♥️ یوم دسترخوان مولا حسن ع کی مناسبت سے ♥️
📜 79/ 10- قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ إِيَاسٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ (عَلَيْهِمَا السَّلَامُ) وَ هُوَ صَائِمٌ، وَ نَحْنُ نَسِيرُ مَعَهُ إِلَى الشَّامِ، وَ لَيْسَ مَعَهُ زَادٌ وَ لَا مَاءٌ وَ لَا شَيْءٌ، إِلَّا مَا هُوَ عَلَيْهِ رَاكِبٌ.
فَلَمَّا أَنْ غَابَ الشَّفَقُ وَ صَلَّى الْعِشَاءَ، فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَ عُلِّقَ فِيهَا الْقَنَادِيلُ، وَ نَزَلَتِ الْمَلَائِكَةُ وَ مَعَهُمْ الْمَوَائِدُ وَ الْفَوَاكِهُ وَ طُسُوتٌ وَ أَبَارِيقُ، فَنُصِبَتِ الْمَوَائِدُ، وَ نَحْنُ سَبْعُونَ رَجُلًا، فَأَكَلْنَا مِنْ كُلِّ حَارٍّ وَ بَارِدٍ حَتَّى امْتَلَأْنَا وَ امْتَلَأَ، ثُمَّ رُفِعَتْ عَلَى هَيْئَتِهَا لَمْ تَنْقُصْ
قبیصہ بن ایاس کہتے ہیں:
📃 میں امام حسن بن علی (علیہ السلام) کے ساتھ تھا، وہ روزے سے تھے، اور ہم ان کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ ان کے پاس نہ کوئی زادِ راہ تھا، نہ پانی اور نہ ہی کوئی سامان، سوائے اس کے جو وہ اپنی سواری پر لے جا رہے تھے۔
جب شفق غروب ہو گیا اور انہوں نے نمازِ عشاء ادا کی، تو آسمان کے دروازے کھول دیے گئے، ان میں قندیلیں لٹکا دی گئیں، اور فرشتے نازل ہوئے۔ ان کے ساتھ دسترخوان، پھل، طشت اور آبریزے تھے۔
دسترخوان بچھا دیے گئے، اور ہم ستر افراد تھے۔ ہم نے ہر قسم کے گرم اور ٹھنڈے کھانوں سے کھایا، یہاں تک کہ ہم سب سیر ہو گئے اور دسترخوان بھی بھرا رہا۔ پھر وہ تمام چیزیں اپنی اصل حالت میں اٹھا لی گئیں، بغیر کسی کمی کے۔
📚 دلائل الامامة ص ٦۴
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
Gallery
Tap any image to view full screen