بنو امیہ کا قبر نبوی اور بیت زھراء ع میں امام حسن ع کی تدفین سے منع کرنا : 

 

علامہ ابن حبان ، اپنی کتاب ثقات ج 1 میں لکھتے ہیں 

 

امام حسن ع نے اپنے بھائی حسین ع کو وصیت کی : جب میرا انتقال ہو جائے تو میرے والد (نبی کریم ع) کے ساتھ میری قبر کھودنا ، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر علی اور فاطمہ ع کے گھر ( روضہ انور سے متصل ) اور یہ بھی نہ ہو، تو پھر بقیع میں ، البتہ اس تدفین کے بارے میں زیادہ شور و غل (مباحثہ) نہ کرنا ، پس انھوں ربیع الاول 51 ھ میں وصال کیا، جبکہ معاویہ کے دور حکومت کو دس برس گز چکے تھے اور ان یعنی امام حسن ع کی عمر 49 برس تھی، ان کی نماز جنازہ سعید بن عاص نے پڑھائی ، انھیں حسین ع نے آگے کیا اور فرمایا : آگے بڑھو کہ اگر حاکم کو مقدم کرنے کی سنت نہ ہوتی، تو میں تمھیں ہرگز امامت کے لئے آگے نہ کرتا۔ پھر امام حسین ع نے حکم دیا کہ ان کے لئے علی و فاطمہ ع کے گھر میں قبر کھودی جائے تو یہ بات کس طرح بنو امیہ تک پہنچ گئی چنانچہ وہ لوگ ہتھیاروں کے ساتھ آن پہنچے اور بولے : اللہ کی قسم ! ہم قبروں کو مساجد نہیں بننے دیں گے، پس امام حسین ع نے بنو ہاشم میں ندا کی ، تو وہ لوگ بھی ہتھیاروں کے ساتھ آن پہنچے ، پھر کسی نے امام حسین ع کو ان کے بھائی کی وصیت یاد دلائی : میری تدفین کے معاملے میں شور و غل ( مباحثہ و نزاع ) نہ کرنا ، چنانچہ امام حسن ع کے کئے بقیع میں قبر کھود دی گئی اور وہاں تدفین ہوئی ، اس بہترین مقام میں آپ ع پر سلام ہو 

 

۔

 

 

علامہ مزی ، تہذیب الکمال ۔ ج 2 ۔ ص 151 میں لکھتے ہیں : 

 

امام حسن ع کی وفات قریب تھی،تو انھوں نے امام حسین ع کو وصیت فرمائی : اگر خون ریزی کا اندیشہ نہ ہو تو پھر مجھے میرے والد یعنی رسول اللہ ع کے قریب دفن کرنا، لیکن اگر تمھیں خون ریزی کا خوف ہو تو ہھر ہرگز میرے معاملے میں خون نہ بہانا، بلکہ مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں ہی دفن کر دینا ۔ راوی کہتے ہیں : جب امام حسن ع کا وصال ہوگیا تو تدفین کے معاملے میں نزاع پیدا ہونے کے بعد امام حسین ع بھی مسلح ہو کر تشریف لائے اور اپنے غلاموں کو جمع کر لیا ، پس حضرت ابی ہرہرہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میں آپ ع کو آپ کے بھائی کی وصیت یاد دلاتا ہوں ، اور یہ گروہ تو آپ کو بغیر خون ریزی کے ایسا ہرگز نہیں کرنے دے گا، تو حضر ابی ہریرہ مسلسل یہی کہتے رہے حتی کہ امام حسین ع نے رجوع فرمایا: پھر انھوں نے امام حسن ع کو بقیع فرقد میں لے جا کر دفن کیا

 

 راوی کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ نے کہا : تمھاری کیا رائے ہے اگر موسی ع کا بیٹا اپنے والد کے ساتھ دفن کرنے کے لئے لایا جاتا تو اسے روک دیا جاتا ، تو کیا ایسا کرنے والے ظالم نہیں ہوتے ؟ تو لوگوں نے کہا : جی ضرور ہوتے ، آپ نے فرمایا : یہ حسن ع بھی تو رسول اللہ ع کے بیٹے ہیں ، جو اسی لئے لائے گئے تھے تاکہ انھیں اپنے بابا جان کے پہلو میں دفن کیا جائے لیکن ظالموں نے ایسا نہیں ہونے دیا ۔ 

 

انتخاب و ترجمہ : 

 

سید حسنی الحلبی