اسماء بنت عمیس کہتی ہیں: جب امام حسن علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ تشریف لائے اور فرمایا:
"اے اسماء! میرے بیٹے کو لاؤ۔"
میں نے انہیں زرد کپڑے میں لپیٹ کر پیش کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے اسے ہٹا دیا اور فرمایا:
"اے اسماء! کیا میں نے تمہیں یہ نہیں کہا تھا کہ نومولود کو زرد کپڑے میں نہ لپیٹو؟"
پھر میں نے سفید کپڑے میں لپیٹ کر پیش کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے امام حسن علیہ السلام کو لیا، ان کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی، پھر حضرت علی علیہ السلام سے پوچھا:
"تم نے میرے اس بیٹے کا کیا نام رکھا ہے؟"
حضرت علی علیہ السلام نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں آپ سے پہلے نام کیسے رکھ سکتا ہوں؟"
تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: "میں بھی اپنے رب سے پہلے نام نہیں رکھ سکتا۔"
اسی وقت جبرائیل نازل ہوئے اور کہا:
"علی اعلیٰ تمہیں سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: علی تمہارے لیے وہی مقام رکھتا ہے جو ہارون کا موسیٰ کے لیے تھا، مگر تمہارے بعد کوئی نبی نہیں۔ پس اپنے اس بیٹے کا نام ہارون کے بیٹے کے نام پر رکھو۔"
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے پوچھا: "اے جبرائیل! ہارون کے بیٹے کا نام کیا تھا؟"
جبرائیل نے عرض کیا: "اس کا نام شبر تھا۔"
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: "میری زبان عربی ہے۔"
جبرائیل نے عرض کیا: "پس اس کا نام حسن رکھو۔"
📚 مستدرک الوسائل، ج 15
۔
۔
عن حذيفة بن اليمان قال:
”بينا رسول الله إذ أقبل الحسن بن علي يمشي على هدوء ووقار،
فنظر إليه رسول الله فقال:
”إن جبرئيل يهديه وميكائل يسدده وهو ولدي والطاهر من نفسي، وضلع من أضلاعي، هذا سبطي وقرة عيني، بأبي هو“
قال رسول الله صل الله عليه وآله وسلم في ولده الحسن المجتبى عليه آلسلآم :
«إنه سيكون بعدي هادياً مهدياً، هذا هدية من رب العالمين لي ينبئ عني، ويعرِّف الناس آثاري، ويحيي سنتي، ويتولى أموري في فعله،
ينظر الله إليه فيرحمه، رحم الله من عرف له ذلك، وبرَّني فيه وأكرمني فيه»
ترجمہ:
حذیفہ بن یمان سے روایت ہے:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے، تو امام حسن بن علی علیہما السلام وقار اور سکون کے ساتھ چلتے ہوئے آئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا:
"بے شک جبرائیل انہیں ہدایت دے رہے ہیں اور میکائیل ان کی تائید کر رہے ہیں، وہ میرا بیٹا ہے، میری جان کا پاکیزہ حصہ ہے اور میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے۔ یہ میرا نواسہ اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، میرے ماں باپ اس پر قربان ہوں!"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے فرزند امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
"وہ میرے بعد ہادی اور مہدی ہوں گے۔ یہ رب العالمین کی طرف سے میرے لیے ایک ہدیہ ہے، یہ میری نیابت کرے گا، لوگوں کو میری نشانیوں سے آگاہ کرے گا، میری سنت کو زندہ کرے گا، اور میرے امور کو اپنے عمل سے سنبھالے گا۔ جب اللہ اس کی طرف نظر کرے گا تو اس پر رحم فرمائے گا۔ اللہ اس شخص پر بھی رحم کرے جو اس کے حق کو پہچانے، اس کے ذریعے میری برکت کو مانے، اور اس کی عزت کرے!"
📚 بحار الأنوار، علامہ مجلسی، جلد 43، صفحہ 263
📑 بدر علی
#بدر_علی #التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ
#talimaat_e_ahlbait
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد