معاویہ نے خالد بن ولید کی نسل کو کیسے ختم کیا؟
خالد بن ولید کے دو بیٹے تھے، جنہیں سیاست نے ایک دوسرے سے جدا کر دیا، مگر موت نے دونوں کو ایک ہی انجام سے ملا دیا۔
پہلا بیٹا مہاجر بن خالد تھا، جس نے شام کے طلقاء کی صف چھوڑ کر اہلِ بیتِ نبوت و ہدایت کا راستہ اختیار کیا۔ اس نے بصیرت کے ساتھ امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالبؑ کا ساتھ چنا اور جنگِ صفین میں آپؑ کے لشکر میں حق کی خاطر ڈٹ کر جنگ کی۔ وہ علمِ حیدری کے سائے میں ثابت قدمی سے لڑا، یہاں تک کہ میدانِ شرف میں جامِ شہادت نوش کیا اور حق پر قائم رہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوا۔
دوسرا بیٹا عبد الرحمن بن خالد بن ولید تھا، جو اموی حکومت کے ساتھ رہا۔ اس نے ان کی جنگوں میں حصہ لیا، سرحدوں کی حفاظت کی اور اپنی شجاعت کے باعث اہلِ شام میں بے حد مقبول ہو گیا۔ لوگوں نے اس میں اپنے والد خالد بن ولید کی جرأت اور قیادت دیکھی، یہاں تک کہ اس کی مقبولیت عام ہو گئی۔
یہی وہ مرحلہ تھا جب معاویہ کو اپنے اقتدار اور اپنے بیٹے یزید کی جانشینی کے لیے خطرہ محسوس ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ جب اسے اندازہ ہوا کہ اہلِ شام عبد الرحمن کو یزید پر ترجیح دے سکتے ہیں تو اس نے کھلے مقابلے کے بجائے خفیہ تدبیر اختیار کی اور اپنے نصرانی طبیب ابن أثال (ابن اُثال) کے ذریعے اسے زہر دلوایا، جس سے اس کی وفات واقع ہوئی۔
یوں عبد الرحمن بن خالد، جس نے عمر بھر اموی حکومت کی خدمت کی، آخرکار اسی حکومت کی سیاسی مصلحتوں کا شکار بن گیا۔
یہ دونوں واقعات تاریخ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اموی سیاست میں اقتدار کے لیے طاقتور اور بااثر شخصیات کو راستے سے ہٹانے کے مختلف طریقے اختیار کیے گئے۔
1۔ مہاجر بن خالد بن ولید کا امیرالمؤمنینؑ کے ساتھ ہونا اور صفین میں شہادت
وقعة صفين، ص 220، 224 (مختلف مطبوعات)۔
أنساب الأشراف، ج 2، ص 347۔
الإصابة في تمييز الصحابة، ج 6، ص 232 (ترجمۂ مہاجر بن خالد)۔
ان مصادر میں مہاجر بن خالد کا حضرت علیؑ کے لشکر میں ہونا اور جنگِ صفین میں شریک ہونا مذکور ہے۔
2۔ عبد الرحمن بن خالد بن ولید کی مقبولیت
تاريخ الطبري، ج 5، ص 243–245۔
الكامل في التاريخ، ج 3، ص 456–458۔
البداية والنهاية، ج 8، ص 40–41۔
ان کتب میں عبد الرحمن کی شام میں مقبولیت، رومی محاذ پر اس کی فتوحات اور عوامی پذیرائی کا ذکر موجود ہے۔
3۔ معاویہ کی طرف سے زہر دلوانے کی روایت
یہ واقعہ متعدد قدیم مؤرخین نے نقل کیا ہے، اگرچہ بعض نے اسے روایت کے طور پر بیان کیا ہے:
تاريخ الطبري، ج 5، ص 245۔
الكامل في التاريخ، ج 3، ص 458۔
مروج الذهب، ج 3، ص 13–15۔
ان روایات کے مطابق معاویہ نے اپنے نصرانی طبیب ابن أُثال کے ذریعے عبد الرحمن کو زہر دلوایا، کیونکہ اس کی مقبولیت یزید کی ولی عہدی کے لیے خطرہ سمجھی جا رہی تھی۔