🔴 رسول خدا (ص) کا سخت الفاظ میں معاویہ پر لع/نت کرنا:
طبری نے اپنی کتاب تاریخ طبری میں نقل کیا ہے:
📜 وقد رآه مقبلا علی حمار ومعاویة یقود به ویزید ابنه یسوق به،
📃 ابو سفیان گدھے پر سوار تھا، معاویہ نے اسکی لگام پکڑی ہوئی تھی اور ابو سفیان کا بیٹا یزید گدھے کو پیچھے سے ہانک رہا تھا۔
▪️طبری نے اس مطلب کو نقل کرنے کے بعد رسول خدا کے قول کو نقل کیا ہے کہ:
📜 لعن الله القائد والراکب والسائق،
📃 خداوند اسکو کہ جو گدھے پر سوار ہے، اور اسکو کہ جو گدھے کے آگے ہے اور اسکو کہ جو گدھے کے پیچھے ہے، لع-نت کرے، یعنی رسول خدا نے تینوں پر لع-نت کی ہے۔
📚 تاریخ الطبری، اسم المؤلف: لأبی جعفر محمد بن جریر الطبری، ج 5، ص 622، باب ذکر الخبر عما کان فیها من الأحداث الجلیلة
▪️اسی طرح اہل سنت کی معتبر کتاب المختصر فی أخبار البشر میں ابو الفداء نے اسی روایت کو ذکر کیا ہے:
📜 أبا سفیان مقبلاً ومعاویة یقوده، ویزید أخو معاویة یسوق به، فقال: " لعن الله القائد والراکب والسائق "
📚 المختصر فی أخبار البشر، المؤلف: أبو الفداء عماد الدین إسماعیل بن علی ج 2، ص 57، باب خلافة أبی العباس
▪️ اسی طرح کتاب مجمع الزوائد میں ہیثمی نے تحریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
فمر رجل علی بعیر،
👈 ہیثمی نے بنی امیہ کے ساتھ وفا داری نبھاتے ہوئے، روایت سے ابو سفیان، معاویہ اور یزید کے نام کو حذف کر کے لفظ " رجل " کو ذکر کیا ہے۔
📜 کان جالسا فمر رجل علی بعیر وبین یدیه قائد وخلفه سائق فقال لعن الله القائد والسائق والراکب،
ہیثمی نے روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ:
✅ رواه البزار ورجاله ثقات،
📚 مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، اسم المؤلف: علی بن أبی بکر الهیثمی، 1407، ج 1، ص 113، باب منه فی المنافقین
▪️اسی طرح طبرانی نے کتاب معجم الکبیر میں بھی انہی الفاظ کو ذکر کیا ہے:
📜 أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللَّهُ علیه وسلم قال لَعَنَ اللَّهُ السَّائِقَ وَالرَّاکبَ أَحَدُهُمَا فُلانٌ قَالا اللَّهُمَّ نعم،
📚 المعجم الکبیر، اسم المؤلف: سلیمان بن أحمد بن أیوب أبو القاسم الطبرانی، دار النشر: مکتبة الزهراء - الموصل - 1404 - 1983، الطبعة: الثانیة، تحقیق: حمدی بن عبدالمجید السلفی، ج 3، ص 71، ح 2698
▪️ اسی طرح کتاب أنساب الأشراف میں بلاذری نے بھی ذکر کیا ہے کہ:
📜 فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی عَلَیهِ وَسَلَّمَ: لَعَنَ اللَّهُ الْحَامِلُ وَالْمَحْمُولُ وَالْقَائدُ وَالسَّائِقُ،
📚 جمل من أنساب الأشراف، المؤلف: أحمد بن یحیی بن جابر بن داود البَلَاذُری ، ج 5، ص 129، ح 372
▪️ابو بکر احمد ابن ہارون خلال متوفی 311 ہجری کہ جو عالم بزرگ اہل سنت ہے، اس نے اپنی کتاب السنۃ میں عبید الله ابن موسی سے روایت کو نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
ہم راستے پر چلتے ہوئے جا رہے تھے کہ:
📜 فحدث فی الطریق فمر حدیث لمعاویة فلعن معاویه ولعن من لا یلعنه،
📃 ہم راستے پر جا رہے تھے کہ معاویہ کا ذکر ہوا، ہم نے معاویہ پر لع-نت کی اور جو اس پر لع-نت نہیں کرتا، ہم نے اس پر بھی لع-نت کی۔
پھر لکھا ہے کہ:
📜 أنه کان معه فی طریق مکة فحدث بحدیث لعن فیه معاویة،
📃 مکہ کے راستے میں حدیث کو ذکر کیا گیا کہ رسول خدا نے معاویہ پر لع-نت کی ہے،
📜 فقال نعم لعنه الله ولعن من لا یلعنه،
📃 راوی کہتا ہے، ہاں خدا نے بھی اس پر لع-نت کی ہے اور جو اس (معاویہ) پر لع-نت نہیں کرتا، اس پر بھی خدا کی لع-نت ہو۔
✅ إسناده حسن،
✅ اس روایت کی سند حسن (معتبر) ہے۔
📚 السنة، المؤلف: أحمد بن محمد بن هارون بن یزید الخلال أبو بکر، ج 3، ص 505، ح 808
منقول
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen