امام حسن ع کی شہادت پر معاویہ کا خوشی اور سجدہ شکر کرنا
*امام حسن ع کی شہادت پر معاویہ کا خوشی اور سجدہ شکر کرنا*
ابن خلكان نے وفيات الأعيان، ميں لکھا ہے کہ:
📝 جب معاویہ کو امام حسن (ع) کی شہادت کی خبر ملی تو اس نے اتنی بلند آواز سے تکبیر کہی کہ اس کے سبز محل سے اس کی آواز کو سنا گیا اور شام کے لوگوں نے بھی اس کی پیروی کرتے ہوئے تکبیر کہی۔
معاویہ کی بیوی فاختہ بنت قریظہ نے معاویہ سے کہا کہ تم بہت خوش نظر آ رہے ہو کیا ہوا ہے کہ اس طرح سے تکبیر کہہ رہے ہو ؟
معاویہ نے کہا حسن ابن علی قتل ہو گیا ہے۔
فاختہ نے کہا کہ کیا تم فاطمہ کے بیٹے کے مرنے پر تکبیر کہہ رہے ہو ؟
معاویہ نے کہا خدا کی قسم اس کے مرنے نے میرے دل کو اتنا خوشحال کیا ہے کہ میں خوشی سے تکبیر کہہ رہا ہوں۔
ابن عباس معاویہ کے پاس آیا تو معاویہ نے اس سے کہا کہ
جو واقعہ تمہارے خاندان میں پیش آیا ہے کیا تمہیں اس کی کوئی خبر ہے ؟
ابن عباس نے کہا مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہوا ہے لیکن تم بہت ہی خوشحال نظر آ رہے ہو اور میں نے تمہاری تکبیر کہنے اور سجدہ شکر ادا کرنے کے بارے میں بھی سنا ہے۔
معاویہ نے کہا: حسن دنیا سے چلا گیا ہے۔
ابن عباس نے تین مرتبہ کہا خداوند ابو محمد پر رحمت کرے
پھر معاویہ سے کہا کہ خدا کی قسم اے معاویہ اس کا قبر میں جانا تمہیں قبر سے رہائی نہیں دے گا اور اس کی عمر کا کم ہونا تیری عمر کو زیادہ نہیں کرے گا۔ اگر ہم امام حسن کے ساتھ محشور ہو جاتے ہیں تو گویا ہم پرہیز گاروں اور رسول خدا کے ساتھ محشور ہوئے ہیں اور خداوند اس دوری کی تلافی اور اس غم کو سکون کی حالت میں بدلے گا اور اس کے بعد خداوند ہمارے لیے اپنے جانشین کو انتخاب کرے گا۔
.
📚 ابن سمعون البغدادي، أبو الحسين محمد بن أحمد بن إسماعيل بن عنبس (متوفی387هـ)، أمالي ابن سمعون، ج1، ص165،
📚 ربيع الأبرار، زمخشري، ج1، ص438، باب الموت و ما يتصل به من ذكر القبر،
📚 الانصاري التلمساني، محمد بن أبي بكر المعروف بالبري (متوفی644هـ) الجوهرة في نسب النبي و أصحابه العشرة، ج1، ص282،
📚 إبن خلكان، ابو العباس شمس الدين أحمد بن محمد بن أبي بكر (متوفی681هـ)، وفيات الأعيان و انباء أبناء الزمان، ج2، ص66، تحقيق احسان عباس، ناشر: دار الثقافة – لبنان.
🔴 امام حسن علیہ السلام کی شہادت کی خبر سن کر معاویہ کا شکرانہ کا سجدہ
📕 احمد بن علی قلقشندی، جو اہل سنت کے شافعی عالم اور علمِ انساب کے بڑے علامہ تھے، یہ نقل کرتے ہیں کہ معاویہ نے امام حسن علیہ السلام کی شہادت کی خبر سن کر شکر کا سجدہ کیا:
📒 "اور کہا جاتا ہے کہ جب معاویہ کو ان (امام حسن علیہ السلام) کی وفات کی خبر پہنچی تو اس نے شکر کا سجدہ کیا۔"
📚 مآثر الإنافة فی معالم الخلافة، ج1، ص106، ط عالم الکتب
📒 اور کہا جاتا ہے کہ معاویہ جب ان (امام حسن علیہ السلام) کی وفات کی خبر کو پہنچا تو اس نے شکرانہ کا سجدہ بجا لایا۔
📒 اب کتاب کے مؤلف "احمد بن علی القلقشندی" کے بارے میں:
📕 احمد بن علی بن احمد الفزاری القلقشندی ثم القاہری: ایک مؤرخ، ادیب اور محقق تھے۔ قلقشندہ (قریہ قلیوبیہ، قاہرہ کے قریب، جسے یاقوت نے قرقشندہ کہا ہے) میں پیدا ہوئے۔ وہ حکومت میں نمایاں ہوئے اور قاہرہ میں وفات پائی۔ وہ علمی خاندان سے تھے اور ان کے آبا و اجداد میں جلیل القدر علماء گزرے ہیں۔
📚 الاعلام للزرکلی، ج1، ص177، ط دار العلم للملایین
📒 ابو العباس احمد بن علی بن احمد الجمالی الفزاری القلقشندی ثم القاہری الشافعی، جو صبح الأعشی کے مصنف ہیں، 821 ہجری میں وفات پائی۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔ وہ علمِ انساب کے بڑے علامہ تھے۔
📚 طبقات النسابین، ص151، ط دار الرشد
#تعلیمات_اہلبیت
#طالب_دعا
مزید مطالعہ کریں شہادت مولا حسن ع پر معاویہ کا خوشی کرنا 👇
Gallery
Tap any image to view full screen