حضرت قاسم بن حسن علیہ السلام :-
حضرت قاسم ابن حسن علیہ السلام فضیلت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں کہ ان کے جد اعلیٰ، رسول اکرم (ص)، دادا علی المرتضیٰ (ع)، دادی حضرت فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیھا، والد گرامی، فرزند رسول اکرم (ص) امام حسن المجتبیٰ (ع) اور چچا امام حسین علیہ السلام ہیں-
شہزادے نے آنکھ کھولی امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی گود میں جنہوں نے نام نامی قاسم رکھا،
تربیت پائی امام حسین علیہ السلام کے گہوارہ عصمت میں
فنون حرب حاصل کیے اشجع عرب، قمر بنی ہاشم حضرت عباس علمدار بن علی ابن ابیطالب علیہ السلام سے-
شہزادے کے دادا کے نور کا ظہور خانہ کعبہ میں ہوا تھا - والد اور چچا کے نور کا ظہور خانہ رسالت میں ہوا تھا -
حضرت قاسم کی ولادت جس گھر میں ہوئی وہ گھر منزل وحی تھا - قرآن جیسی کتاب حسن و حسین سلام اللہ علیھم کے گھر میں ہی رسول خدا پر نازل ہوئی تھی- حضرت قاسم نے جس گھر میں پرورش پائی، اس گھر میں برسوں فرشتوں کی آمد و رفت رہی تھی یہ وہی گھر تھی جس کے چپہ چپہ پر رسالت، نبوت، امامت، ولایت اور عصمت کا سایہ رہا تھا-
شہزادے نے عالم علم لدنی سے تعلیم حاصل کی تھی - خلق حسنی میراث میں پایا تھا، آپ کی شیریں سخنی لوگوں کو دنگ کر دیتی تھی - بچپن میں پھوپھی زینب سلام اللہ سے دادی فاطمہ الزہرا سلام اللہ کا خطبہ فدک سنا تھا جو شہزادے کو پورا یاد تھا - چچا حسین (ع) سے پردادا حضرت ابوطالب علیہ السلام کے اشعار سنتے تو حافظے میں محفوظ رہ جاتے - کمسنی سے قران حفظ تھا - جب تلاوت قرآن فرمایا کرتے تو لحن داوودی میں آپ کی پرسوز تلاوت کے مشتاق ہو کر لوگ مسجد میں اکٹھے ہو جاتے -
غریبوں اور مسکینوں کی حضرت علی اپنی حیات میں سرپرستی فرمایا کرتے تھے - امام علی علیہ السلام کے بعد یہ روتے امام حسن اور امام حسین سلام اللہ علیھم نے برقرار رکھی - رات کی تاریکی میں امام حسین روٹیوں سے بھری بوریاں لے کر گھر سے نکلتے، اونٹھوں پر بھری ہوئی مشکیں رکھ کر حضرت عباس علمدار ساتھ چلتے - امام حسین کے ایک طرف حضرت علی اکبر اور دوسری طرف حضرت قاسم ہوتے جو غریبوں میں روٹیاں تقسیم کرتے اور اس طرح امام حسین علیہ السلام کا ہاتھ بٹاتے -
حضرت امام حسین علیہ السلام جب مدینہ سے رخصت ہوے تو حضرت قاسم بن حسن کو خواتین کے ساتھ محمل میں سوار کروایا-
شیخ صدوق نے اپنی کتاب ''امالی'' میں مقتل کے نام سے جو باب قائم کیا ہے اس میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت بیان کی ہے-
📜 ''اپنی بہنوں کو، دختر کو اور اپنے بھائی حسن کے فرزند قاسم کو محملوں پر سوار کیا اور اصحاب و اہل بیت کے اکیس مردوں کے ساتھ مدینے سے چل پڑے''
📚 امالی- شیخ صدوق
امام حسین کے در دولت پر ناقے لاے گئے تاکہ خواتین عصمت مآب کو سوار کروایا جائے- کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے حضرت ام فروہ سلام اللہ علیھا کو سوار کروایا گیا - حضرت قاسم نے بیوہ ماں کا بازو تھام کر محمل کا پردہ اٹھا کر محمل میں سوار کروایا -
امام مدینہ سے سفر کر کے جب مکہ میں جلوہ افروز ہوے تو حاجیوں نے دریافت کیا کہ جب ہر سال آپ حج کے لئے تشریف لاتے ہیں تو قربانی کے جانور ہمراہ لاتے ہیں، کیا اس بار منیٰ میں قربانی نہیں کریں گے؟
امام اس وقت مسند پر تشریف فرما تھے - آپ نے حضرت علی اکبر اور حضرت قاسم کو آواز دی- دونو شہزادے آ کر آپ کے پہلو میں کھڑے ہو گئے- امام نے ان کے بازو تھام کر اہل مکہ سے خطاب فرمایا کہ :
یہ ہیں میری اس سال کی قربانیاں - اس سال میں منیٰ مکہ میں نہیں بلکہ منیٰ کربلا میں اپنی قربانیاں پیش کروں گا-
📚 سوانح حضرت قاسم ابن حسن علیہ السلام - علامہ ضمیر اختر نقوی
ایک واقعہ نقل ہوا ہے کہ
ملک آزربائجان میں ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا جس کا نام فضل بن عامر تھا۔ مسلمان ہو گیا اور اس کا ایک ہی بیٹا تھا۔ وہ ایک دن شکار پہ گیا اس کے گھوڑے کو ٹھوکر لگی وہ گھوڑے سے گِرا اور اُس کی گردن ٹوٹ گئی تو وہ مَر گیا۔اُس کی لاش جب اُس کے باپ کے پاس آئی تو وہ جوان بیٹے کی لاش دیکھ کر بہت رویا اور بعد میں اُس نے اوپر کپڑا ڈال دیا اور اپنے دربار کے سارے مولوی بُھلا لئے اور اُن سے کہا کے تم جو کہتے ہو کہ " عُلماء انبیا کے وارث ہوتے ہیں"عیسیٰ نبی تھا اور مُردے زندہ کرتا تھا تم بھی میرے بیٹے کو زندہ کرو۔ 24 گھنٹے کی مہلت دیتا ہوں۔ ورنہ آج سب مرنے کے لئے تیار ہو جائو۔ یہ کہہ کر بادشاہ تو چلا گیا اور سارے مولوی آ گئے وزیر کے پاس۔ وزیر کا نام فوقیس بن سلامہ ہے۔ وزیر سے کہنے لگے کہ تو ہی سمجھا بادشاہ کو کہ ہم ایک مرے ہوئے کو نہیں زندہ کر سکتے۔ وزیر گیا بادشاہ کے پاس اور کہا کہ یہ کام ان مولویوں کے بس کا نہیں یے تم ان سب کو قیامت تک کی مہلت بھی دے دو تب بھی یہ ایک مکھی تک زندہ نہیں کر سکتے۔ بادشاہ نے کہا میرا ایک ہی بیٹا تھا وہ بھی مَر گیا تو اب کیا میں بے نسل ہو جائوں؟
وزیر نے کہا رسولِ خدا مردے زندہ کرتے تھے لیکن وہ دنیا سے جا چکے ہیں اور اُن کے بعد اُن کا وصی علی بن ابوطالب بھی مردے زندہ کرتا تھا اور وہ بھی دنیا سے جا چُکا یے۔ بادشاہ نے غصے میں کہا تو پھر کون کرے گا میرے بیٹے کو زندہ؟
وزیر نے کہا علی ؐ نے کہا تھا کہ امام ؐ وہ ہوتا ہے جس کی ٹھوکروں میں موت و حیات ہو اور سُنا ہے کہ اُس کا بیٹا مولا حسن ؐ ہے جو امام ہے وہ بھی مُردے کو زندہ کرتا ہے۔ بادشاہ نے کہا تو جائو اور حسن کو لے آئو۔ وزیر نے کہا کہ اگر میں تیز رفتار گھوڑا لے کر نکلتا ہوں تو 2 ماہ بعد مدینہ پہنچ جائوں گا۔
بادشاہ نے غسے میں کہا 2 ماہ تیرے جانے کے اور پھر 2 ماہ تیرے واپس آنے کے ٹوٹل 4 ماہ تب تک تو اس کی لاش گَل سَڑ جائے گی۔ بادشاہ نے کہا اے وزیر تجھے بھی 24 گھنٹے کی مہلت دیتا ہوں 24 گھنٹے کے اندر حسن کو یہاں لے آ ورنہ تو بھی مرنے کو تیار ہو جا۔
وزیر کا گھوڑا تیار کیا گیا اور وزیر مدینہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ ابھی وہ شہر سے باہرہی نکلا تھا کہ خیال آیا میرے بیوی بچے تو بادشاہ24 گھنٹے بعد مار دے گا۔ وہ گھوڑے سے اترا سر سجدے میں رکھ دیا اور مولا حسن ؐ کو پکارنے لگا۔ ابھی سر سجدے میں ہی تھا اُس کا کہ کسی نے پائوں کی ہلکی سی ٹھوکر ماری اور کیا اُٹھ۔
وزیر نے سر سجدے سے اُٹھایا اور پوچھا آپ کون؟ آنے والے نے جواب دیا جسے تو مدد کے لئے پُکار رہا ہے میں وہی حسن ابن علی ؐ ہوں۔
وزیر کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔قدموں کو چوم کر کہنے لگا مولا آپ نے آ کر بڑا احسان کیا مجھ پر میرے بیوی اور بچوں کو بچا لیا آپ نے۔ مولا اب جلدی چلیں اور بادشاہ کوآپ کے آنے کی خوشخبری دیں۔ وزیر کہنے لگا کہ مولا آپ گھوڑے پہ سوار ہو جایئں اور میں پیدل چلتا ہوں۔ مولا نے فرمایا میں چشمِ زدن میں مدینہ سے یہاں آ سکتا ہوں تو کیا میں دربار میں نہیں جا سکتا؟ تُو آنکھیں بند کر، مولا نے کہا اب کھول، وزیر نے دیکھا کہ سامنے بادشاہ کا دربار تھا۔
وزیر نے جا کر خبر دی بادشاہ سمیت سب نے بہت اچھا استقبال کیا مولا کا۔ بادشاہ نے مولا کو آرام کرنے اور بعد میں کھانا کھانے کی گزارش کی لیکن مولا نے کہا پہلے اپنے مُردہ بیٹے کو لے آو۔ لاش کو مولا کے سامنے لا کر رکھ دیا گیا۔
مولا حسن نے مُردے کو پائوں کی ٹھوکر ماری اور کہا " کُم بے ازنی" اُٹھ میرے حکم سے!
بادشاہ کا مُردہ بیٹا زندہ ہو گیا۔
بادشاہ بہت خوش ہوا اور مولا حسن کا شکریہ ادا کرتا رہا۔ مولا نے 3 دن تک بادشاہ کے ہاں قیام کیا اور جب واپس آنے لگے تو بادشاہ نے مولا حسن سے کہا کہ مولا ویسے تو آپ کی شان کے مطابق آپ کو دینے کے لئے میرے پاس کچھ نہیں مگر ایک بیٹی ہے میری، رملہ نام ہے اُس کا مولا اُسے اپنی کنیزی میں قبول کر لیں؟
مولا حسن بادشاہ نے کہا کنیزی میں نہیں میں عقد کروں گا اپنا حرم بناوں گا۔ نکاح پڑھا گیا، مولا اپنے گھر آ گئے، خدا نے ایک بیٹی دی، نام بیٹی کا مولا نے فروا رکھا، اس سے بی بی رملہ کی کنیت ہو گئی امِ فروا۔
ایک دن بی بی اُمِ فروا مولا حسن کے پاس آئیں سر جُھکائے کھڑی ہیں، مولا نے دیکھا اور پوچھا اے اُمِ فروا لگتا ہے کچھ کہنا چاہتی ہیں آپ؟ بی بی نے کہا مجھے بیٹا چایئے۔
مولا نے جواب کہا اچھا ٹھیک ہے اللہ سے التجا کریں گے کہ وہ ہمیں بیٹا دے۔ بس بی بی نے یہ سُنا اور کہا جو چشمِ زدن سے پہلے مدینہ سے آزربائجان آ کر میرے مُردہ بھائی کو زندہ کر سکتا ہے کیا وہ مجھے ابھی بیٹا کیوں نہیں دے سکتا؟
مولا نے کہا اچھا ابھی بیٹا چاہئے " اُدنیِ منی" میرے قریب آو۔ بس ید اللہ کے بیٹے نے بی بی کے ماتھے( پیشانی) پہ ہاتھ پھیرا۔ بی بی کو تین قسم کے نور نے بی بی کو گھیر لیا سرخ نور، سبز نور، سفید نور۔ اور مولا نے کہا "حجرے میں جا قاسم لے آ۔ "
اب یہ بات تو تھوڑی سی عقل رکھنے والا بھی سمجھ سکتا ہے کہ کوئی کسی کو کہے کہ کمرے میں جا اور گلاس لے آ۔ مطلب یہ ہوا کہ گلاس کمرے میں پہلے سے پڑا ہے۔
یعنی کہ اِدھر صحن میں کھڑے ہو کر بی بی اُمِ فروا نے بیٹا مانگا اور اُدھر مولا حسن ؐ کے ایک اشارے پر اللہ نے آسمان سے مولا قاسم ؐ کو حجرے میں نازل کر دیا۔
حوالہ کتاب:
1۔ کشف الیقین فی اسرارِ المعصومین
مُولف: علامہ ابو الحسن علی بن محمد موسوی بحرانی
2۔ اُرا تلعیون
مُولف: علامہ جلالُ الدین نیشاپوری
3۔ انوا القلوب
مُولف: علامہ ابراہیم بحرانی
Gallery
Tap any image to view full screen