معاویہ نے ایسی حکومت قائم کی تھی کہ اس کی بنیاد ہی علی عليه السلام کو گالیاں دینے پر کھڑی تھی
🔴 لعن و سبّ أمير المؤمنين عليه السلام
امير المؤمنين حضرت علي عليه السلام پر جو بڑا ظلم روا رکھا گیا وہ ان پر کی جانے والی گا/لیاں اور بدگوئیاں ہیں۔ اس زشت، خلافِ دین اور خلافِ اخلاق روش کی بنیاد رکھنے والا کوئی اور نہیں بلکہ معاویہ بن ابی سفیان ہے، جسے بعض جا/ہل یا معاند لوگ "خال المؤمنین" کہہ کر اس کے اعمال کی عظمت بیان کرتے ہیں۔
وہ شخص ہے جس نے اپنی نمازوں کے بعد چاہے جمعہ ہو یا غیر جمعہ اور منبر پر خطاب کرتے ہوئے علی عليه السلام کو برا بھلا کہا اور یہاں تک کہ دور دراز کے شہروں میں بھی دوسرے خطیبوں کو حکم جاری کیا کہ وہ خدا کے سب سے بہتر بندے کو گا/لیاں دیں
🟥 حموی اہل سنت کے دانشور کہتے ہیں:
📜 علی بن ابی طالب عليه السلام مشرق و مغرب کے تمام منبروں پر سب و لع/ن کیے جاتے تھے، یہاں تک کہ دو مقدس شہروں ایک ان کی جائے ولادت اور دوسرا جہاں وہ نبی ﷺ کے ساتھ ہجرت کر کے آئے یعنی مدینہ میں بھی منبروں پر ان پر لع-نت بھیجی جاتی اور برائی کی جاتی تھی۔
📚 معجم البلدان: ۳/۱۹۱، و ۵/۳۸
🟥 زمخشری اور سیوطی اہل سنت کے دو بڑے علماء کہتے ہیں:
📜 بنو امیہ کے دور میں ایک ہزار سے زائد منبروں پر علی عليه السلام کو لع-نت کی جاتی تھی اور اس بری سنت کی بنیاد معاویہ نے رکھی تھی۔
📚 ربیع الأبرار زمخشری: ۲/۱۸۶
، النصائح الكافية لمحمد بن عقيل: ۷۹
❓کیوں اتنی گالیاں؟!
⁉️ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے جو ہر غیرت مند مسلمان کے دل کی گہرائیوں سے نکلتا ہے:
❓کیا علی بن ابی طالب عليه السلام نبی کریم ﷺ کے
❓اصحاب اور یاران میں سے نہیں تھے؟
❓کیا وہ نبی ﷺ کے خلفاء و جانشینوں میں شمار نہیں ہوتے؟
❓کیا وہ نبی ﷺ کے داماد اور ان کی دخترِ گرامی کے شوہر نہیں تھے؟
❓ کیا وہ نستجیر باللہ مسلمان نہیں تھے؟
❓ کیا نبی ﷺ نے نہیں فرمایا کہ کسی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے
📜 سباب المسلم فسوق
📚 صحیح بخاری: ۱۷۱ ح ۴۸، کتاب الایمان — باب خوف المؤمن من أن يحبط عمله۔
📚 صحیح مسلم: ۱/۵۸، باب قول النبي ﷺ: «سباب المسلم فسوق»
❓ پھر علی عليه السلام پر سب و لعن کو شرعی اور قانونی حیثیت کیسے حاصل ہو گئی؟
❓ معاویہ نے کیسی حکومت قائم کی تھی کہ اس کی بنیاد ہی علی عليه السلام کی گالیوں پر کھڑی تھی؟
جیسا کہ ابن عساکر نقل کرتے ہیں کہ
📜 «ما كان في القوم أحد أدفع عن صاحبنا من صاحبكم (يعني علياً عن عثمان) قال قلت فما لكم تسبونه على المنبر قال لا يستقيم الأمر إلا بذلك»
📃 مروان نے امام زین العابدین عليه السلام سے کہا: عثمان کے محاصرے کے وقت آپ کے صاحب (یعنی علی عليه السلام) سے زیادہ کسی نے عثمان کی حمایت نہیں کی۔ حضرت نے فرمایا: پھر تم منبروں پر انہیں کیوں گالیاں دیتے ہو؟ مروان نے جواب دیا: ہماری حکومت اسی سے قائم رہتی ہے۔
📚 تاریخ مدینة دمشق لابن عساکر: ۴۲/۴۳۸، الصواعق المحرقة ص ۳۳، النصائح الكافية ص ۱۱۴ عن الدار قطنی، شرح نهج البلاغة: ۱۳/۲۲۰
کیا ہوا تھا تاریخ اسلام میں کہ جب عمر بن عبد العزیز نے لعن علی عليه السلام روکنے کا فیصلہ کیا تو مسجد کے کونوں کھدروں سے لوگ چیخ اٹھے:
📜 ترکت السنة! ترکت السنة!
📃 یعنی تم نے سنت چھوڑ دی!
📜 قال ابن عقيل : إنّ عمر بن عبد العزيز لما ترك تلك البدعة المنكرة ، وهي التطاول علي مقام أمير المؤمنين علي عليه السلام في خطبة الجمعة أرتج المسجد بصياح من فيه بعمر بن عبد العزيز تركت السنة تركت السنة .
📃 ابن عقیل کہتے ہیں: جب عمر بن عبد العزیز نے وہ بری بدعت چھوڑی یعنی جمعہ کے خطبے میں امیر المؤمنین علی عليه السلام کے مقام پر زیادتی تو مسجد شور مچ گیا کہ عمر بن عبد العزیز نے سنت چھوڑ دی، سنت چھوڑ دی۔
📚 العتب الجمیل ص ۷۴-۷۵، النصائح الكافية: ۱۱۶
، تهنئة الصديق المحبوب لحسن بن علی السقاف: ۵۹
، شرح نهج البلاغة لابن ابی الحدید: ۱۳/۲۲۲
❓کوئی یہ سوال کیوں نہیں کرتا کہ علی عليه السلام نے آخر کیا گناہ کیا تھا کہ آپ پر یہ غیر انسانی، ظالمانہ اور خلافِ اسلام رویہ اپنایا جا رہا تھا؟
❓کیا نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ لڑنا گناہ ہے؟
❓کیا کلمہ اسلام کو بلند کرنے کی کوشش کرنا جرم ہے؟
❓کیا اسلام اور قرآن کے دشمنوں کے خلاف جدوجہد کرنا معصیت ہے؟
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen