بھی بہت کم قابل توجہ کاوشیں منظر عام پر آئی ہیں۔ امام حسن کے بارے میں نقل ہونے والے بہت سے فضائل سے یہ پتا چلتا ہے کہ رسول خدا (ص) کو ان دو بھائیوں (حسنین ؑ) سے بہت زیادہ محبت تھی، اور آپ سب کے سامنے ان سے اپنی محبت کا اظہار کیا کرتے تھے۔ حسنین سے آنحضرت کے اظہار محبت کا انداز آپ کا منبر سے نیچے اترنا اور ان کے بوسے لے کر دوبارہ منبر پر تشریف فرما ہونا، اس بات کی علامت ہے کہ یہ انداز اور اظہار محبت ایک مقصد کے تحت تھا۔
اس کے علاوہ رسول خدا (ص) سے منقول ہے کہ آپ نے امام حسن کے ساتھ اپنی محبت کے اظہار کے موقع پر فرمایا کہ: دیکھنے والے اس اظہار محبت سے ان لوگوں کو آگاہ کریں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ یا آپ فرمایا کرتے تھے کہ:
میں اس سے محبت کرتا ہوں ، اور اس سے بھی محبت کرتا ہوں جو اس سے محبت کرتا ہے۔
مباہلے میں امام حسن کی موجودگی، اور آپ کا اصحاب کساء میں سے ہونا ، رسول خدا کے نزدیک آپ کی اہمیت اور آپ کے اعتبار کی علامت ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ امام حسن مجتبیٰ بیعت رضوان میں موجود تھے اور نبی اکرم نے ان سے بیعت لی تھی۔
رسول خدا (ص) سے نقل ہوا ہے کہ:
اگر عقل کسی انسان کی صورت میں مجسم ہوتی، تو وہ حسن ہوتے۔
ناکثین کی شورش کے موقع پر اہل کوفہ کو جنگ پر ابھارنے کے سلسلے میں امام حسن (ع) کی کامیابی اس شہر کے لوگوں کے نزدیک آپ کی اہمیت اور اعتبار کی علامت ہے۔ رسول خدا (ص) کی ایسی احادیث کی وجہ سے مسلمان ، فاطمہ زہرا (س) کے بچوں کو اولاد رسول سمجھتے تھے اور بنی امیہ اور ان کے بعد بنی عباس کے انکار کے با وجود مسلمانوں میں اس بات میں کوئی معمولی سا بھی شک نہیں ہے۔
مصائب امام حسن مجتبی (ع):
آپ حضرت علی (ع) کی شہادت کے بعد مسلسل دشمنوں کے مصائب کا نشانہ رہے، خاص طور پر اسلام اور شیعیان کی حفاظت کے لیے خاموشی سے معاویہ کا ظلم و ستم برداشت کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ کے دوستوں نے بھی آپ سے بے وفائی کی۔ آپ نے چھ مہینے خلافت کی اور صلح کے بعد مدینہ چلے گئے اور تا آخر عمر وہیں رہے۔
معاویہ کی خونخوار سازش:
معاویہ کی قاتلانہ سازش یہ تھی کہ اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ پوشیدہ طریقے سے امام حسن کو قتل کر دیا جائے۔ اپنے اس ارادے کو پورا کرنے کے لیے اس نے چار منافقوں کا الگ الگ انتخاب کیا ، ہر ایک سے کہا کہ اگر تم نے حسن ابن علی کو قتل کر دیا تو میں تمہیں دو لاکھ درہم اور شام کا فوجی افسر بنا دوں گا۔ اس کے علاوہ اپنی بیٹی سے شادی کر دوں گا۔ ان چار کا نام تھا:
1- عمرو ابن حریث
2- اشعث ابن قیس
3- حجر ابن الحارث
4- شبث بن ربعی ۔
معاویہ نے جن انعامات کا اعلان کیا تھا، انہیں حاصل کرنے کے لیے ان سب نے حامی بھر لی۔
معاویہ نے ان سب پر جاسوس مقرر کر دیئے جو پوشیدہ طور پر ان کی کارکردگی کی رپورٹ معاویہ کو بھیجتے رہتے تھے۔
امام حسن کو اس سازش کی خبر ہو گئی۔ اس کے بعد آپ مکمل طور پر نگران رہے کہ یہ سازش اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے، کیونکہ آپ ہر وقت لباس کے نیچے زرہ پہنتے تھے، یہاں تک کہ اسی زرہ میں آپ نماز بھی پڑھتے تھے، آخر ایک سازشی نے حالت نماز میں آپ پر تیر چلا دیا ، لیکن اس زرہ کی وجہ سے تیر کا زخم بدن پر نہ لگا۔
بحار الانوار، ج 44 ص 33
خوارج کی سازش:
دوسری طرف خوارج آپ کی گھات میں تھے ، یعنی وہی تقدس مآب جاہل افراد آپ کو قتل کرنا چاہتے تھے، ان کا بہانہ یہ تھا کہ آپ نے معاویہ سے جنگ کیوں نہیں کی ، وہ آپ کو ( معاذ اللہ ) مشرک و مذل المؤمنین پکارتے تھے۔
انہیں خوارج میں ایک جراح ابن سنان نامی شخص نے ساباط ( مدائن ) میں سر راہ امام حسن کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور تلوار سے آپ کو اس طرح مارا کہ ران کا گوشت شگافتہ ہو کر تلوار استخوان تک پہنچ گئی۔ امام نے درد کی شدت سے اس کی گردن میں بانہیں ڈال دیں اور دونوں زمین پر گر گئے ، امام حسن (ع) کے ایک شیعہ عبد اللہ ابن خطل نے لپک کر تلوار اس کے ہاتھ سے چھین کر اسے قتل کر دیا ، ایک دوسرے ساتھی کو بھی پکڑ کر قتل کر دیا۔ امام حسن کو مدائن کے گورنر سعد ابن مسعود ثقفی کے مکان پر لے گئے اور آپ کا علاج کرایا گیا۔
کتاب ترجمۂ ارشاد، شیخ مفید ،ج 2 ص 8
امام حسن (ع) کو زہر دیا گیا:
جعدہ بنت اشعث امام حسن (ع) کی زوجہ تھی ، معاویہ نے اسے ایک لاکھ درہم بھیجا اور پیغام بھیجا کہ اگر حسن ابن علی کو زہر دو گی تو، تمہاری شادی اپنے بیٹے یزید سے کر دوں گا ، جعدہ نے معاویہ کی یہ پیش کش قبول کر لی اور امام حسن کو زہر دیدیا۔
معاویہ نے جعدہ کے پاس سیّال زہر بھیجا، امام حسن (ع) روزے سے تھے، ہوا گرم تھی ، افطار کے وقت جعدہ نے وہ زہر آپ کے دودھ کے پیالے میں ملا کر امام کی خدمت میں پیش کیا ، امام نے اسے پیا تو فوراً زہر محسوس کر لیا ، جعدہ سے فرمایا :
تو نے مجھے قتل کیا ، خدا تجھے قتل کرے ، خدا کی قسم تیری آرزو پوری نہ ہو گی ، خدا تجھے ذلیل کرے گا۔
دو دن کے بعد آپ نے اسی زہر سے شہادت پائی۔ معاویہ نے جعدہ سے جو قول و قرار کیا تھا، اسے پورا نہ کیا، یزید سے اس کی شادی نہیں کی، اس نے امام حسن کے بعد خاندان طلحہ کے ایک شخص سے شادی کر لی، اور اس سے کئی بچے ہوئے، جب ان بچوں کے خاندان اور خاندان قریش کے درمیان تکرار ہوتی تو انہیں کہا جاتا:
یا بنی مسمّة الازواج،
اے ایسی عورت کے بیٹو جو اپنے شوہروں کو زہر دیتی ہیں،
کتاب ارشاد، شیخ مفید ج 2 ص 13
روایت ہے کہ جعدہ معاویہ کے پاس گئی اور کہا: میری یزید سے شادی کر دو۔ اس نے جواب دیا:
اذهبی فان الامرأة لا تصلح للحسن بن علی لا تصلح لابنی یزید،
دفع ہو جاؤ ! تجھ جیسی عورت نے جب حسن ابن علی سے وفا نہیں کی تو میرے بیٹے یزید سے کیا وفا کرے گی۔
بحار الانوار، ج 44 ص 148 ، 154
عمر ابن اسحاق کا بیان ہے کہ: میں حسن و حسین کے ساتھ گھر میں تھا، اتنے میں امام حسن طہارت کے لیے گھر سے باہر گئے، واپس آ کر فرمایا کہ کئی بار مجھے زہر دیا گیا لیکن اس مرتبہ سب سے شدید تھا، میرے جگر کا ایک ٹکڑا گرا ہے، اسے میں نے اپنے اس عصا سے حرکت دی ہے۔ امام حسین نے پوچھا: کس نے آپ کو زہر دیا ہے ؟
امام حسن نے فرمایا: اس سے تم کیا چاہتے ہو ؟ کیا اسے قتل کرو گے ؟ جسے میں سمجھتا ہوں اس پر تم سے زیادہ خدا عذاب کرے گا اور اگر وہ نہ ہو تو میں نہیں چاہتا کہ بے گناہ میری وجہ سے گرفتار ہو۔
بحار الانوار، ج 44 ص 148 ، 154
امام حسن (ع) زہر کھانے کے بعد 40 دن بیمار اور بستر پر رہے، آخر ماہ صفر میں آپ کی شہادت واقع ہوئی۔
کشف الغمہ، ج 2 ص 163
ایک دوسری روایت میں حضرت صادق آل محمد (ع) کا ارشاد ہے کہ: جس وقت امام حسین اپنے بھائی کے سرہانے آئے اور حالت دیکھی تو رونے لگے۔ امام حسن نے پوچھا، بھائی کیوں روتے ہو ؟
امام حسین نے کہا: کیسے گریہ نہ کروں کہ آپ کو مسموم دیکھ رہا ہوں، لوگوں نے مجھے بے بھائی کر دیا ہے۔
امام حسن نے فرمایا: میرے بھائی ! اگرچہ مجھے زہر دیا گیا ہے لیکن جو کچھ ( پانی ، دودھ ، دوا وغیرہ ) چاہوں یہاں مہیّا ہے۔ بھائی ، بہنیں اور خاندان کے افراد میرے پاس موجود ہیں ، لیکن
لا یوم کیومک یا ابا عبد اللّه.
اے ابا عبد اللہ ! تمہاری طرح میری حالت تو نہیں ہے ، تم پر 30 ہزار اشقیاء کا ہجوم ہو گا، جو دعویٰ کریں گے کہ ہم امت محمدی میں سے ہیں۔ وہ تمہارا محاصرہ کر کے قتل کریں گے ، تمہارا خون بہائیں گے، تمہاری عورتوں اور بچوں کو اسیر کریں گے ، تمہارا مال لوٹ لیں گے، اس وقت بنی امیہ پر خدا کی لعنت روا ہو گی۔
میرے بھائی تمہاری شہادت دلگداز ہے کہ
و یبکی علیک کلّ شئی حتیٰ الوحش فی الفلوات و الحیتان فی البحار،
تم پر تمام چیزیں گریہ کریں گی یہاں تک کہ حیوانات صحرائی و دریائی تمہاری مصیبت پر روئیں گے۔
امالی صدوق مجلس نمبر 30
مقتل المقرم، ص 240
امام حسین (ع) سے وصیت:
امام محمد باقر (ع) فرماتے ہیں کہ امام حسن (ع) پر حالت احتضار طاری ہوئی ، امام حسین سے کہا : میرے بھائی تم سے وصیت کرتا ہوں اس کا لحاظ کرنا اور پوری کرنا:
جب میں مر جاؤں تو دفن کا انتظام کرنا ، پھر مجھے قبر رسول (ص) پر لے جانا تا کہ ان سے تجدید عہد کروں، پھر مجھے قبر مادر پر لانا پھر بقیع میں لے جانا کر دفن کر دینا، یہ سمجھ لو کہ حمیرا (عائشہ) جس کی دشمنی و عناد میرے خاندان سے سبھی جانتے ہیں، اس کی طرف سے مجھ پر مصیبت ڈھائی جائے گی۔
جس وقت حضرت امام حسن (ع) شہید ہو گئے، جنازے کو تابوت میں رکھا گیا ، جہاں رسول (ص) نماز پڑھتے تھے وہیں لے جایا گیا، امام حسین (ع) نے نماز جنازہ پڑھائی، وہاں سے قبر رسول (ص) پر لیجا کر تھوڑی دیر کے لیے رکھا گیا۔
اعتراض عائشہ اور امام حسین (ع) کا جواب:
عائشہ کو خبر دی گئی کہ بنی ہاشم جنازے کو قبر رسول (ص) کے پہلو میں دفن کرنا چاہتے ہیں، عائشہ ایک خچر پر سوار ہو کر وہاں پہنچ گئی اور ڈیرا ڈال دیا کہنے لگی :
نحّوا ابنکم عن بیتی.
اپنے فرزند کو میرے گھر سے باہر لے جاؤ، کیونکہ یہاں کوئی چیز دفن نہیں ہو سکتی ، حجاب رسول کو پارہ نہیں ہونا چاہیے۔
امام حسین (ع) نے اس سے فرمایا :
تم نے اور تمہارے باپ نے تو پہلے ہی حجاب رسول کو پارہ پارہ کر دیا ہے، تم نے رسول کے گھر ایسے کو ابو بکر پہنچا دیا ہے کہ رسول کو اس کی قربت نا پسند تھی ، خداوند تم سے اس کی باز پرس کرے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ میرے بھائی حسن نے مجھے وصیت کی تھی کہ میرا جنازہ قبر رسول (ص) پر لے جانا تا کہ تجدید عہد کروں۔ تم سمجھ لو کہ میرے بھائی تمام لوگوں سے زیادہ خدا و رسول اور معنی قرآن کو سمجھتے تھے، وہ حجاب رسول کے پارہ ہونے کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ اگر ان کا دفن ہونا میری رائے میں مناسب ہوتا تو سمجھ لو کہ تمہاری خواہش کے بر خلاف یہاں ضرور دفن ہوتے۔
اس کے بعد محمد حنفیہ نے فرمایا :
اے عائشہ! ایک دن تم خچر پر سوار ہوئی اور ایک دن تم اونٹ پر سوار ہوئی تھی، تمہیں جو بنی ہاشم سے نفرت ہے اس کی وجہ سے نہ تو تم اپنے اختیار میں ہو، نہ چین سے رہ سکتی ہو۔
عائشہ نے ان سے مخاطب ہو کر کہا: اے حنفیہ کے بیٹے ! یہ فرزندان فاطمہ ہیں جو مجھ سے بات کر رہے ہیں، تم کیوں بیچ میں بول رہے ہو۔
امام حسین (ع) نے فرمایا : محمد کو بنی فاطمہ سے الگ کیوں کر رہی ہو، خدا کی قسم ! اسے تین فاطمہ نے جنم دیا ہے۔ فاطمہ بنت عمران (مادر ابو طالب )، فاطمہ بنت اسد (مادر علی ) فاطمہ بنت زائدہ بن اصم (مادر عبد المطلب )۔
عائشہ نے جھلا کر کہا: اپنے فرزند کو ہٹاؤ ، لے جاؤ کہ تم لوگ عناد پرست ہو۔
امام حسین (ع) جنازے کو بقیع کی طرف لے کر چلے گئے ۔
اصول کافی، ج 1 ص 302
دوسری روایت ہے کہ غسل کے بعد جب جنازے کو قبر رسول (ص) کی طرف لے چلے تو حاکم مدینہ مروان اور اس کے ساتھیوں نے یقین کر لیا کہ امام حسن کو قبر رسول (ص) کے پہلو میں دفن کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے تیاری شروع کر دی اور لباس جنگ پہن کر بنی ہاشم کے سامنے آ گئے، عائشہ خچر پر سوار ہو کر فریاد کر رہی تھی ، مجھے پسند نہیں کہ اپنے فرزند کو میرے گھر میں لاؤ۔
مروان نے کہا :
یا ربّ هیجا هی خیر.
کتنے ہی موقعے ہوتے ہیں کہ جنگ آسائش سے بہتر ہوتی ہے،
کیا عثمان مدینے کے کنارے دفن ہوں اور حسن پیغمبر کے قریب دفن کیے جائیں ؟ جب تک میرے ہاتھ میں تلوار ہے، ایسا نہیں ہونے دوں گا۔
قریب تھا کہ بنی ہاشم اور بنی امیہ میں شدید جنگ چھڑ جائے کہ عبد اللہ ابن عباس نے مروان سے جا کر کہا:
اے مروان ! ہم چاہتے ہیں کہ قبر رسول (ص) پر تجدید عہد کریں ، ہم امام حسن کو پہلوئے رسول میں دفن نہیں کرنا چاہتے،
اس کے بعد عائشہ کی طرف رخ کیا :
یہ کیا ذلیل حرکت ہے عائشہ ! ایک دن خچر پر، ایک دن اونٹ پر۔ تم نور خدا کو بجھانا چاہتی ہو۔ دوستان خدا سے جنگ کرنا چاہتی ہو۔ واپس جاؤ کہ جو کچھ تم چاہتی ہو پا گئی ہو۔ ( اطمینان رکھو کہ ہم امام حسن کو پہلوئے رسول میں دفن نہیں کریں گے ) خداوند عالم اس خاندان سے انتقام ضرور لے گا چاہے زیادہ عرصہ ہی کیوں نہ گزر جائے۔
ترجمہ کتاب ارشاد شیخ مفید، ج 2 ص 15
جنازے پر تیر بارانی:
محدث قمی نے مناقب ابن شہر آشوب کے حوالے سے لکھا ہے کہ:
جنازہ امام حسن پر تیر بارانی بھی ہوئی اور دفن کے وقت ستر تیر آپ کے جسد مبارک سے نکالے گئے۔
انوار البہیہ، ص 83
اسی لیے ہم زیارت جامعہ میں پڑھتے ہیں:
و انتم صریع قد فلق ،
تم ( خاندان نبوت ) میں سے کسی کو محراب عبادت میں سر شگافتہ کیا گیا، دوسرے کو تابوت کے اندر تیر بارانی کی گئی ، کسی کو بعد قتل نوک نیزہ پر سر بلند کیا گیا اور بعض کو زندان کے گوشے میں کھینچا گیا اور اعضاء کو لوہے کے نیچے دبایا گیا۔ یا زہر کے اثر سے داخلی طور سے قطع قطع کیا گیا۔
مصباح الزائر،
مفاتیح الجنان،
امام حسین (ع) جنازے کو بقیع میں لے گئے اور جدۂ ماجدہ فاطمہ بنت اسد کے پہلو میں دفن کر دیا۔
مرثیۂ امام حسین (ع):
امام حسین (ع) نے جنازے کو تابوت میں رکھتے ہوئے یہ اشعار پڑھے :
کیا میں سر میں تیل لگاؤں یا ریش کو عطر سے خوشبو دار کروں ؟ جبکہ میں آپ کے سر کو مٹی میں دیکھ رہا ہوں اور آپ کو کٹی شاخ یا پتے کی طرح دیکھ رہا ہوں۔
جب تک کبوتر کی آواز گونجے گی اور شمالی و جنوبی ہوا چلے گی، میں آپ پر روتا رہوں گا۔
میرا گریہ طولانی ہے، میرے آنسو رواں ہیں، آپ مجھ سے دور ہیں اور قبر نزدیک ہے۔
جس کا مال چھین لیا گیا ہو، غارت شدہ نہیں ہے، بلکہ غارت شدہ وہ ہے کہ جو اپنے بھائی کو خاک میں دفناتا ہے۔
مناقب ابن شہر آشوب، ج 4 ص 45
طشت میں خون جگر:
جنادہ ابن امیہ روایت کرتا ہے کہ جس بیماری میں امام حسن (ع) نے شہادت پائی، میں انکی عیادت کے لیے گیا، میں نے دیکھا کہ آپ کے پاس طشت رکھا ہے، جس میں گلے سے خون کے لوتھڑے گر رہے ہیں، جس میں آپ کے جگر کے ٹکڑے تھے، میں نے عرض کی: اے مولا ! علاج کیوں نہیں کرتے ؟
فرمایا: اے بندۂ خدا ! موت کا علاج کس چیز سے کروں ؟
اس کے بعد میں نے عرض کی: مولا ! مجھے موعظہ فرمایئے۔ فرمایا:
استعد لسفر .
اے جنادہ ! آخرت کے سفر کے لیے آمادہ ہو جاؤ اور عمر ختم ہونے سے پہلے توشۂ آخرت حاصل کر لو۔ سمجھ لو کہ تم دنیا کی طلب میں ہو اور موت تمہاری طلب میں ہے، کبھی آنے والے کل کا غم آج نہ کرو۔
جنادہ کہتا ہے کہ ناگاہ میں نے دیکھا کہ امام حسین (ع) حجرے میں تشریف لائے، حالانکہ امام حسن کا رنگ زرد ہو گیا ، سانسیں رک رہی گئیں، امام حسین نے خود کو برادر کے بدن پر گرا دیا اور سر آنکھوں کا بوسہ دینے لگے ، تھوڑی دیر آپ کے پاس بیٹھ کر راز کی باتیں کرتے رہے۔
انوار البہیہ، (شیخ عباس قمی) ص 80
شہادت امام حسن (ع) پر معاویہ (لع) کی خوشی:
معاویہ کو جب شہادت امام حسن (ع) کی خبر ملی تو بہت خوش ہوا۔ سجدے میں گر کر شکر خدا بجا لایا پھر تکبیر کہی۔ اس وقت ابن عباس شام میں تھے۔ معاویہ نے انہیں بلایا اور بڑے مسرور انداز میں تعزیت پیش کی، پھر ابن عباس سے پوچھا حسن ابن علی کی عمر کتنی تھی ؟
ابن عباس نے جواب دیا: تمام قریش کے لوگ ان کے سن و سال سے آگاہ ہیں۔ تعجب ہے کہ تم نا واقفیت ظاہر کر رہے ہو۔
معاویہ نے کہا: سنا ہے کہ حسن کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ؟
ابن عباس نے کہا: ہر چھوٹا ایک دن بڑا ہوتا ہے اور یہ سمجھ لو کہ ہمارے بچے بھی بوڑھوں کی طرح ہوتے ہیں۔
سچ بتاؤ کہ وفات حسن سے تم اتنے خوش کیوں ہو ؟ خدا کی قسم ان کی موت تمہارے اجل کو ٹالے گی نہیں، نہ ان کی قبر تمہاری قبر کو بھرے گی۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کے بعد میری اور تمہاری عمر کس قدر مختصر ہے۔
عقد الفرید، ج 4 ص 362