جو کام حسن بن علی (ع) نے کیا، وہ اس امت کے لیے اس سے بہتر تھا جس پر سورج طلوع ہوتا ہے
امام محمد باقر (ع) نے فرمایا:
قسم ہے اُس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!
جو کام حسن بن علی (ع) نے کیا، وہ اس امت کے لیے اس سے بہتر تھا جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔
اور اللہ کی قسم! یہ آیت:
> {ألم تر إلى الذين قيل لهم كفوا أيديكم وأقيموا الصلاة وآتوا الزكاة}
(کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روک لو، نماز قائم کرو اور زکوٰة دو)
یہ صرف امام کی اطاعت کے بارے میں تھی۔
مگر انہوں نے قتال کا مطالبہ کیا۔
پھر جب اللہ نے ان پر قتال فرض کیا
(یعنی امام حسین (ع) کے ساتھ)، تو کہنے لگے:
> {ربنا لم كتبت علينا القتال لولا أخرتنا إلى أجل قريب}
(اے ہمارے رب! تُو نے ہم پر جنگ کیوں فرض کی؟ کاش تُو نے ہمیں تھوڑی مہلت دی ہوتی!)
> {نجب دعوتك ونتبع الرسل}
(تاکہ ہم تیری دعوت قبول کریں اور تیرے رسولوں کی پیروی کریں)
یعنی وہ یہ سب کچھ مؤخر کرنا چاہتے تھے یہاں تک کہ قائم (ع) کا ظہور ہو۔
📚 الكافي ج8 ص330، بحار الأنوار ج44 ص25، العوالم ص95، تفسير العياشي ج1 ص258، تفسير نور الثقلين ج1 ص518، تفسير كنز الدقائق ج2 ص540، إلزام الناصب ج1 ص53
ابو سعيد روایت کرتے ہیں:
میں نے حسن بن علی بن ابی طالب (ع) سے عرض کی:
اے رسول خدا (ص) کے فرزند! آپ نے معاویہ سے مصالحت کیوں کی، حالانکہ آپ جانتے تھے کہ حق آپ کا ہے اور معاویہ گمراہ اور باغی ہے؟
تو امام حسن (ع) نے فرمایا:
تم مجھ سے ناراض ہو اپنے جہل کی وجہ سے، کیونکہ تم اس (صلح) میں چھپی ہوئی حکمت کو نہیں سمجھے۔
اگر میں یہ کام نہ کرتا تو ہمارے شیعوں میں سے ایک بھی زمین پر زندہ نہ بچتا، سب قتل کر دیے جاتے۔
📚 علل الشرائع ج1 ص211، بحار الأنوار ج44 ص1، الطرائف ج1 ص196