🔴 امام حسن المجتبیٰ (صلواۃ اللہ علیہ) کا معجزہ
📜الکافی: مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ عَنِ الْقَاسِمِ النَّهْدِيِّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ الْكُنَاسِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الله (عَلَيْهِ السَّلام) قَالَ خَرَجَ الْحَسَنُ بن علي (عَلَيْهما السَّلام) فِي بَعْضِ عُمَرِهِ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ وُلْدِ الزُّبَيْرِ كَانَ يَقُولُ بِإِمَامَتِهِ فَنَزَلُوا فِي مَنْهَلٍ مِنْ تِلْكَ الْمَنَاهِلِ تَحْتَ نَخْلٍ يَابِسٍ قَدْ يَبِسَ مِنَ الْعَطَشِ فَفُرِشَ لِلْحَسَنِ (عَلَيْهِ السَّلام) تَحْتَ نَخْلَةٍ وَفُرِشَ لِلزُّبَيْرِيِّ بِحِذَاهُ تَحْتَ نَخْلَةٍ أُخْرَى قَالَ فَقَالَ الزُّبَيْرِيُّ وَرَفَعَ رَأْسَهُ لَوْ كَانَ فِي هَذَا النَّخْلِ رُطَبٌ لاكَلْنَا مِنْهُ فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ وَإِنَّكَ لَتَشْتَهِي الرُّطَبَ فَقَالَ الزُّبَيْرِيُّ نَعَمْ قَالَ فَرَفَعَ يَدَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَدَعَا بِكَلامٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَاخْضَرَّتِ النَّخْلَةُ ثُمَّ صَارَتْ إِلَى حَالِهَا فَأَوْرَقَتْ وَحَمَلَتْ رُطَباً فَقَالَ الْجَمَّالُ الَّذِي اكْتَرَوْا مِنْهُ سِحْرٌ وَالله قَالَ فَقَالَ الْحَسَنُ (عَلَيْهِ السَّلام) وَيْلَكَ لَيْسَ بِسِحْرٍ وَلَكِنْ دَعْوَةُ ابْنِ نَبِيٍّ مُسْتَجَابَةٌ قَالَ فَصَعِدُوا إِلَى النَّخْلَةِ فَصَرَمُوا مَا كَانَ فِيهِ فَكَفَاهُمْ
📝 امام جعفر ع نے فرمایا کہ امام حسن (ع) اپنی عمر کے کسی حصے میں گھر سے نکلے اور آپ کے ساتھ ایک زبیری لڑکا تھا جو آپ کی امامت کا قائل و معتقد تھا۔ وہ دونوں ایک منزل پر اترے جو کہ مکہ و مدینہ کی منزلوں میں سے تھی ایک سوکھے درخت کے نیچے بیٹھے، زبیری نے سر اٹھا کر درخت کو دیکھا اور کہنے لگا کہ اگر اس درخت میں پھل ہوتے تو ہم کھاتے، امام حسن (ع) نے فرمایا۔ کیا تمہیں تازہ خرمے کھانے کی خواہش ہے۔ اس نے کہا ضرور، آپ نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور کچھ ایسے کلمات کہے جن کو وہ نہ سمجھا۔ پس درخت ہرا بھرا اپنی اصل حالت پر ہو گیا۔ ہرے ہرے پتے نکل آئے ۔ یہ دیکھ کر اس اونٹ والے نے جس کا اونٹ کرائے پر لیا تھا۔ کہا کہ یہ جادو ہے۔ امام حسن نے فرمایا یہ جادو نہیں ہے بلکہ یہ رسول اللہ ص کے بیٹے کی دعا تھی جو قبول ہوئی ہے۔ پس لوگ درخت پر چڑھے اور خوشے کاٹ لیے اور سب نے ان کو شکم سیر ہو کر کھایا۔
📚 صحیح ، مراۃ العقول 5/355
🖋 علی بن ابراھیم قمی
۔
🔴 معجزات امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام
📜 وقال أبو جعفر: حدثنا أبو محمد سفيان ، عن أبيه، قال: أخبرنا الأعمش، عن كثير بن سلمة ، قال: رأيت الحسن (عليه السلام) في حياة رسول الله (صلى الله عليه وآله) قد أخرج من صخرة عسلا ماذيا ، فأتيت رسول الله فأخبرته، فقال: أتنكرون لابني هذا؟! إنه سيد ابن سيد ، يصلح الله به بين فئتين، ويطيعه أهل السماء في سمائه، وأهل الأرض في أرضه"
📃 کثیر بن سلمہ سے منقول ہے میں نے رسول اللہ ص کی زندگی میں دیکھا کہ ایک دفعہ حضرت امام حسن ع نے چٹان میں سے شہد کو جاری کیا تو میں نے رسول اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر آپ کو سارا واقعہ سنایا آپ نے فرمایا کیا تم لوگ میرے بیٹے کی فضیلت کا انکار کرتے ہو حالانکہ یہ سید و سردار باپ کا سید وسردار بیٹا ہے
اللہ تعالی ان کے ذریعے دو گروہوں میں صلح کروائے گا. آسمان میں آسمان کی مخلوقات اور زمین پر زمین کی مخلوقات اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرتی ہیں
📚 دلائل الامامة - محمد بن جرير بن رستم الطبري ( الشيعي) - الصفحة ۶۳
🖋 سید علی حیدر شیرازی
۔
🔴 امام حسن علیہ السلام نے چین کے بادشاہ کی بیٹی اور اس کے وزیر کے بیٹے کو زندہ کر دیا
علامہ ضمیر اختر نقوی صاحب نے امام حسن ع کے جس معجزہ کی طرف اشارہ کیا وہ مکمل معجزہ کتاب دمعتہ الساکبہ جلد 1 صفحہ 524 ہر موجود ہیں
یہاں اس باب میں امام حسن علیہ السلام کے دیگر معجزات بھی موجود ہیں مرد کو عورت اور عورت کو مرد بنا دینا وغیرہ اور امام فرماتے ہیں اگر میں چاہوں تو شام کو عراق عراق کو شام بنا دوں اللّٰہ کے حکم سے
📚 الدمعة الساکبة
۔
🔴 امام حسن ع کا معجزہ
ایک مرتبہ امام حسن ع اور ایک زبیری شخص ایک درخت کے نیچے بیٹے تھے۔ اس درخت پر پھل نہ تھے تو اس شخص کو بھوک لگی اور اس نے پہ پھل کھانے کی خواہش کی ۔ امام حسن ع نے آسمان کی طرف ہاتھ کر کے دعا کی اور کچھ کلمات کہے جس سے اس درخت پر پھل اور پتے نکل آئے
📚 اصول کافی باب : ذکر مولود امام حسن ع
🌟سند : حسن
📚 مراتہ العقول فی شرح اخبار رسول 3/355
🔴 ابو جعفر طبری نے اپنی اسناد کے ساتھ محمد بن حجارہ سے نقل کیا اس نے کہا : ہم مولا حسن (؏) کے ساتھ مدینے سے باہر نکلے تو ہم نے دیکھا کہ ہرنوں کا ایک غول ہمارے سامنے سے گزرا ۔ آپ ؐ نے انہیں آواز دی تو ہرنوں نے لبیک کہا اور گردن جھکا کر آپ ؐ کے سامنے کھڑے ہو گئے۔
ہم نے کہا : مولا (؏) یہ تو جنگلی جانور ہیں ہمیں کوئی آسمانی علامت دکھائیں ؟
مولا حسن (؏) نے آسمان کی جانب اشارہ کیا تو آسمان کے کے دریچے کھل گئے اور ان سے نور بر آمد ہوا اور اس نور نے پورے مدینے کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور مدینہ کے مکانات ہلنے لگے یہاں تک کہ ہمیں یہ اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں مدینہ کے مکانات منہدم ہی نہ ہوجائیں ۔
پھر ہم نے کہا : مولا (؏) اس نور کو واپس کردیجیئے ۔
آپ ؑ نے اشارہ کیا تو نور واپس گیا ۔
پھر آپ (؏) نے فرمایا :
** ہم ہی آخر اور ہم ہی اول ہیں اور ہم ہی صاحبان امر ہیں اور ہم وہ نور ہیں جو نور الہی سے روحانیوں کو منور کرتے ہیں اور تسکین الہی سے روحانیوں کو بھی ہم تسکین فراہم کرتے ہیں، روح الہی کا ہم میں ہی مسکن و معدن ہے ۔ ہمارا آخری فرد بھی پہلے کی طرح سے محترم ہے اور ہمارا پہلا فرد بھی آخری کی طرح سے محترم ہے ** ۔
📚 معجزات آلِ محمد (؏) ، ج٢ ص٢٩،٣٠
جبران علی
۔
📜 ایک مرتبہ امام حسن ع اور ایک زبیری شخص ایک درخت کے نیچے بیٹے تھے۔ اس درخت پر پھل نہ تھے تو اس شخص کو بھوک لگی اور اس نے پہ پھل کھانے کی خواہش کی ۔ امام حسن ع نے آسمان کی طرف ہاتھ کر کے دعا کی اور کچھ کلمات کہے جس سے اس درخت پر پھل اور پتے نکل آئے۔
📚 اصول کافی باب : ذکر مولود امام حسن ع
سند : حسن
📚 مراة العقول فی شرح اخبار رسول 3/355
🔴 کثیر بن سلمہ روایت کرتا ہے:
📜 میں نے امام حسن مجتبیٰؑ کو دیکھا جب وہ ابھی بچّے تھے،
وہ ایک پتھر سے سفید شہد نکال رہے تھے۔
میں حیران ہوا اور رسولِ خدا ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ عرض کیا۔
رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
"کیا تم میرے فرزند کے اس عمل پر تعجب کرتے ہو؟
حالانکہ وہ آقا ہے اور آقا کا بیٹا ہے۔
اللہ تعالیٰ اسی کے ذریعے دو گروہوں کے درمیان صلح قائم کرے گا،
آسمان والے آسمان میں، اور زمین والے زمین میں،
سب اسی کی اطاعت کریں گے۔"
📚 دلائل الامامة (طبری)، جلد ۱، صفحہ ۱۶۵
۔
4- مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ عَنِ الْقَاسِمِ النَّهْدِيِّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ الْكُنَاسِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: خَرَجَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ع فِي بَعْضِ عُمَرِهِ وَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ وُلْدِ الزُّبَيْرِ كَانَ يَقُولُ بِإِمَامَتِهِ فَنَزَلُوا فِي مَنْهَلٍ مِنْ تِلْكَ الْمَنَاهِلِ تَحْتَ نَخْلٍ يَابِسٍ قَدْ يَبِسَ مِنَ الْعَطَشِ فَفُرِشَ لِلْحَسَنِ ع تَحْتَ نَخْلَةٍ وَ فُرِشَ لِلزُّبَيْرِيِّ بِحِذَاهُ تَحْتَ نَخْلَةٍ أُخْرَى قَالَ فَقَالَ الزُّبَيْرِيُّ وَ رَفَعَ رَأْسَهُ لَوْ كَانَ فِي هَذَا النَّخْلِ رُطَبٌ لَأَكَلْنَا مِنْهُ فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ وَ إِنَّكَ لَتَشْتَهِي الرُّطَبَ فَقَالَ الزُّبَيْرِيُّ نَعَمْ قَالَ فَرَفَعَ يَدَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَدَعَا بِكَلَامٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَاخْضَرَّتِ النَّخْلَةُ ثُمَّ صَارَتْ إِلَى حَالِهَا فَأَوْرَقَتْ وَ حَمَلَتْ رُطَباً فَقَالَ الْجَمَّالُ الَّذِي اكْتَرَوْا مِنْهُ سِحْرٌ وَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ الْحَسَنُ ع وَيْلَكَ لَيْسَ بِسِحْرٍ وَ لَكِنْ دَعْوَةُ ابْنِ نَبِيٍّ مُسْتَجَابَةٌ قَالَ فَصَعِدُوا إِلَى النَّخْلَةِ فَصَرَمُوا مَا كَانَ فِيهِ فَكَفَکھایا۔
۴۔ امام جعفر صادق (ع) کا فرمان ہے کہ امام حسن (ع) اپنی عمر کے کسی حصے میں گھر سے نکلے اور آپ کے ساتھ زبیر کا لڑکا تھا جو آپ کی امامت کا قائل و معتقد تھا۔ وہ دونوں ایک منزل پر اترے جو کہ مکہ و مدینہ کی منزلوں میں سے تھی ایک سوکھے درخت کے نیچے، زبیری بیٹھے، زبیری نے سر اٹھا کر درخت کو دیکھا اور کہنے لگا کہ اگر اس درخت میں پھل ہوتے تو ہم کھاتے، امام حسن (ع) نے فرمایا۔ کیا تمہیں تازہ خرمے کھانے کی خواہش ہے۔ اس نے کہا ضرور، آپ نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور کچھ ایسے کلمات کہے جن کو میں نہ سمجھا۔ پس درخت ہرا بھرا اپنی اصل حالت پر ہو گیا۔ ہرے ہرے پتے نکل آئے اور اس پر پھل آگئے۔ یہ دیکھ کر اس اونٹ والے نے جس کا اونٹ کرایہ پر لیا تھا۔ کہا کہ یہ جادو ہے۔ امام حسن ع نے فرمایا یہ جادو نہیں ہے بلکہ یہ دعا تھی فرزند نبیؐ کی جو قبول ہوئی ہے۔ پس درخت پر چڑھے اور خوشے کاٹ لیے اور سب نے ان کو شکم سیر ہو کر کھایا۔
علامہ مجلسی نے اپنی کتاب مراۃ العقول میں اس حدیث کو صحیح کہا ۔۔
الحديث الرابع : صحيح.
اسم الکتاب : مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول المؤلف : العلامة المجلسي الجزء : 5 صفحة : 355
ام اشتر
#اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد
#تعلیمات_اہلبیت #talimaat_e_ahlbait
Gallery
Tap any image to view full screen