Back to امام حسن (علیہ السلام)

معاویہ نے امام حسن (علیہ السلام) کو کیوں شہید کرایا ؟

معاویہ نے امام حسن (علیہ السلام) کو کیوں شہید کرایا ؟

 

معاویہ جانتا تھا کہ امام حسن (علیہ السلام) کے ہوتے ہوئے آسانی کے ساتھ اپنے ناپاک اہداف تک نہیں پہنچ سکتا اور خلافت کو اموی خاندان کے حوالہ نہیں کرسکتا کیونکہ صلح نامہ میں لکھا گیا تھا کہ معاویہ اپنے بعد کسی کو خلیفہ نہیں بنا سکتا اور وہ اس کام کو مسلمانوں کے سپرد کردے ۔

 

اس لئے معاویہ نے امام حسن علیہ السلام) کو اپنے راستہ سے ہٹانے اور یزید فاسد کو تخت سلطنت پر بٹھانے کے لئے ایک اور غلط کام انجام دیا ، اس نے امام حسن علیہ السلام کو شہید کرایا لیکن اس کے عواقب سے بچنے کے لئے مخفی طور پر زہر کے ذریعہ آپ کو شہید کرایا ۔

 

شیعہ اور اہل سنت کے اکثر علماء کے مطابق معاویہ نے امام حسن (علیہ السلام) کی زوجہ جو کہ اشعث بن قیسکی بیٹی تھی، کو پیغام بھیجا کہ اگر وہ حسن بن علی (علیہ السلام) کو زہر دیدے گی تو وہ اس کی شادی اپنے بیٹے یزید سے کردے گا ۔ 

 

معاویہ نے ""جعدہ بنت اشعث"" کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے ایک لاکھ درہم بھی اس کو بھیجے ۔ جعدہ بنت اشعث نے قبول کرلیا کہ وہ امام حسن مجتبی (علیہ السلام) کو شہید کردے گی (اگر چہ معاویہ نے اس کی شادی یزید سے نہیں کی) ۔

 

مشہور مورخ ابوالفرج اصفہانی نے لکھا ہے : معاویہ اپنے بیٹے یزید کے لئے لوگوں سے بیعت لینا چاہتا تھا ، لیکن امام حسن مجتبی اور سعد بن ابی وقاص اس کے لئے رکاوٹ بنے ہوئے تھے ، اس لئے معاویہ نے ان دونوں کوزہر دلایا ۔

 

افسوس کی بات یہ ہے کہ جب امام حسن (علیہ السلام) کی شہادت کی خبر شام پہنچی تو معاویہ اور اس کے دوسرے دوست بہت خوشحال ہوئے اور انہوں نے سجدہ کیا ۔

 

بہرحال اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ معاویہ اپنے ناپاک اہداف تک پہنچنے کے لئے کوشش کرتا تھا کہ تمام رکاوٹوں کو اپنے راستہ سے ہٹادے اور ""آل امیہ کی موروثی حکومت "" کے لئے راستہ ہموار کردے ، ان اہم رکاوٹوں میں سے ایک رکاوٹ امام حسن (علیہ السلام) تھے ۔