Back to معاویہ

کتاب فضیان معاویہ میں ایک من گھڑت حدیث

گالڑ نے اپنی کتاب فضیان معاویہ میں ایک من گھڑت حدیث لکھ ماری لکھتا ہے 

 

حضرت سیدنا شداد بن اوس فرماتے ہیں رسولﷺ نے فرمایا  

 

 معاویة بن بخیل احلم امتی واجودھا

 

میری امت میں معاویہ سب سے زیادہ برد بار اور سخی ہے ( یعنی بکر عمر وغیرہ سے بھی زیادہ 😁)

 

فضیان معاویہ صحفہ ١٧٨

 

گالڑ نے اس باطل روایت پر بالترتیب ان تین کتب کے حوالے دیۓ ہیں 

 

بغیة الباحث للھیثمی۔۔السنة لخلال۔۔لمطالب العالیة للعسقلانی

 

ان میں سے پہلی کتاب بغیة الباحث پر عصر حاضر کے محقق دکتور حسین احمد صالح الباکری نے جو تحقیق کی ہے اس سے ہی صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے وہ لکھتے ہیں

 

فی اسناد بشیر بن زاذان متھم وعمر بن صبح متروک و کذاب ابن راھویہ

 

اسکی سند میں بشیر بن زاذان حدیث گھڑنے میں ملوث ہے اور عمر بن صبح متروک ہے اور امام ابن راھویہ نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے

 

بغیة الباحث ٨٩٢ و٨٩٣ حاشیة ٢ حدیث ٩٦٥

 

امام ابن جوزی اس روایت کو دو سندوں سے لاۓ ہیں 

اور آخر میں لکھتے ہیں 

 

ھذا حدیث موضوع علی رسولﷺ 

یہ حدیث رسولﷺ پر گھڑی ہوئی ہے 

 

الموضوعات لابن الجوزی ٢۔٢٩

 

اس حدیث کے راوی بشیر بن زادان کے بارے دھبی کہتا ہے 

 

امام دارقطنی اور دوسرے محدثین کرام نے اسے ضعیف کہا ہے امام ابن جوزی نے اس پر حدیث گھڑنے کا الزام لگایا ہے اور یحیی بن معین نے کہا ہے 

"لیس بشیء" یہ قابل اعتبار نہیں

 

میزان الاعتدال ٢۔٤١

 

حافظ ابن حجر عسقلانی نے یہ بھی لکھا ہے 

 

قال ابن عدی احادیث لیس لھا نور 

ابن عدی نے کہا ہے اسکی احادیث بے نور ہیں

 

لسان المیزان ٢۔٣٢١

 

علامہ برھان حلبی نے امام ابن جوزی سے مکمل اتفاق کیا ہے 

 

الکشف الحثیث عمن رمی بوضع الحدیث ٧٧۔٧٨

 

اس میں دوسرا راوی عمر بن صبح تمیمی عدوی ہے

 

حافظ ابن حجر عسقلانی کی تھذیب التھذیب مں اسکی تعدیل میں ایک قول بھی منقول نہیں

اسکو کذاب وضاع اور منکر الحدیث کہا گیا ہے 

اور تقریب التھذیب میں ان الفاظ میں خلاصہ پیش کیا گیا ہے 

 

متروک کذابہ اسحاق بن راھویہ 

یہ مےروک ہے اصحاق بن راھویہ نے اسکو جھوٹا قرار دیا ہے 

 

تھذیب التھذیب ٤۔٧٢٦۔ تحریر تقریب التھذیب ٣۔٧٦

 

 ذھبی لکھتا ہے 

لیس بثقة ولامامون قال ابن حبان کان ممن یضح الحدیث 

 

یہ معتبر ہے نہ ہی امین ہے امام ابن حبان نے فرمایا ہے یہ حدیث گھڑتا تھا 

 

میزان الاعتدال ٣۔٢٠٦ و ج ٥۔٢٥٩

 

۔

 

السنة للخلال میں یہ حدیث دو سندوں سے ہے 

پہلی سند میں شداد بن اوس سے ابوقلابہ نے روایت کی ہے لیکن اس سے اسکا سماع ثابت نہیں ہے 

حافظ جمال الدین مزی اور حافظ عسقلانی نے جن صحابہ سے اسکا روایت کرنا ذکر کیا ہے 

اس میں شداد بن اوس کا نام نہیں 

علماء اسماءالرجال سے ابوقلابہ کی ثقاہت تو منقول ہے لیکن اسکے ساتھ یہ بھی منقول ہے 

 

بصری تابعی ثقة وکان یحمل علی علیا 

بصری تابعی اور ثقہ تھا اور سیدنا علی ع کے خلاف بکواس کرتا تھا 

 

معرفت الثقات للعجلی ٢۔٣٠ 

تاریخ الثقات للعجلی ٢٥٧

تہذیب الکمال ١٤۔٥٤٦

تھذیب التھذیب ٣۔٤٨٥

 

السنة للخلال میں دوسری سند وہی ہے جس میں بشیر بن زاذان اور عمر بن صبح ہے اور بغیة الباحث کی سند میں بھی یہی دونوں راوی ہیں اور ان پر پہلے کلام ہو چکا ہے 

 

تیسرا حوالہ المطالب العالیة کا ہے اور اسکی سند میں بھی بشیر بن زاذن موجود ہے نیز اس میں شداد بن اوس صحابی سے مکحول کا روایت کرنا ذکر کیا گیا ہے لیکن عندالمحدثین مکحول کا شداد بن اوس سے سماع ثابت نہیں ہے 

 

چنانچہ محدث عقیلی نے یہ روایت ذکر کرنے کے بعد لکھا 

 

ولایتابع بشیر علی ھذا الحدیث ولا یعرف الابہ 

اس حدیث میں بشیر کی متابعت نہیں کی گئ 

اور اسکے سوا یہ حدیث نہیں جانی گئ

 

کتاب الضعفاء للعقیلی ١۔٢٤٥

لسان المیزان ٢۔٣٢١

 

امام ابن جوزی نے اسکو دو سندوں سے لکھا کر کہا 

 

وفی الطریقین جماعة مجروحون ۔۔۔۔۔الخ 

اس سند کی دونوں طریقوں میں مجروحین کی ایک جماعت ہے میرے نزدیک بشیر بن زاذان اس میں ملوث ہے یا تو اس نے خود ہی اسکو وضع کیا ہے یا اس نے ضعفاء کے متعلق تدلیس(فریب کاری) کی ہے اور سند میں گڑبڑ کر دی 

 

الموضوعات لابن الجوزی ٢۔٣٠

 

مطلب یہ کہ اس روایت کے موضوع ہونے میں تو کوئی شک نہیں لیکن یہ کنفرم نہیں کہ اسکو بنایا بشیر بن زاذان نے ہے یا کسی اور نے 

 

یہاں کوئی شخص امام سیوطی کی اللالی المضوعة کے حوالے سے مغالطہ آفرینی کر سکتا ہے کیونکہ انہوں نے امام ابن جوزی کے مذکورہ بالاالفاظ کے بعد لکھا ہے 

 

قلت فی اللسان قال ابن ابی حاتم سالت ابی عنہ فقال

صالح الحدیث واللہ اعلم 

میں کہتا ہوں لسان المیزان میں ہے ابن ابی حاتم نے کہا میں نے اپنے والد سے اسکے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا وہ صالح الحدیث ہے واللہ اعلم 

 

اللالی المضوعة سیوطی ١۔٤٢٨

 

لیکن یہ فریب کاری نہیں چل سکتی کیونکہ 

" لسان المیزان " کے یہ الفاظ فقط بشیع بن زاذان کے متعلق ہیں جبکہ اسی سند میں بشیر کا شیخ عمر بن صبح بھی موجود ہے اور اسکو کذاب قرار دیا گیا ہے لہذا اصل آفت اسکی طرف سے ہے 

 

محدث ابن عراق الکنانی نے لکھا ہے کہ اس نے خود حدیث گھڑنے کا اعتراف کیا ہےط

 

۔۔۔الشریعة المرفوعة عن اخبار الشیعة الموضوعة ١۔٤٢٨

 

پھر یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جس لسان المیزان سے سیوطی نے بشیر بن زاذان کی تعدیل میں یہ اکلوتا قول نقل کیا ہے اسی میں سات اقوال انکی جرح میں بھی موجود ہیں اور ان اقوال میں اسکو لیس شیء کے ساتھ ساتھ حدیث گھڑنے میں ملوث مدلس اقر مخلط بھی کہا گیا ہے امام عدی کا وہ قول بھی اسی جگہ مزکور ہے جو پہلے نقل کیا جا چکا ہے اسکی روایت بے نور ہے اور امام ابن حبان کا یہ قول بھی موجود ہے 

 

غلب الوھم علی حدیث حتی باطل 

اسکی حدیث پر وہم غالب آ گیا حتی کہ وہ باطل قرار پائیں 

 

لسان المیزان ٢۔٣٢٠۔٣٢١