امام حسن علیہ السلام کا مروان لعنتی سے مکالمہ
مروان بولا اے حسن تم قریش کے لوگوں کو گالیاں دیتے ھو؟
آپ نے فرمایا پھر تیرا کیا ارادہ ھے ؟
مروان نے کہا خدا کی قسم میں تمہیں اور تمہارے باپ اور تمہارے گھر بھر کو وہ گالیاں دوں گا کہ کنیزیں اور غلام اسے گیت بنا لیں گے
امام حسن علیہ السلام نے فرمایا اے مروان مگر نہ میں نے تجھے گالی دی ھے اور نہ تیرے باپ کو گالی دی ھے بلکہ اللہ تعالی نے اپنے نبی حضرت محمدؐ کی زبان سے تجھ پر لعنت کی ھے ، تیرے باپ پر لعنت کی ھے ، تیرے گھروالوں پر تیری ذریت پر اور تیرے باپ کے صلب سے جو لوگ تا قیامت پیدا ھوں گے ان سب پر لعنت کی ھے
خدا کی قسم اے مروان رسول پاکؐ کی اس لعنت سے جو انہوں نے تجھ پراور تیرے باپ پر کی تھی نہ تو انکار کرسکتا ھے اور نہ وہ لوگ انکار کر سکتے ھیں جو اس وقت یہاں موجود ھیں
اور اے مروان اللہ تعالی نے جو تجھے ڈرایا اس سے تیری سرکشی اور بڑھ گئی چنانچہ اللہ تعالی اور اس کے رسولؐ بے سچ کہا ھے کہ( اور جب ہم نے آپ سے کہا کہ آپ کا پروردگار تمام انسانوں کو گھیرے ہوئے ہے اور ہم نے نہیں قرار دیا اس منظر کو جو ہم نے آپ کو دکھایا تھا مگر آزمائش کا ذریعہ اور اسی طرح اس درخت کو جو قرآن میں موردلعنت ہے اور ہم انہیں خوف دلاتے ہیں مگر وہ ان میں اضافہ نہیں کرتا سوا بڑی سرکشی کے ) (سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 60)
اے مروان سن حسب ارشاد رسولؐ شجرہ ملعونہ فی القرآن سے تو اور تیری ذریت مراد ھے
معاویہ بھی وھاں بیٹھا ھوا تھا وہ فورا" اٹھا اور آگے بڑھ کر امام حسن علیہ السلام کے منہ پر ھاتھ رکھ دیا اور بولا بس بس اے ابو محمد ؐ آپ کبھی فحش گو نہ تھے
اس کے بعد امام حسن علیہ السلام نے اپنا لباس سمیٹا اٹھے اور باھر نکل آئے اور وہ مجلس بھی منتشر ھو گئی لوگ غیظ حزن میں بھرے ھوئے اور سیا روئی کے ساتھ متفرق ھوگئے
حوالہ جات
1۔ تذکرۃ الخوص سبط ابن جوزی ص 114-116
2۔ احتجاج طبرسی ص 137-143
3۔ بحارالانوار جلد دھم ص 319
نوٹ :
حکم بن عاص لعنتی اور مروان لعنتی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت فرمائی ھے اس کا تذکرہ ابن حجر مکی نے اپنی کتاب اصابہ فی تمیزاصحابہ میں بھی کیا ھے نیز اس کا ذکر استیعاب فی معرفتہ الااصحاب و اسدالغابہ و طبقات ابن سعد میں بھی ھے