امامت پر نصوص
امامت پر نصوص
امامت پر نصوص
امامت پر نصوص
امامت پر نصوص

امام حسن ع کی امامت پر نصوص 

 

📜 الکافی: عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ الْيَمَانِيِّ وَعُمَرَ بْنِ أُذَيْنَةَ عَنْ أَبَانٍ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ شَهِدْتُ وَصِيَّةَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ (عَلَيْهِ السَّلام) حِينَ أَوْصَى إِلَى ابْنِهِ الْحَسَنِ (عَلَيْهِ السَّلام) وَأَشْهَدَ عَلَى وَصِيَّتِهِ الْحُسَيْنَ (عَلَيْهِ السَّلام) وَمُحَمَّداً وَجَمِيعَ وُلْدِهِ وَرُؤَسَاءَ شِيعَ---تِهِ وَأَهْلَ بَيْتِهِ ثُمَّ دَفَعَ إِلَيْهِ الْكِتَابَ وَالسِّلاحَ وَقَالَ لابْنِهِ الْحَسَنِ (عَلَيْهِ السَّلام) يَا بُنَيَّ أَمَرَنِي رَسُولُ الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) أَنْ أُوصِيَ إِلَيْكَ وَأَنْ أَدْفَعَ إِلَيْكَ كُتُبِي وَسِلاحِي كَمَا أَوْصَى إِلَيَّ رَسُولُ الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) وَدَفَعَ إِلَيَّ كُتُبَهُ وَسِلاحَهُ وَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَكَ إِذَا حَضَرَكَ الْمَوْتُ أَنْ تَدْفَعَهَا إِلَى أَخِيكَ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِ السَّلام) ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى ابْنِهِ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِ السَّلام) فَقَالَ وَأَمَرَكَ رَسُولُ الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) أَنْ تَدْفَعَهَا إِلَى ابْنِكَ هَذَا ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيِّ بن الحسين (عَلَيْهما السَّلام) ثُمَّ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَأَمَرَكَ رَسُولُ الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) أَنْ تَدْفَعَهَا إِلَى ابْنِكَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ وَأَقْرِئْهُ مِنْ رَسُولِ الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) وَمِنِّي السَّلامَ.

 

📝 سلیم بن قیس سے مروی ہے کہ میں اس وقت موجود تھا جب امیرالمومنین (ع) نے اپنے فرزند حسن (ع) کے متعلق وصیت کی میں گواہی دیتا ہوں کہ اس وقت امام حسین (ع) ، محمد حنفیہ اور حضرت علی (ع) کی تمام اولاد اور آپ (ع) کے شی---عہ رؤساء اہلبیت موجود تھے۔ حضرت نے کتاب اور سلاح امام حسن (ع) کو دے کر فرمایا ۔ بیٹا رسول ﷺ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے لئے وصیت کروں اور اپنی کتابیں اور ہتھیار اسی طرح تمہیں دوں جس طرح رسول ﷺ نے اپنی کتابیں اور ہتھیار مجھے دیئے اور مجھے حکم دیا کہ تمہیں حکم دوں کہ جب تمہاری وفات کا وقت قریب آئے یہ چیز اپنے بھائی حُسین (ع) کے سپرد کرنا پھر حسین (ع) سے فرمایا رسول اللہ نے تم کو حکم دیا ہے کہ یہ چیزیں اپنے اس بیٹے کے سپرد کرنا اور علی ابن الحسین (ع) کا ہاتھ پکڑ کر کہا تم کو رسول ﷺ اللہ نے حکم دیا ہے کہ یہ چیزیں اپنے بیٹے محمد ابن علی (ع) کے سپرد کرنا اور رسول اللہ کی طرف سے ان کو سلام کہنا ۔(یہ روایت کتاب سلیم میں ہونے کی وجہ سے معتبر ہے ) ۔

 

📚 حسن علی ظاہر ، مراۃ العقول 3/291

 

📝 امالی صدوق : حدثنا الشيخ الجليل أبو جعفر محمد بن علي بن الحسين بن موسى ابن بابويه القمي (رضي الله عنه)، قال: حدثني أبي (رضي الله عنه)، قال: حدثنا سعد بن عبد الله، قال: حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، عن الحسين بن سعيد، عن حماد بن عيسى، عن إبراهيم بن عمر اليماني، عن أبي الطفيل، عن أبي جعفر محمد بن علي الباقر (عليهما السلام)، عن آبائه (عليهم السلام)، قال: قال رسول الله (صلى الله عليه وآله) لامير المؤمنين (عليه السلام): اكتب ما أملي عليك. فقال: يا نبي الله، أتخاف علي النسيان؟ فقال (صلى الله عليه وآله): لست أخاف عليك النسيان، وقد دعوت الله لك أن يحفظك ولا ينسيك، ولكن اكتب لشركائك. قال: قلت: ومن شركائي، يا نبي الله؟ قال: الائمة من ولدك، بهم تسقى أمتي الغيث، وبهم يستجاب دعاؤهم، وبهم يصرف الله عنهم البلاء، وبهم ينزل الرحمة من السماء، وهذا أولهم. وأومى بيده إلى الحسن بن علي (عليه السلام)، ثم أومى بيده إلى الحسين (عليه السلام)، ثم قال: الائمة من ولده

 

📝 امام باقر ع اپنے اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ رسولِ خدا ﷺ نے امیر المومنین سے فرمایا کہ وہ لکھو جو میں تمہیں کہتا ہوں ، امیر المومنین نے پوچھا یا رسول اللہ ص کیا آپ کو ڈر کہ میں بھول جاؤں گا ۔ فرمایا نہیں مجھے یہ ڈر نہیں کہ تم بھول جاؤ گے کیونکہ میں نے اللہ سے دعا کی ہے کہ وہ تمہیں بھول جانے سے محفوظ رکھے ۔بلکہ اپنے شریکوں(ساتھیوں) کے لئے لکھو ۔ آپ ع نے پوچھا میرے شریک کون ہیں ؟ آپ ص نے فرمایا کہ تمہارے نسل سے وہ امام جن کے ذریعے سے امت کو بارش ملے گی ، جن کے وسیلے سے امت کی دعائیں قبول ہوں گی ، جن کے وسیلے سے اللہ ان کی مصیبت دور کرے گا اور جن کے وسیلے سے آسمان سے رحمت نازل ہوگی ، اور تم ان میں پہلے ہو ، پھر آپ ص نے حسن ع کی طرف اشارہ کیا اور پھر حسین ع کی طرف اور فرمایا امام اس کی نسل سے ہوں گے ۔

 

📚 ( وسند صحیح رجاله ثقات ، النصوص علی اھل الخصوص : 438 )

 

📜 (1/0)كمال الدين: عن ابن الوليد عن الصفار عن ابن يزيد عن حماد بن عيسى عن ابن اذينه عن ابان بن أبي عياش وابراهيم بن عمر اليماني عن سليم بن قيس الهلالي قـال: سمعت سلمان الفارسي رضي الله عنه قال: كنت جالسا بين يدي رسول الله في مرضته التي قبض فيها، فدخلت فاطمة فلما رأت ما بإبيها صلوات الله عليه وآله من الضعف،......الخ

 

📝 سلیم بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الموت کے وقت میں حضور اکرم کی خدمت میں مزاج پرسی کے لئے گیا ۔ اتنے میں جناب فاطمہ داخل ہوئیں ۔۔ اور حضور کی کیفیت دیکھ کر رونے لگیں اور آنسو آپ کے رخسار مبارک پر جاری ہو گئے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ اے فاطمہ کیوں روتی ہو ؟ عرض کیا یا رسول اللہ آپ کے بعد اپنے اور اپنی اولاد کے ہلا---ک ہو جانے سے ڈرتی ہوں میں۔ رسول اللہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور آپ نے فرمایا ۔ اے فاطمہ کیا تم کو علم ہے کہ اللہ نے ہم اہل بیت کے لئے دنیا کے مقابل میں آخرت کو اختیار کیا ہے ۔ اور تمام مخلوقات کے لئے فنا کو حتمی قرار دیا ہے اور اللہ نے زمین پر نظر ڈالی میں اس نے اپنی خلق میں سے مجھے چنا اور نبوت سے سرفراز کیا میرے اللہ نے زمین پر دوسری بار نظر ڈالی اور تمہارے شوہر کو منتخب کیا اور مجھے وحی کی کہ میں تم کو اس کی زوجیت میں اور اسے اپنی امت میں اپنا جانشین، وزیر اور خلیفہ مقرر کروں, اس طرح تیرا باپ تمام انبیاء سے افضل ہے اور تیرا شوہر تمام جانشینوں سے افضل ہے اور تم سب سے پہلے مجھ سے ملنے والے ہو گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تیسری بار زمین پر نظر ڈالی اور مخلوق میں سے آپ کے دونوں بیٹوں کو چن لیا۔ اس طرح آپ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں اور آپ کے بیٹے حسن و حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں اور آپ کے شوہر کے بیٹے قیامت تک میرے جانشین ہیں۔ یہ سب مہدی اور ہادی (ہدایت اور رہنمائی کرنے والے) ہیں۔ ان میں سے پہلے میرا بھائی علی، پھر حسن، پھر حسین، پھر حسین کی نسل سے نو امام ہوں گے۔

 

📜 الکافی : الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْوَشَّاءِ عَنْ أَبَانٍ عَنْ زُرَارَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ (عَلَيْهِ السَّلام) يَقُولُ نَحْنُ اثْنَا عَشَرَ إِمَاماً مِنْهُمْ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ ثُمَّ الائِمَّةُ مِنْ وُلْدِ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِ السَّلام )

 

📝 زرارہ کہتے ہیں کہ میں نے امام باقر ع سے سنا کہ ہم بارہ امام ہیں ، حسن و حسین ع ان میں سے ہیں ، باقی آئمہ امام حسین ع کی نسل سے ہیں۔ 

 

📚 ( وسنده حسن کالصحیح ، النصوص علی اھل الخصوص ، 438 )

 

📜 الکافی: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ رِجَالِهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الله (عَلَيْهِ السَّلام) قَالَ إِنَّ الْحَسَنَ (عَلَيْهِ السَّلام) قَالَ إِنَّ لله مَدِينَتَيْنِ إِحْدَاهُمَا بِالْمَشْرِقِ وَالاخْرَى بِالْمَغْرِبِ عَلَيْهِمَا سُورٌ مِنْ حَدِيدٍ وَعَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَلْفُ أَلْفِ مِصْرَاعٍ وَفِيهَا سَبْعُونَ أَلْفَ أَلْفِ لُغَةٍ يَتَكَلَّمُ كُلُّ لُغَةٍ بِخِلافِ لُغَةِ صَاحِبِهَا وَأَنَا أَعْرِفُ جَمِيعَ اللُّغَاتِ وَمَا فِيهِمَا وَمَا بَيْنَهُمَا وَمَا عَلَيْهِمَا حُجَّةٌ غَيْرِي وَغَيْرُ الْحُسَيْنِ أَخِي.

 

📝 امام جعفر صادق (ع) سے روایت ہے کہ امام حسن نے فرمایا۔ خدا کے دو شہر ہیں ایک مشرق میں ہے۔ دوسرا مغرب میں، ان دونوں کے گرد شہر پناہ ہے لوہےکی۔ یعنی بہت مضبوط اور ان دونوں میں ہزار ہزار در ہیں اور ان میں ستر ہزار زبانیں بولنے والے ہیں ہر زبان دوسرے کے خلاف ہے اور میں جانتا ہوں ان سب زبانوں کو اور جو کچھ ان کے اندر ہے ، ان پر حجت خدا میرے اور میرے بھائی حسین ع کے سوا کوئی بھی نہیں ۔

 

📚 صحیح ، مراۃ العقول 5/357

 

📜 الکافی: وَفِي نُسْخَةِ الصَّفْوَانِيِّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ سَيْفٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الله (عَلَيْهِ السَّلام) أَنَّ عَلِيّاً صَلَوَاتُ الله عَلَيْهِ حِينَ سَارَ إِلَى الْكُوفَةِ اسْتَوْدَعَ أُمَّ سَلَمَةَ كُتُبَهُ وَالْوَصِيَّةَ فَلَمَّا رَجَعَ الْحَسَنُ دَفَعَتْهَا إِلَيْهِ.

 

📝 امام جعفر ع نے فرمایا کہ جب حضرت علی (ع) کوفہ کی طرف روانہ ہوئے تو اپنی کتابیں ام سلمہ ع کے سپرد کی اور وصیت بھی کی کہ جب امام حسن (ع) مدینہ آئے تو اُم سلمہ نے وہ چیزیں ان کے سپرد کردیں ۔

 

📚 حسن ، مراۃ العقول 3/293

 

🖋 علی بن ابراھیم قمی

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5