امام حسن مجتبیؑ کو بوقتِ شہادت کس چیز نے رلایا ؟
امام حسن مجتبیؑ کو بوقتِ شہادت کس چیز نے رلایا ؟
أَبَا جَعْفَرٍ ع يَقُولُ لَمَّا حَضَرَتِ الْحَسَنَ ع الْوَفَاةُ بَكَى فَقِيلَ لَهُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ تَبْكِي وَ مَكَانُكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ص الَّذِي أَنْتَ بِهِ وَ قَدْ قَالَ فِيكَ مَا قَالَ وَ قَدْ حَجَجْتَ عِشْرِينَ حَجَّةً مَاشِياً وَ قَدْ قَاسَمْتَ مَالَكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى النَّعْلَ بِالنَّعْلِ فَقَالَ إِنَّمَا أَبْكِي لِخَصْلَتَيْنِ لِهَوْلِ الْمُطَّلَعِ وَ فِرَاقِ الْأَحِبَّةِ.
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
جب امام حسن مجتبیؑ کی شہادت کا وقت قریب آیا تو آپ گریہ کررہے تھے، کسی نے آپ سے کہا، ائے فرزندِ رسولؑ آپ کو کس چیز نے رلایا؟
آپ کا مقام تو رسول اللہ ﷺوآلہ کے نزدیک بہت بڑا ہے اور آپ کے متعلق رسول اللہ نے بہت کچھ فرمایا ہے (یعنی فضائل بیان کیئے ہیں) آپ نے بیس حج پا پیادہ کیے ہیں اور تین بار راہ خدا میں اپنا کل اثاثہ دے دیا ہے حتی کہ نعلینِ مبارک تک کو دے دیا۔
امام حسن مجتبیؑ نے جواب دیا :
میں دو باتوں کی وجہ سے روتا ہوں:
اول اس واقعہ سے جو میری موت کا سبب ہوا ہے۔
دوسرا احباء (علیؑ و حسینؑ، قاسمؑ و عبداللہ و اہلبیتؑ) کے فراق (جدائی) سے۔
حوالہ: [الکافی جلد 1 ص 461 من آدم ومن دونه.
باب مولد الحسن بن علي صلوات الله عليهما]
طبع مکتبة الإسلامیة ]
🖋 عبد اللہ امامی