📜 عن أبي سعيد الخدري قال: رأيت الحسن بن علي (ع) وهو طفل والطير تظله، ورأيته يدعو الطير فتجيبه.(1)
عن محمد بن إسحاق: كان الحسن والحسين (ع) طفلين يلعبان, فرأيت الحسن وقد صاح بنخلة, فأجابته بالتلبية, وسعت إليه كما يسعى الولد إلى والده.(2)
عن كثير بن سلمة, قال: رأيت الحسن (ع) في حياة رسول الله (صلى الله عليه وآله) قد أخرج من صخرة عسلاً ماذياً, فأتيت رسول الله فأخبرته, فقال: أتنكرون لإبني هذا؟! إنه سيد ابن سيد, يصلح الله به بين فئتين, ويطيعه أهل السماء في سمائه, وأهل الارض في أرضه.(3)
📃 ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں: "میں نے حسن بن علی (علیہما السلام) کو بچپن میں دیکھا، پرندے ان پر سایہ کیے ہوئے تھے، اور میں نے دیکھا کہ وہ پرندوں کو بلاتے، اور وہ ان کی پکار پر لبیک کہتے۔"
محمد بن اسحاق روایت کرتے ہیں: "حسن اور حسین (علیہما السلام) دو بچے کھیل رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ حسن (علیہ السلام) ایک کھجور کے درخت کو بلاتے ہیں، تو وہ ان کی پکار پر جواب دیتا ہے اور ان کی طرف ایسے دوڑتا ہے جیسے بچہ اپنے والد کی طرف دوڑتا ہے۔"
کثیر بن سلمہ بیان کرتے ہیں: "میں نے حسن (علیہ السلام) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں دیکھا کہ انہوں نے ایک چٹان سے تازہ شہد نکالا۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس کی خبر دی۔ تو آپ نے فرمایا: ’کیا تم میرے اس بیٹے کے بارے میں تعجب کرتے ہو؟ بے شک وہ سید ہے، سید کا بیٹا ہے۔ اللہ اس کے ذریعے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا، اور آسمانوں میں رہنے والے اس کی اطاعت کریں گے جیسے زمین والے اس کی اطاعت کریں گے۔‘"
📚 (1) دلائل الإمامة ص 166، نوادر المعجزات ص 228، الدر النظيم ص 502، مدينة المعاجز ج 3 ص 232۔
📚 (2) دلائل الإمامة ص 164، مدينة المعاجز ج 3 ص 231، نوادر المعجزات ص 100۔
📚 (3) دلائل الإمامة ص 165، مدينة المعاجز ج 3 ص 231۔
📑 بدر علی
#بدر_علی #التماس_دعا #talimaat_e_ahlbait #تعلیمات_اہلبیتؑ #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد