Back to امام حسن (علیہ السلام)

امام حسن علیہ السلام کے پاس یار و مددگار موجود تھے اور وہ جنگ کر سکتے تھے، تو پھر انہوں نے جنگ کیوں نہیں کی؟

امام حسن علیہ السلام کے پاس یار و مددگار موجود تھے اور وہ جنگ کر سکتے تھے، تو پھر انہوں نے جنگ کیوں نہیں کی؟
امام حسن علیہ السلام کے پاس یار و مددگار موجود تھے اور وہ جنگ کر سکتے تھے، تو پھر انہوں نے جنگ کیوں نہیں کی؟
امام حسن علیہ السلام کے پاس یار و مددگار موجود تھے اور وہ جنگ کر سکتے تھے، تو پھر انہوں نے جنگ کیوں نہیں کی؟
امام حسن علیہ السلام کے پاس یار و مددگار موجود تھے اور وہ جنگ کر سکتے تھے، تو پھر انہوں نے جنگ کیوں نہیں کی؟
امام حسن علیہ السلام کے پاس یار و مددگار موجود تھے اور وہ جنگ کر سکتے تھے، تو پھر انہوں نے جنگ کیوں نہیں کی؟
امام حسن علیہ السلام کے پاس یار و مددگار موجود تھے اور وہ جنگ کر سکتے تھے، تو پھر انہوں نے جنگ کیوں نہیں کی؟
امام حسن علیہ السلام کے پاس یار و مددگار موجود تھے اور وہ جنگ کر سکتے تھے، تو پھر انہوں نے جنگ کیوں نہیں کی؟

ایک ناسبی نے سوال کیا ہے

 

❓کہ امام حسن علیہ السلام کے پاس یار و مددگار موجود تھے اور وہ جنگ کر سکتے تھے، تو پھر انہوں نے جنگ کیوں نہیں کی؟ 

 

✅ جواب 

 

ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے واقعی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے یا یونہی بے بنیاد باتیں بنا رہے ہیں؟ 

 

کیونکہ خود آپ کی تاریخ میں آیا ہے کہ امام حسن علیہ السلام کو صلح پر مجبور کیا گیا، اور وہ بھی اس وجہ سے کہ ان کے ساتھی اب مزید جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے اور ان میں شہادت کی طلب باقی نہیں رہی تھی۔ تو پھر آپ کس لشکر اور کس یار و مددگار کی بات کر رہے ہیں؟

 

ابن اثیر نے اس بارے میں کہا ہے: 

 

📜 جب معاویہ بن ابی سفیان نے امام حسن بن علی (علیہ السلام) کو صلح کی پیشکش کی، تو لوگوں نے بڑی گرم جوشی سے اسے قبول کیا۔ امام حسن (علیہ السلام) نے ایک خطبے میں اپنے لشکر کو معاویہ کی پیشکش سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:

 

📜 "آگاہ رہو! معاویہ ہمیں ایسی بات کی طرف بلا رہا ہے جس میں نہ تو ہماری عزت ہے اور نہ ہی انصاف۔ اگر تم لوگ شہادت کی روح رکھتے ہو، تو ہم اس کی پیشکش کو رد کر دیتے ہیں اور تلواروں کی دھار پر اسے اللہ کے حضور لے جاتے ہیں۔ لیکن اگر تم دنیا کی زندگی چاہتے ہو، تو ہم اس کی بات مان لیتے ہیں اور تمہاری رضا کے لیے صلح کر لیتے ہیں۔"

 

جب امام (ع) کی بات یہاں تک پہنچی، تو ہر طرف سے لوگوں نے آواز بلند کی: 👈🏼 "ہمیں بقا چاہیے، ہمیں زندگی چاہیے!"

پس جب سب نے ساتھ چھوڑ دیا، تو امام (علیہ السلام) نے صلح قبول کر لی۔

 

📚 اسد الغابہ، جلد 2، صفحہ 19

 

نہ صرف آپ کی تاریخ نے آپ کے سوالات کا جواب دے دیا ہے، بلکہ آپ کے بڑے بڑے علما بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام جب اس حقیقت سے آگاہ ہوئے کہ ان کے پاس کوئی یاور نہیں بچا، تو وہ تقیہ اور مجبوری کے تحت صلح پر آمادہ ہوئے۔ یعنی امام حسن علیہ السلام نے، 

👈🏼 آپ کے علما کے اعتراف کے مطابق، تقیہ کیا، نہ یہ کہ وہ دل سے اس امر پر راضی تھے۔

 

مثال کے طور پر امام نووی، جنہیں "مفتی الامہ" کہا جاتا ہے، اور جن کی کتاب "المجموع" شافعی فقہ کی بہترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے، وہ یہاں یہ بیان کرتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام نے خلافت سے کیوں کنارہ کشی اختیار کی؟

 

وہ لکھتے ہیں:

 

📜 أو علم أنه لا ناصر له ولا معين فخلع نفسه تقية

 

📃 یا انہیں یہ علم ہو گیا کہ ان کے لیے کوئی مددگار یا یاور نہیں ہے، تو انہوں نے تقیہ کرتے ہوئے خلافت سے دستبرداری اختیار کی۔

 

📚 المجموع شرح المہذب، ج 19، ص 194

مصنف: امام نووی (متوفی 676 ہجری)

 

تو نتیجہ یہ نکلا کہ اہل سنت کے عالم نے دو باتیں بیان کیں جو وھابیوں کے دعووں کا رد ہیں:

 

1. پہلا اعتراض یہ تھا کہ امام حسن کے پاس لشکر تھا

 

جبکہ امام نووی کہتے ہیں: "علم أنه لا ناصر له" یعنی "امام حسن کو معلوم تھا کہ ان کے پاس کوئی یاور نہیں ہے"۔

جب خود امام حسن جانتے تھے کہ ان کے پاس کوئی مددگار نہیں بچا، تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ان کے پاس لشکر تھا؟

 

2. دوسرا سوال یہ تھا کہ امام حسن نے خروج کیوں نہیں کیا؟ 

 

اس کا جواب واضح ہے:

 

جب امام خود "تقیہ" کر رہے تھے اور جان چکے تھے کہ یاور موجود نہیں اور خلع صلاح کیا گیا، تو کیا آپ کے وہابی فکری اصولوں میں کوئی شخص جسے خلع صلاح کر دیا گیا ہو اور جو بے یار و مددگار ہو، وہ خروج کر سکتا ہے؟

لہٰذا اہل سنت کے ایک جلیل القدر عالم خود کہتے ہیں کہ امام حسن نے تقیہ کیا

 

📚 بدر علی

 

🔴 علم امام

 

👳🏿‍♂ ناسبی: امام حسن علیہ السلام جانتے تھے کہ معاویہ اور بعد میں یزید کیا ظلم کریں گے، تو پھر اگر انہیں علم غیب تھا تو انہوں نے ان کو عذاب کیوں نہیں دیا اور قصاص کیوں نہیں کیا؟

 

✅ جواب مولوی محمد عمر سربازی سے:

 

علامہ محقق محمد عمر سربازی جو اہل سنت کے جید علماء میں شمار ہوتے ہیں، اور مولوی عبدالحمید اور دیگر بزرگ علماء کے استاد تھے، نے اپنے کتاب خلاصہ التصوف میں اس سوال کا جواب اس طرح دیا:

 

🔹 مسئلہ پنجم: "جان لو کہ اکابر علماء نے فرمایا ہے کہ ولی پر اپنی کرامت کو چھپانا فرض ہے، سوائے اس صورت میں جب اس کا ظاہر کرنا ضروری ہو، یا علم غیب سے اسے اس کی اجازت دی جائے، یا بغیر کسی اختیار کے ہو، یا اس کا مقصد طلب حق کے طالب اور مرید کے عقیدہ کو مضبوط کرنا ہو، تو ایسی صورت میں ظاہر کرنا جائز ہے۔"

 

📚 خلاصہ التصوف صفحہ 187، مصنف: علامہ محقق محمد عمر سربازی

 

👆👆 خود لکھتے ہیں کہ ولی پر اپنی کرامت کو چھپانا فرض ہے جب تک کہ علم غیب سے اس کا ظاہر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ ہم بھی اس قاعدے کے تحت کہتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام کو اس وقت اجازت نہیں دی گئی، اور ان کے لیے مصلحت یہی تھی کہ وہ خاموش رہیں۔

 

#بدر_علی 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

#talimaat_e_ahlbait #PlzLikeandFollowthePage #SharePost #Plz_like_my_page #share #SHAREIT #ShareThisPost

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7