Back to امام حسن (علیہ السلام)

امام حسن ع کی رسول ص کے پہلو میں تدفین کو روکنے والے لوگ

امام حسن ع کی رسول ص کے پہلو میں تد -- فین کو روکنے والے لوگ 

 

🖋 علی بن ابراھیم قمی

 

شیخ صدوق نے اپنی سند سے نقل کیا 

 

حدثنا محمد بن الحسن رضي الله عنه قال: حدثنا الحسين بن الحسن ابن أبان، عن الحسين بن سعيد، عن النضر بن سويد، عن هشام بن سالم، عن سليمان بن خالد، عن أبي عبد الله " ع " قال: إن الحسين بن علي " ع " أراد ان يدفن الحسن بن علي عليهما السلام مع رسول الله صلى الله عليه وآله وجمع جمعا فقال رجل سمع الحسن بن علي " ع " يقول: قول للحسن ألا يهرق في د -- ما لولا ذلك ما انتهى الحسين " ع " حتى يدفنه مع رسول الله (صلى الله عليه وآله).

وقال أبو عبد الله " ع " أول امرأة ركبت الب --- غل بعد رسول الله صلى الله عليه وآله عائشة جاءت إلى المسجد فمنعت ان يدفن الحسن بن علي مع رسول الله (صلى الله عليه وآله).

 

امام جعفر الصادق ع نے فرمایا امام حسین ع نے ارادہ کیا کہ امام حسن ع کو رسول ص کے پہلو میں د -- فن کریں لیکن ہجوم جمع ہوگیا ۔ ایسے میں ایک شخص نے کہ امام حسن ع نے فرمایا تھا کہ میری وجہ سے خو --- ن نہ بہا -- یا جائے ۔ اگر امام حسن ع ایسا نہ کہتے تو امام حسین ع کو انکو رسول ص کے پہلو میں د -- فن کیے بغیر نہ مانتے ہیں۔ رسول ص کے بعد جو سب سے پہلی خاتون خ ---- چر پر سوار ہوکر آئی وہ حضرت عائشہ تھیں ۔وہ آئیں اور امام حسن ع کو رسولِ خدا ﷺ کے پہلو میں دفن کرنے سے منع کر دیا ۔

 

📗 علل الشرائع - الشيخ الصدوق - ج ١ - الصفحة ٢٢٥

 

اس حدیث کی سند صحیح ہے ۔

 

رواۃ کے حالات : 

 

1)ابن الولید محدثِ قمی - یہ کسی تعارف کے محتاج نہیں : 

 

قال النجاشي: " محمد بن الحسن بن أحمد بن الوليد، أبو جعفر: شيخ القميين وفقيههم، ومتقدمهم ووجههم، ويقال: إنه نزيل قم، وما كان أصله منها، ثقة ثقة، عين، مسكون إليه. 

 

شیخ نجاشی نے کہا ابن الولید قمی قمیوں کے شیخ ، ان کے فقیہ اور نامور افراد میں شامل ہیں ۔ کہا جاتا ہے یہ قم کے رہائشی تھے اصل میں وہاں سے نہ تھے۔ ثقہ ثقہ ہیں ۔

 

وقال الشيخ (708): " محمد بن الحسن بن الوليد القمي، جليل القدر، عارف بالرجال، موثوق به

 

ابن الولید قمی جلیل القدر اور رجال کو پہچاننے والے اور موثق فرد ہیں ۔

 

📗 معجم رجال الحديث - السيد الخوئي - ج ١٦ - الصفحة ٢٢٠

 

شیخ صدوق نے اپنے استاد ابن الولید کے لیے دعائیہ کلمات استعمال کیے ہیں اور ان کی آراء کو اپنی کتب میں نقل کیا ہے ۔

 

2- الحسين بن الحسن ابن أبان : 

 

ذكره الشيخ في رجاله في أصحاب العسكري عليه السلام ,وقال: أدركه ولم نعلم أنه روى عنه. ثم قال: وذكر ابن قولويه، أنه قرابة الصفار وسعد ابن عبد الله وهو أقدم منهما لأنه روى عن الحسين بن سعيد

 

شیخ طوسی نے انہیں امام حسن عسکری ع کے اصحاب میں شمار کیا ہے اور فرمایا انہوں نے امام حسن عسکری ع کو درک کیا ہے لیکن ان سے روایت نہیں کی ۔ ابن قولویہ نے کہا کہ یہ ابن صفار اور سعد بن عبداللہ کے قریبی ہیں اور یہ ان دونوں سے بڑے ہیں کیوں کہ انہوں نے حسین بن سعید الاھوازی سے روایت کی ہے ۔

 

📗 معجم رجال الحديث - السيد الخوئي - ج ٦ - الصفحة ٢٣١

 

شیخ ابن قولویہ اپنی کتاب کامل الزیارات کے مقدمہ میں فرماتے ہیں 

 

وقد علمنا انا لا نحيط بجميع ما روي عنهم في هذا المعنى ولا في غيره، لكن ما وقع لنا من جهة الثقات من أصحابنا رحمهم الله برحمته، ولا أخرجت فيه حديثا روي عن الشذاذ من الرجال، يؤثر ذلك عنهم عن المذكورين غير المعروفين بالرواية المشهورين بالحديث والعلم

 

ہم جانتے ہیں کہ اس موضوع اور دوسرے موضوعات کے متعلق سب کچھ آئمہ ع سے منقول جمع نہیں کرسکتے لیکن جو ہمیں ثقہ و معتمد اصحاب سے پہنچا ہے خدا ان پر رحمت کرے ۔ اور نا ہی اس کتاب میں میں ایسی کوئی حدیث نقل کروں گا جو شاذ راویوں نے نقل کی ہو جو روایت کے معاملے میں غیر معروف اور حدیث کے معملے میں غیر مشہور ہیں ۔

 

یہ توثیق عامہ کا ایک اصول ہے کہ اگر کوئی مجہول التوثیق راوی کامل زیارات کے سلسلہ سند میں ہو تو یہ اسکی توثیق کے لیے کافی ہے۔

 

شیخ علی نمازی شاھرودی فرماتے ہیں 

 

٤٢٦٩ - الحسين بن الحسن بن أبان القمي , واستدلوا لوثاقته بأمور: منها رواية الاجلاء عنه كما عرفت. ومنها وقوعه في الطريق ابن قولويه.

 

حسین بن حسن بن ابان ، اس کی توثیق پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ اس سے اجلاء نے روایات نقل کی ہیں اور یہ راوی ابن قولیہ کی کامل الزیارات کے سلسلہ سند میں ہے .

 

📗 مستدركات علم رجال الحديث - الشيخ علي النمازي الشاهرودي - ج ٣ - الصفحة ١١١

 

علامہ ابن داؤد حلی نے انکی توثیق کی ہے 

 

٤٣١ - محمد بن أورمة، أبو جعفر القمي ضعيف روى عنه الحسين بن الحسن بن أبان وهو ثقة

 

محمد بن اورمہ ، ضیعف ہے اس نے حسین بن حسن بن ابان سے روایت کی ہے جو کہ ثقہ ہے۔ 

 

📗 رجال ابن داود - ابن داوود الحلي - الصفحة ٢٧٠

 

شیخ علی نمازی فرماتے ہیں 

 

واستدلوا لوثاقته بأمور: أن العلامة صحح طريق الصدوق إلى الحسين بن سعيد وفيه هذا الرجل

 

اس کی وثاقت پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ علامہ حلی نے شیخ صدوق کی حسین بن سعید الاھوازی تک سند کو صحیح قرار دیا ہے اور سند میں یہ راوی موجود ہے ۔

 

📗 مستدركات علم رجال الحديث - الشيخ علي النمازي الشاهرودي - ج ٣ - الصفحة ١١١

 

3- حسین بن سعید الاھوازی

 

قال الشيخ (231): " الحسين بن سعيد بن حماد بن سعيد بن مهران الأهوازي: ، ثقة، روى عن الرضا وأبي جعفر الثاني، وأبي الحسن الثالث عليهم السلام

 

شیخ طوسی نے فرمایا حسین بن سعید الاھوازی ثقہ ہیں اور انہوں نے امام الرضا ع ، امام ابی جعفر الثانی ع اور امام ابی الحسن ثالث ع سے روایت کی ہے 

 

📗 معجم رجال الحديث - السيد الخوئي - ج ٦ - الصفحة ٢٦٦

 

علامہ باقر مجلسی نے انکو ثقہ قرار دیا ہے ۔

 

٥٥٥- الحسین بن سعید الاھوازی ، ثقة 

 

📗 رجال مجلسی - صفحة ١٩٥

 

علامہ حلی نے انکو قسم اول میں شمار کیا ہے اور انکی توثیق کی ہے ۔

 

📗 خلاصة القوال - صفحة ١١٤

 

4- نضر بن سوید

 

قال النجاشي " نضر بن السويد الصيرفي: كوفي، ثقة، صحيح الحديث، إنتقل إلى بغداد

 

شیخ نجاشی نے کہا نضر بن سوید کوفی، ثقہ اور صحیح الحدیث ہیں , وہ بغداد منتقل ہوئے ۔

 

وقال الشيخ: (771): " النضر بن سويد، له كتاب، أخبرنا به جماعة، عن أبي جعفر بن بابويه، عن ابن الوليد، عن الصفار، عن محمد بن عيسى عنه

 

شیخ طوسی نے کہا نضر بن سوید کی کتب ہیں جو مجھے تک فلاں سند سے پہنچی ہیں ۔

 

وعده في رجاله من أصحاب الكاظم عليه السلام ، قائلا: " نضر بن سويد، له كتاب، وهو ثقة

 

شیخ طوسی نے انکو امام موسیٰ کاظم ع کے اصحاب میں شمار کرتے ہوئے لکھا ہے نضر بن سوید انکی کتاب ہے اور یہ ثقہ ہیں ۔

 

📗 معجم رجال الحديث - السيد الخوئي - ج ٢٠ - الصفحة ١٦٦

 

علامہ باقر مجلسی نے انکی توثیق کی ہے 

 

١٩٨٤- النضر بن سوید ، ثقة

 

📗 رجال مجلسي - صفحة ٣٣١

 

علامہ محمد جواہری نے انکو ثقہ قرار دیا ہے 

 

النضر بن سوید : ثقة - له کتاب 

 

📗 المفید من مجعم الرجال الحدیث - صفحة ٦٤٠

 

5- ہشام بن سالم - انکی جلالت کسی سے مخفی نہیں اور نا ہی انکے تعارف کی کوئی ضرورت ہے ۔

 

وعده الشيخ المفيد في رسالته العددية، من الرؤساء والاعلام، المأخوذ منهم الحلال والحر --- ام، والفتيا والاحكام، الذين لا يط --- عن عليهم بشئ، ولا طريق إلى ذم واحد منهم.

 

شیخ مفید نے اپنے رسالے عددیہ میں انکا شمار فقہاء ، اعلام ، رؤسا میں کیا ہے کہ جن سے حلال و حر ---- ام کے فتوے و احکام لیے جاتے ہیں جن پر کوئی ط -- عن نہیں ہے اور ان میں سے کسی کی مذمت پر کوئی راستہ نہیں ہے ۔

 

قال النجاشي: " هشام بن سالم الجواليقي، روى عن أبي عبد الله وأبي الحسن عليهما السلام. ثقة ثقة، له كتاب يرويه جماعة.

 

شیخ نجاشی فرماتے ہیں ہشام بن سالم ،انہوں نے امام صادق ع اور امام موسیٰ کاظم ع سے روایت کی ہے ، یہ ثقہ ثقہ ہیں 

 

📗 معجم رجال الحديث - السيد الخوئي - ج ٢٠ - الصفحة ٣٢٥

 

شیخ ابن غضائری سے منسوب کتاب میں بھی انکی توثیق موجود ہے کہ جس کی جرح سے کوئی نہ بچ پایا۔

 

6- سلیمان بن خالد 

 

سليمان بن خالد بن دهقان بن نافلة کان قارئا فقيها وجها، روى عن أبي عبد الله وأبي جعفر عليهما السلام ۔ وخر -- ج مع زيد، ومات في حياة أبي عبد الله عليه السلام فتوجع لفقده، ودعا لولده، وأوصى بهم أصحابه

 

نجاشی نے کہا سلیمان بن خالد یہ قاری ، فقیہ ، نامور تھے انہوں نے امام باقر ع اور امام جعفر ع سے روایت کی ہے ، یہ امام زید رض کے ساتھ شامل تھے ۔ یہ امام جعفر ع کی زندگی میں دنیا سے رخصت ہوئے تو آپ کو اس کا دکھ ہوا اور انکی اولاد کے لئے دعا کی اور اپنے اصحاب کو انکے متعلق وصیت کی ۔

 

وثقه الشيخ المفيد - قدس سره - في الارشاد في باب ذكر الامام بعد أبي عبد الله جعفر بن محمد عليهما السلام (فصل في النص عليه بالإمامة من أبيه عليهما السلام).

 

شیخ مفید نے الارشاد میں امام جعفر ع کے بعد کے امام کے باب میں انکی توثیق کی ہے ( انکو راز دار ، صالح ، ثقہ اور فقہاء اصحاب میں شمار کیا ہے ) 

 

📗 معجم رجال الحديث - السيد الخوئي - ج ٩ - الصفحة ٢٥٦