شہادتِ امام حسن ع
الکافی : سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الله وَعَبْدُ الله بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَهْزِيَارَ عَنْ أَخِيهِ عَلِيِّ بْنِ مَهْزِيَارَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الله (عَلَيْهِ السَّلام) قَالَ قُبِضَ الْحَسَنُ بن علي (عَلَيْهما السَّلام) وَهُوَ ابْنُ سَبْعٍ وَأَرْبَعِينَ سَنَةً فِي عَامِ خَمْسِينَ عَاشَ بَعْدَ رَسُولِ الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) أَرْبَعِينَ سَنَةً.
امام صادق ع نے فرمایا کہ امام حسن بن علی ع 47 سال کی عمر میں شہید ہوئے ، آپ رسولِ خدا ﷺ کے بعد 40 سال تک زندہ رہے ۔
مختلف فیه صحیح عندي ،
مراۃ العقول فی شرح اخبارِ آلِ رسول ، 354/ 5
الکافی: عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ سَيْفِ بْنِ عَمِيرَةَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ إِنَّ جَعْدَةَ بِنْتَ أَشْعَثَ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ سَمَّتِ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَسَمَّتْ مَوْلاةً لَهُ فَأَمَّا مَوْلاتُهُ فَقَاءَتِ السَّمَّ وَأَمَّا الْحَسَنُ فَاسْتَمْسَكَ فِي بَطْنِهِ ثُمَّ انْتَفَطَ بِهِ فَمَاتَ.
ابوبکر حضرمی نے بیان کیا کہ جعدہ بنت اشعث نے امام حسن ع کو اور آپ کی ایک کنیز کو ز-----ہر دیا، کنیز نے تو قے کر دی۔ لیکن امام (ع) کے بطن میں وہ سرایت کر گیا جس سے جگر ٹکڑ----ے ہو گئے اور آپ شہید ہوگئے ۔
حسن ، مراۃ العقول 354/ 5
صحیح الکافی ، 52/ 1
علل الشرائع : حدثنا محمد بن الحسن ـ رضي الله عنه ـ قال : حدثنا الحسين بن الحسن بن ابان ، عن الحسين بن سعيد ، عن النضر بن سويد ، عن هشام بن سالم ، ، عن ابی عبدالله الا قال : ان الحسين بن علی بلا اراد ان يدفن الحسن بن علی ا رسول اللہ ﷺ وجمع جمعاً فقال رجل سمع الحسن بن على الا يقول : قولوا للحسين : الأيهرق في دم--ا ، لولاذلك ماانتهى
الحسين البلا حتى يدفنه مع رسول اللہ ﷺ وقال ابو عبدالله الا : اول امرءة ركبت البغ--ل بعد رسول الله ﷺ عايشة جائت الى المسجد فمنعت ان يدفن الحسن بن على مع رسول الله ﷺ .
امام جعفر صادق ع سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے ارادہ کیا کہ امام حسن علیہ السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں دفن کر میں تو بہت سے لوگ جمع ہو گئے ۔ اتنے میں ایک شخص نے کہا کہ میں نے امام حسن ع کو کہتے ہوئے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ حسین ع سے کہہ دو کہ وہ میرے لئے کشت خو-----ن نہ بہائیں اور اگر امام حسن ع یہ نہ کہ دیتے تو امام حسین علیہ السلام ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دفن کئے بغیر نہ مانتے نیز حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے پہلی عورت جو خچ--ر پر سوار آئی وہ حضرت عائشہ تھیں وہ خچ--ر پر سوار ہو کر آئیں اور انہوں نے امام حسن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں دفن کرنے کو منع کردیا ۔
[٦/١٢٤٠] عيون الاخبار و أمالي الصدوق: عن الطالقاني عن أبي سعيد الهمداني عن علي بن الحسن بن فضال عن أبيه عن الرضا عن آبائه قال: لما حضرت الحسن بن علي بن أبي طالب الوفاة بكى فقيل له: يا ابن رسول الله أتبكي ومكانک من رسول اللہ ﷺ الذي أنت به؟ و قد قال فیک رسول اللہ ﷺ ما قال و قد حججت عشرين حجة ماشيا و قدقاسمت ربک مالک ثلاث مرات حتى النعل و النعل فقال : إنما أبكي لخصلتين: لهول المطلع و فراق الأحبة.
امام علی رضا ع اپنے اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ جب امام حسن ع کی رحلت کا وقت قریب آیا تو وہ رونے لگے ، کسی نے پوچھا آپ رسولِ خدا ﷺ سے اتنا قریبی رشتہ رکھنے کے باوجود بھی روتے ہیں جبکہ آپ کے بارے میں بہت سی احادیث واقوال بھی کہے گئے ہیں آپ نے بیس حج پیدل انجام دیئے ہیں اور اپنے مال یہاں تک کہ اپنی نعلین کو بھی راہ خدا میں تقسیم کر دیا ہےامام نے فرمایا میرا گریہ دو سبب سے ہے ایک خدا سے ملاقات کا خوف اور دوسرا میرے پیاروں/عزیزوں سے میری دوری۔
🖋 علی بن ابراھیم قمی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
Gallery
Tap any image to view full screen