Back to امام حسن (علیہ السلام)

امام حسن المجتبی (ع) کی جعدہ بنت اشعث سے شادی سے ہمیں کیا سیکھنے کو ملتا ہے؟

امام حسن المجتبی (ع) کی جعدہ بنت اشعث سے شادی سے ہمیں کیا سیکھنے کو ملتا ہے؟

 

امام حسن (ع) کی زوجہ، جعدہ بنت اشعث کہ جس نے امام (ع) کو زہر دے کر شہید کیا، اشعث بن قیس کندی کی بیٹی تھی. 

 

اشعث بن قیس کندی کون تھا؟

 

اشعث نے اپنے دسویں ہجری میں قبیلے (کندہ) والوں کے ساتھ مل کر رسول اللہ (ص) کے حضور حاضر ہوکر اسلام قبول کیا تھا (

 

📚 الاستیعاب و اسد الغابہ

 

اشعث رسول اللہ (ص) کی وفات کے بعد مرتد ہوگیا تھا اور جب اس کو پکڑ کر حضرت ابوبکر کے حضور لایا گیا تو اس نے دوبارہ اسلام قبول کیا 

 

📚 الاستیعاب

 

یہ اشعث ہی تھا کہ جو صفین میں امام علی (ع) کا ساتھ دینے کی بجائے مختلف بہانوں سے پیچھے ہٹ گیا اور معاملہ حکمیت کی طرف آیا اور پھر ابن عباس کی بجائے ابو موسی اشعری کو ثالث مقرر کرنے میں بھی اشعث کا بنیادی کردار تھا.

 

اشعث ہی وہ شخص تھا جس نے امام علی (ع) کو شہید کرنے میں عبد الرحمن ابن ملجم کا ساتھ دیا.

 

المختصر، اشعث بن قیس کندی امام علی (ع) کا دشمن تھا. 

 

اہل سنت نے اپنے معتبر ترین راویوں پر مشتمل دو کتابوں، صحیح بخاری و صحیح مسلم سمیت دیگر کتب احادیث میں اشعث بن قیس سے احادیث نقل کی ہیں.

 

تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امام حسن مجتبی (ع) نے اپنے والد، امام علی (ع) کے دشمن (اشعث) کی بیٹی جعدہ سے شادی کیوں کی؟ 

 

تو اس کا بنیادی جواب یہی ہے کہ اہل البیت/آل محمد (ع) فرد کو دیکھتے تھے، اسکے رشتہ داروں کو نہیں. 

 

باالفاظ دیگر، امام حسن مجتبی (ع) نے جعدہ سے اس لئے شادی نہیں کی کہ وہ انکے والد، امام علی (ع) کے دشمن، اشعث کی بیٹی تھی.

 

ایک اور نکتہ یہ بھی ذہن میں رہے کہ 

 

انبیاء (ع) مثلا نوح (ع) و لوط (ع) کی ازواج بعد میں برائی و کفر کی مرتکب ہوئیں مگر بوقت نکاح انہوں نے یہ گناہ یا جرم سرانجام نہیں دیا تھا.

 

اسی طرح امام حسن (ع) نے جعدہ سے اسکے جرم (بلکہ ہمیشہ جہنم میں رکھنے والے عظیم گناہ) کے سرزرد ہونے سے پہلے شادی کی تھی.

 

سو ہم اس شادی سے 2 نتائج تک پہنچتے ہیں:

 

1- آل محمد/اہل البیت (ع) سے کسی کی رشتہ داری ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہ برگزیدہ ہستیاں (ع) ایسے رشتہ داروں کے کردار و سیرت سے خوش بھی تھے 

 

2- آل محمد/اہل البیت (ع) کسی انسان کے گناہ یا جرم سرزرد کرنے سے پہلے اس کو مجرم یا گناہ گار نہیں ٹھہراتے تھے

 

🖋 منقول

 

تعلیماتِ اہلبیتؑ