امام حسنؑ کے جنازے پر تیر
امام حسنؑ کے جنازے پر تیر
امام حسنؑ کے جنازے پر تیر
امام حسنؑ کے جنازے پر تیر
امام حسنؑ کے جنازے پر تیر
امام حسنؑ کے جنازے پر تیر
امام حسنؑ کے جنازے پر تیر
امام حسنؑ کے جنازے پر تیر
امام حسنؑ کے جنازے پر تیر
امام حسنؑ کے جنازے پر تیر

🔴 *امام حسنؑ کے جنازے پر تیر*

 

جب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام شہید ہو گئے تو امام حسین علیہ السلام نے انکو غسل دیا کفن پہنایا- جب آپ کا جنازہ لے کر اس ارادہ سے چلے کہ رسول خدا (ص) کے پہلو میں دفن کر دیں تو بنی امیہ کی ایک جماعت مزاحم ہوئی اور مرواں لعین نے بڑھ کر کہا:

یہ کیسے ممکن ہے کہ عثمان تو مدینہ کی سرحد پہ دفن ہو اور حسن رسول (ص) کے پاس، یہ ہرگز نہ ہوگا- میں تلوار کے زور سے روکوں گا۔

 

ابن عباس آگے بڑھے او دیر تک اس بارے میں جھگڑا رہا۔ بنی ہاشم بگڑے ہوۓ تھے قریب تھا کہ تلوار چل جاۓ- پس امام حسین علیہ السلام نے بنی ہاشم کو روکا اور مروان لعین سے فرمایا:

 

جھگڑا نہ کر۔ ہم یہاں دفن نہ کریں گے لیکن جنازہ کو بقصد زیارت اپنے نانا کی قبر کے پاس لے جائیں گے وہاں سے اپنی جد ماجدہ جناب فاطمہ بنت اسد (سلام الله علیھا) کی قبر کے پاس لے جا کر دفن کریں گے اپنے بھائی کی وصیت کے مطابق۔ اگر نبی کریم کے پاس دفن کرنے کی وصیت کرتے تو تیری کیا مجال تھی کہ روک سکتا لیکن وہ اپنی قبر کی حرمت کو جانتے تھے اور انہیں منظور نہ تھا کہ انکی قبر کو اکھاڑا جاۓ۔

 

مروان اس پر بھی راضی نہ ہوا اور اس نے حکم دیا کہ جنازہ پر تیر برساؤ۔

 

چنانچہ اکہتر تیر مظلوم امامؑ کے جسم اقدس میں پیوست ہوۓ- یہ تھا اس وقت کا اسلام-

 

مروی ہے کہ جب امام حسن علیہ السلام کا جنازہ بغرض زیارت قبر نبی کی طرف لے کر چلے تو حضرت عائشہ خچر پر سوار ہو کر مع چالیس آدمیوں کے نکل آئیں اور کہنے لگیں کیا تم میرے گھر میں داخلہ کا ارادہ رکھتے ہو؟ ( آنحضرت کی قبر ان ہی کے حجرہ میں تھی) میں اس کا اپنے گھر آنا پسند نہیں کرتی جس کو میں دوست نہیں رکھتی۔

 

📚 مجمع الفضائل، ج2، ص71

 

🔴 تیر باری بر پیکر مطہر امام حسن مجتبیؑ

 

کتاب المزار (منسوب به ابن مشهدی، از بزرگان محدّثین شیعه) میں زیارت امام حسنؑ کے باب میں ایک دعا میں معصومؑ فرماتے ہیں:

 

📜 "وہ شہید کہ جس کا جنازہ تیر سے نشانہ بنایا گیا یہاں تک کہ کفن چھلنی ہو گیا۔"

 

📚 المزار، محمد بن المشهدی، ص 298

📚 بحار الانوار، علامہ مجلسی، ج 99، ص 167

 

اسی طرح ابن شہر آشوب نے اپنی کتاب مناقب میں زمخشری اور ابن عبد ربہ سے نقل کیا ہے (جو آج کے بعض نسخوں سے حذف کر دیا گیا ہے) کہ:

 

📜 "جنازۂ امام حسنؑ کو اس طرح تیر بار کیا گیا کہ تابوت میں ستر تیر پیوست ہو گئے۔"

 

📚 مناقب، ابن شہر آشوب، ج4، ص43

📚 بحار الانوار، ج44، ص157

 

ابن عباس روایت کرتے ہیں:

جب امام حسنؑ کی وفات ہوئی تو امام حسینؑ نے مجھے، عبداللہ بن جعفر کو اور اپنے بیٹے علیؑ کو بلایا، اور امام حسنؑ کو غسل دیا اور ارادہ کیا کہ رسول اللہؐ کے روضۂ مبارک میں دفن کریں۔ لیکن مروان، آل ابوسفیان اور اولادِ عثمان جمع ہو گئے اور مانع بنے۔

وہ کہنے لگے: "عثمان مظلومانہ قتل ہوا اور بقیع میں دفن ہوا، اور حسنؑ کو رسولؐ کے پہلو میں دفن کیا جائے، یہ ہرگز نہیں ہوگا جب تک نیزے اور تلواریں نہ ٹوٹ جائیں اور ترکش کے تیر ختم نہ ہو جائیں!"

 

امام حسینؑ نے فرمایا:

 

> "خدا کی قسم! حسنؑ، جو علیؑ اور فاطمہؑ کے بیٹے ہیں، رسولؐ کے سب سے زیادہ حقدار ہیں ان لوگوں کی نسبت جو ان کے گھر میں بلا اجازت داخل ہوئے اور وہ شخص جس نے ابوذر کو جلاوطن کیا، عمار اور ابن مسعود پر ظلم کیا، مدینہ کی چراگاہ کو اپنی جاگیر بنایا اور رسولؐ کے دھتکارے ہوئے لوگوں کو پناہ دی!"

 

روایات میں آتا ہے کہ مروان ایک خچر پر سوار ہو کر ایک عورت کے پاس گیا اور کہا:

 

> "حسینؑ اپنے بھائی حسنؑ کو رسولؐ کے پہلو میں دفن کرنا چاہتے ہیں، آؤ اور روک دو!"

پھر مروان نے اس عورت کو خچر پر بٹھا کر قبرِ رسولؐ کے پاس لایا اور چیخ چیخ کر بنی امیہ کو بھڑکانے لگا کہ:

"حسنؑ کو یہاں دفن نہ ہونے دو!"

 

ابن عباس کہتے ہیں:

 

> ہم گفتگو میں تھے کہ شور سنائی دیا، دیکھا کہ ایک عورت چالیس سواروں کے ساتھ آ رہی ہے اور لوگوں کو لڑائی پر اکسا رہی ہے۔ جب اس نے مجھے دیکھا تو بلایا اور کہا:

"اے ابن عباس! تم لوگ مجھ پر جری ہو گئے ہو، روز میرا دل دکھاتے ہو، اب کسی ایسے کو میرے گھر میں دفن کرنا چاہتے ہو جسے میں پسند نہیں کرتی!"

میں نے کہا:

"افسوس! کبھی اونٹ پر سوار ہوتی ہو اور کبھی خچر پر، اور چاہتی ہو کہ خدا کے نور کو بجھا دو اور خدا کے دوستوں سے جنگ کرو، اور رسولؐ اور اس کے حبیب کے درمیان رکاوٹ بنو!"

 

پھر وہ عورت قبر کے قریب پہنچی، خچر سے اتر گئی اور چیخ کر کہا:

 

> "خدا کی قسم! جب تک میرے سر پر ایک بال بھی ہے، حسنؑ کو یہاں دفن نہیں ہونے دوں گی!"

 

پھر روایت میں ہے کہ:

 

> "امام حسنؑ کے جنازے پر تیر برسائے گئے، یہاں تک کہ ستر تیر جنازے سے نکالے گئے!"

 

بنی ہاشم کے جوان تلواریں نکال کر لڑائی کے لیے تیار ہوئے، لیکن امام حسینؑ نے فرمایا:

 

> "خدا کا واسطہ ہے کہ میرے بھائی کی وصیت کو ضائع نہ کرو اور خون نہ بہاؤ۔"

پھر فرمایا:

"اگر میرے بھائی کی وصیت نہ ہوتی تو دیکھتے کہ میں کس طرح انہیں رسولؐ کے پہلو میں دفن کرتا اور تمہاری ناکیں خاک میں رگڑ دیتا!"

 

پھر جنازے کو واپس لے جایا گیا اور بقیع میں لے جا کر حضرت فاطمہ بنت اسدؑ (امام حسنؑ کی نانی) کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔

 

📚 منتهی الآمال

 

🔴 علامہ مقدس اردبیلی رضوان اللہ علیہ لکھتے ہیں:

 

یہ بات متواتر طور پر ثابت ہے کہ ایک دن عائشہ خچر پر سوار ہوئیں اور بنی امیہ کو اکسانے لگیں کہ وہ امام حسن علیہ السلام کو رسول خدا ﷺ کی زیارت سے محروم رکھیں، کیونکہ ان کا گمان تھا کہ امام حسین علیہ السلام اپنے بھائی کو رسول خدا ﷺ کے پہلو میں دفن کرنا چاہتے ہیں۔

 

ابن عباس نے اس موقع پر کہا:

 

> تجمّلت تبغّلت و لو عشت تفیّلت

لک التسع من الثّمن و فی الکلّ تصرّفت

 

یعنی:

 

📜 "اے عائشہ! ایک دن تم اونٹ پر سوار ہوئیں، دوسرے دن خچر پر سوار ہوئیں، اگر زیادہ زندہ رہیں تو شاید ہاتھی پر بھی سوار ہو جاؤ گی! تمہیں رسول کے گھر کا آٹھواں حصہ میں سے صرف نوواں حصہ ملتا ہے، لیکن تم نے پورے گھر میں تصرف جمایا ہوا ہے اور امام حسن علیہ السلام کے دفن کو روکا!"

 

پھر امام حسن علیہ السلام کے جنازے پر تیر برسائے گئے، اور ابن عباس سمیت کئی افراد نے بڑی مشکل سے اس فتنے کو ختم کیا۔

 

📚 حدیقة الشیعة

 

#تعلیمات_اہلبیت

#بدر_علی

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10