Back to قرآن

اہل سنت کے نزدیک اللہ نے قرآن کی متشابہ آیات اس لیے نازل کیں تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرے

اہل سنت کے نزدیک اللہ نے قرآن کی متشابہ آیات اس لیے نازل کیں تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرے
اہل سنت کے نزدیک اللہ نے قرآن کی متشابہ آیات اس لیے نازل کیں تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرے
اہل سنت کے نزدیک اللہ نے قرآن کی متشابہ آیات اس لیے نازل کیں تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرے
اہل سنت کے نزدیک اللہ نے قرآن کی متشابہ آیات اس لیے نازل کیں تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرے
اہل سنت کے نزدیک اللہ نے قرآن کی متشابہ آیات اس لیے نازل کیں تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرے
اہل سنت کے نزدیک اللہ نے قرآن کی متشابہ آیات اس لیے نازل کیں تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرے

🔴 قولِ عِکْرِمَة

 

تفسیر طبری میں روایت ہے:

 

📜 حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ مُقَاتِلٍ، عَن عِكْرِمَةَ، قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الْمُتَشَابِهَ مِنَ الْقُرْآنِ لِيُضِلَّ بِهِ النَّاسَ".

 

📃 ابن بشار نے روایت کی، کہا: ہم سے عبدالرحمن نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے روایت کی، ابوہشام سے، انہوں نے مقاتل سے، اور انہوں نے عِکْرِمَہ سے:

 

عکرمہ نے کہا: "بے شک اللہ نے قرآن کی متشابہ آیات اس لیے نازل کیں تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرے۔"

 

📚 تفسیر طبری، ج3، ص188، ط دار هجر

 

⭕ عِکْرِمَہ کا مقام اہل سنت کے نزدیک

 

📜 "عِكْرِمَة البربري… أحد العلماء الربانيين."

 

📃 عکرمہ بربری ربانی علما میں سے ایک تھا

 

📚 تاریخ الإسلام للذهبي، ج3، ص106-107، ط دار الغرب الإسلامي

 

📜 "کان من أعلم الناس بالتفسیر والمغازي."

📃 وہ تفسیر اور مغازی کے سب سے بڑے ماہرین میں سے تھا

 

📚 الأعلام للزرکلی، ج4، ص244، ط دار العلم للملایین

 

صحیح سند روایت 

 

📜 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِیمُ بْنُ یُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ قَالَ: حَدَّثَنَا الْخَصِیبُ بْنُ نَاصِحٍ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ قَالَ: شَهِدْتُ حَمَّادَ بْنَ زَیْدٍ فِی آخِرِ یَوْمٍ مَاتَ فِیهِ فَقَالَ: أُحَدِّثُکُمْ بِحَدِیثٍ لَمْ أُحَدِّثْ بِهِ قَطُّ، وَقَالَ: مَا أُحَدِّثُکُمْ بِهِ إِلَّا أَکْرَهُ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَمْ أُحَدِّثْ بِهِ، سَمِعْتُ أَیُّوبَ یُحَدِّثُ عَنْ عِکْرِمَةَ قَالَ: إِنَّمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مُتَشَابِهَ الْقُرْآنِ لِیُضِلَّ بِهِ.

 

📃 خالد بن خداش کہتے ہیں: میں حماد بن زید کے پاس اُس کے آخری دن گیا جب وہ وفات پا گئے، تو انہوں نے کہا: "میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے کبھی نہیں سنائی۔ میں نہیں چاہتا کہ اللہ سے ملاقات کروں اور یہ حدیث تمہیں نہ بتائی ہو۔ میں نے ایوب کو عکرمہ سے روایت کرتے سنا کہ عکرمہ نے کہا: 

 

📜 بے شک اللہ نے قرآن کی متشابہ آیات اس لیے نازل کی ہیں تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرے۔"

 

📚 الضعفاء الکبیر للعقیلی، ج3، ص374

 

یعنی عکرمہ کے نزدیک قرآن کی متشابہ آیات کا مقصد لوگوں کو گمراہ کرنا تھا (العیاذ باللہ)۔

 

امام ذہبی اس قول پر تعجب کرتے ہیں اور فرماتے ہیں:

"یہ عبارت نہایت بُری ہے، بلکہ اللہ نے اسے اس لیے نازل کیا ہے تاکہ مومنین کو ہدایت دے، اور اس کے ذریعے صرف فاسق لوگ ہی گمراہ ہوتے ہیں، جیسا کہ قرآن نے سورہ بقرہ میں بتایا ہے۔"

 

📚 سیر أعلام النبلاء، ج5، ص33

 

ذہبی "میزان الاعتدال" میں مزید کہتے ہیں:

 

📜 "یہ عبارت نہایت بدترین اور خبیث ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے قرآن اس لیے نازل کیا ہے تاکہ وہ ہدایت دے اور اس کے ذریعے فاسقین کو گمراہ کرے۔"

 

📚 میزان الاعتدال، ج5، ص117

 

⭕ قرآن (سورہ بقرہ، آیت 26) میں ہے:

 

📜 "یُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ"

 

📃 "اللہ اس (مثال) کے ذریعے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت دیتا ہے، اور اس کے ذریعے گمراہ نہیں ہوتے مگر فاسق۔"

 

لہٰذا قرآن کے مطابق صرف فاسق لوگ ہی متشابہ آیات سے گمراہ ہوتے ہیں، لیکن عکرمہ کا دعویٰ اس کے برعکس ہے کہ اللہ نے متشابہ آیات صرف گمراہ کرنے کے لیے نازل کیں۔ (العیاذ باللہ)

 

یہ حالات ہیں انکی صحیح ترین کتب کے راویوں کے

 

⭕ سند روایت

 

▪أیوب بن أبى تمیمة : کیسان السختیانى ، أبو بکر البصرى ، مولى عنزة ، و یقال مولى جهینة :

 

رتبته عند ابن حجر : ثقة ثبت حجة من کبار الفقهاء العباد

رتبته عند الذهبی : الإمام ، قال شعبة : ما رأیت مثله ، کان سید الفقهاء

روى له : خ م د ت س ق ( البخاری - مسلم - أبو داود - الترمذی - النسائی - ابن ماجه)

 

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=746

 

▪حماد بن زید بن درهم الأزدى الجهضمى ، أبو إسماعیل البصرى الأزرق :

 

رتبته عند ابن حجر : ثقة ثبت فقیه

رتبته عند الذهبی : الإمام ، أحد الأعلام ، أضر ، و کان یحفظ حدیثه کالماء ، قال ابن مهدى : ما رأیت أحدا لم یکن یکتب أحفظ منه.

روى له : خ م د ت س ق ( البخاری - مسلم - أبو داود - الترمذی - النسائی - ابن ماجه)

 

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=2491

 

▪ خالد بن خداش بن عجلان الأزدى المهلبى مولاهم ، أبو الهیثم البصرى :

 

رتبته عند ابن حجر : صدوق یخطىء

رتبته عند الذهبی : ضعفه على ، و قال أبو حاتم : صدوق

روى له : بخ م کد س ( البخاری فی الأدب المفرد - مسلم - أبو داود فی مسند مالک – النسائی)

الرتبة : صدوق حسن الحدیث

 

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=2636

 

 ▪الخصیب بن ناصح الحارثى البصرى :

 

رتبته عند ابن حجر : صدوق یخطىء

الرتبة : صدوق حسن الحدیث

 

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=16386

 

▪عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الحکم بن أعین بن لیث المصرى ، أبو القاسم :

 

رتبته عند ابن حجر : ثقة

رتبته عند الذهبی : محدث أخبارى علامة ، قال أبو حاتم : صدوق

 

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=4422

 

▪ إبراهیم بن یوسف بن خالد بن سوید أبو إسحاق الرازی الهسنجانی :

 

الإِمَامُ، الحَافِظُ، المُجَوِّدُ، أَبُو إِسْحَاقَ الرَّازِیُّ، الهِسِنْجَانِیُّ ..... قَالَ أَبُو عَلِیٍّ الحَافِظُ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِیْمُ بنُ یُوْسُفَ الثِّقَةُ المَأْمُوْنُ.

 

📚 سیر اعلام النبلاء،ج14،ص115و116 ط موسسة الرسالة

 

 

▪إبراهیم بن یوسف الرازیّ الهسنجانی، أبو إسحاق: حافظ للحدیث، ثقة.

 

الاعلام للزرکلی،ج1،ص81 ط دار العلم للملایین

 

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=11946

 

#بدر_علی 

#التماس_دعا 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6