🔴 شیعہ آذان
1⃣ روایت ۱ — از الإستبصار از شیخ طوسی
📜 الحسین بن سعید، از النضر بن سوید، از عبدالله بن سنان روایت کرتے ہیں:
میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اذان کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا:
کہو:
الله اکبر، الله اکبر
أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن لا إله إلا الله
أشهد أن محمداً رسول الله صلى الله عليه وآله، أشهد أن محمداً رسول الله صلى الله عليه وآله
حيّ علی الصلاة، حيّ علی الصلاة
حيّ علی الفلاح، حيّ علی الفلاح
حيّ علی خیر العمل، حيّ علی خیر العمل
الله اکبر، الله اکبر
لا إله إلا الله، لا إله إلا الله
📘 کتاب: الاستبصار
✍️ مصنف: شیخ الطوسی
📖 جلد: 1 — صفحہ: 305
2⃣ روایت ۲ — جبرئیل کا اذان کہنا (شبِ معراج)
📜 محمد بن علی بن محبوب، از علی بن السندی، از ابن أبی عمیر، از ابن أذینہ، از زرارة اور فضیل بن یسار، از امام باقر علیہ السلام:
فرمایا:
جب رسول خدا ﷺ کو معراج پر لے جایا گیا اور وہ بیت المعمور پہنچے تو نماز کا وقت ہو گیا۔
جبرئیل علیہ السلام نے اذان اور اقامت کہی۔
پھر رسول خدا ﷺ نے نماز میں امامت فرمائی، فرشتے اور انبیاء علیہم السلام آپ کے پیچھے صف باندھے کھڑے ہوئے۔
ہم نے پوچھا: جبرئیل نے کس طرح اذان دی؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
الله اکبر، الله اکبر
أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن لا إله إلا الله
أشهد أن محمداً رسول الله، أشهد أن محمداً رسول الله
حيّ علی الصلاة، حيّ علی الصلاة
حيّ علی الفلاح، حيّ علی الفلاح
حيّ علی خیر العمل، حيّ علی خیر العمل
الله اکبر، الله اکبر
لا إله إلا الله، لا إله إلا الله
اور اقامت بھی اسی طرح تھی، بس اس میں "قد قامت الصلاة، قد قامت الصلاة" کے الفاظ "حيّ علی خیر العمل" اور "الله اکبر" کے درمیان کہے گئے۔
پھر رسول خدا ﷺ نے بلال کو حکم دیا کہ اسی طرح اذان کہا کرے، اور بلال اسی طرح اذان دیتا رہا یہاں تک کہ اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو اپنے پاس بلا لیا۔
📘 کتاب: تهذيب الأحكام
✍️ مصنف: شیخ الطائفہ (شیخ الطوسی)
📖 جلد: 2 — صفحہ: 60
⭕ آیت اللہ سبحانی کی تصدیق:
آیت اللہ جعفر سبحانی فرماتے ہیں:
✔️ "بسند صحیح" (یہ روایت سنداً صحیح ہے)
📚 کتاب: الاعتصام بالكتاب و السنة
✍️ مصنف: شیخ جعفر سبحانی
📖 جلد: 1 — صفحہ: 27
3⃣ روایت ۳ — از دعائم الإسلام
📜 امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں:
میں نے اپنے والد امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام سے سنا، آپ فرما رہے تھے:
اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ بھیجا، پھر رسول خدا ﷺ کو معراج پر لے جایا گیا۔ وہ فرشتہ جو اس سے پہلے آسمانوں میں کبھی نہیں دیکھا گیا تھا، اور نہ اس کے بعد دیکھا گیا، اُس نے اذان اور اقامت دونوں دوبارہ کہے۔ پھر اُس نے اذان کی کیفیت بیان کی۔ اور جبرئیل علیہ السلام نے نبی ﷺ سے کہا:
"اے محمد! اسی طرح نماز کے لیے اذان کہا کرو۔"
📘 کتاب: دعائم الإسلام
✍️ مصنف: القاضي النعمان المغربي
📖 جلد: 1 — صفحہ: 142
4⃣ روایت ۴ — از کنز العمال
📜 بلال رضی اللہ عنہ فجر (صبح) کی اذان میں کہا کرتے تھے:
"حيّ علی خیر العمل"
📘 کتاب: كنز العمال
✍️ مصنف: المتقي الهندي
📖 جلد: 8 — صفحہ: 342
خلاصہ و توضیح
جیسا کہ ملاحظہ ہوا، اہل سنت کی اذان کے برخلاف "حَيَّ عَلَى خَيْرِ الْعَمَل" کا جملہ اصل اذان میں موجود تھا، مگر بعد میں اہل سنت کی اذان سے حذف کر دیا گیا۔
جبکہ جو عبارت "الصلاة خير من النوم" (نماز نیند سے بہتر ہے) اہل سنت کی فجر کی اذان میں کہی جاتی ہے، وہ کسی صحیح روایت میں موجود نہیں، بلکہ بعد میں اضافہ کیا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ بعض اہل سنت کے رہنماؤں نے بھی اذان میں اس فقرے کے اضافے پر اکراہ ظاہر کیا ہے۔
لہٰذا، شیعہ اذان اپنی اصل و سند کے لحاظ سے زیادہ صحیح اور کامل ہے۔
🔴 بابِ ولایتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام
جہاں تک اذان میں "شہادت بہ ولایتِ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام" کا تعلق ہے، یہ ایک مستحب عمل ہے جس پر شیعہ علماء کا اتفاق ہے۔ یہ اذان کا جزو (فرضی حصہ) نہیں بلکہ استحبابی (فضیلت والا) ذکر ہے۔
علماء فرماتے ہیں کہ مستحبات کے لیے صحیح سند کی ضرورت نہیں ہوتی، لہٰذا اس کا کہنا جائز و مستحب ہے۔
⭕ جیسے کہ کتاب جواهر الكلام میں شیخ محمد حسن النجفی فرماتے ہیں:
📜 "اگر کوئی شخص 'لا إله إلا الله، محمد رسول الله' کہے، تو کہے 'علي أمير المؤمنين'۔
بلکہ آج کے زمانے میں یہ ایمان کی نشانیوں اور تشیع کی علامتوں میں سے ہے۔
لہٰذا شرعاً اس کا کہنا راجح (افضل) ہے، بلکہ کبھی واجب بھی ہو جاتا ہے،
لیکن اذان کے جزو کے طور پر نہیں۔"
📘 کتاب: جواهر الكلام
✍️ مصنف: شیخ محمد حسن النجفی الجواهري
📖 جلد: 9 — صفحہ: 86
⭕ اور روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
"شہادت بہ ولایت امیرالمؤمنین علیہ السلام اذان میں کہنا مستحب ہے، لیکن اذان کے حصے کے طور پر نہیں۔"
صحیح روایتِ زرارہ (از امام باقر علیہ السلام)
امام باقر علیہ السلام سے صحیح سند کے ساتھ زرارہ روایت کرتے ہیں:
📜 "جب بھی نبی ﷺ پر درود بھیجا کرو۔
اور جہاں تک علی علیہ السلام کی ولایت اور امیرالمؤمنین ہونے کی گواہی کا تعلق ہے،
تو یہ اذان یا اقامت کا جزء (حصہ) نہیں ہے۔"
⭕ توضیح آیت اللہ العظمیٰ سید محسن حکیمؒ
آیت اللہ سید محسن حکیمؒ اس روایت کی تصحیح کے بعد فرماتے ہیں:
اس بات پر کسی قسم کا اختلاف یا اشکال نہیں۔
جیسا کہ "من لا یحضره الفقیه" میں حدیثِ حضرمی اور اسدی کے ذکر کے بعد فرمایا:
"یہی اذان صحیح ہے، نہ اس میں کچھ اضافہ کیا جائے اور نہ کمی۔
مفوضہ (یعنی وہ لوگ جو اہل بیتؑ کے بارے میں غلو کرتے تھے، خدا ان پر لعنت کرے)
نے جعلی احادیث گھڑیں، جن میں انہوں نے اذان میں یہ جملہ بڑھایا:
"(محمد و آل محمد خیر البریة)" دو مرتبہ،
اور بعض روایات میں "أشهد أن علیاً ولی الله" دو مرتبہ،
اور بعض میں اس کے بجائے "أشهد أن علیاً أمیر المؤمنین حقاً" دو مرتبہ۔
ان سب میں شک نہیں کہ علیؑ یقیناً ولی الله اور امیر المؤمنین ہیں، اور محمد و آل محمد علیہم السلام خیر البریہ (سب سے بہتر مخلوق) ہیں،
لیکن یہ سب اذان کے اصل حصے میں شامل نہیں ہیں۔
میں نے یہ بات صرف اس لیے ذکر کی تاکہ ان مفوضہ لوگوں کو پہچانا جا سکے
جو خود کو ہمارے درمیان چھپا کر رکھتے ہیں۔"
⭕ شیخ طوسیؒ کے اقوال
شیخ الطائفہ طوسیؒ فرماتے ہیں (کتاب النہایہ میں):
📜 "جو روایتیں شاذ و نادر طور پر منقول ہیں جن میں 'أن علیاً ولی الله'
اور 'آل محمد خیر البریة' کہا گیا ہے،
ان پر اذان و اقامت میں عمل نہیں کیا جاتا۔
جو ایسا کرے وہ غلطی پر ہے۔"
اور المبسوط میں فرماتے ہیں:
📜 "اگر کوئی کہے: 'أشهد أن علیاً أمیر المؤمنین وآل محمد خیر البریة'
جیسا کہ شاذ احادیث میں آیا ہے
تو اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔
ہاں اگر کوئی شخص ایسا کہے تو گناہگار نہیں،
لیکن یہ اذان کی فضیلت یا اس کے فصول کا حصہ نہیں۔"
اور المنتهی میں فرمایا:
"اگر کوئی 'حیّ علی الصلاة' یا 'حیّ علی الفلاح' کو دہرائے تاکہ لوگ زیادہ جمع ہوں تو کوئی حرج نہیں،
لیکن جو اضافہ ہو، وہ اذان کا جزء نہیں۔"
📚 کتاب: مستمسک العروة الوثقى
✍️ مصنف: سید محسن حکیم
📖 جلد: 5 — صفحہ: 544
🔗 lib.eshia.ir/10152/5/544
🔴 ابن تیمیہ کا اعتراف
یہاں تک کہ ابن تیمیہ (اہل سنت کے بڑے عالم) بھی شہادتِ ولایت کو اذان کے اندر موجود سمجھتا ہے اور مانتا ہے کہ یہ زمانۂ رسول ﷺ سے معروف تھی، نئی چیز نہیں تھی۔
ابن تیمیہ اپنی کتاب منهاج السنة النبویة میں (عثمان کے دفاع کے ضمن میں) لکھتا ہے:
📜 "یہ تعجب کی بات ہے کہ رافضی (شیعہ) ایک ایسے کام کا انکار کرتے ہیں ، (جمعے کی 2 اذانیں) جو عثمان نے انصار و مہاجرین کی موجودگی میں کیا، اور ان میں سے کسی نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا۔ مسلمانوں نے بھی جمعے کی اذان میں اسے اپنایا۔
جبکہ شیعہ اذان میں ایک شعار (فقرہ) بڑھا دیتے ہیں
جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں معروف نہ تھا،
اور کسی نے یہ نقل نہیں کیا کہ نبی ﷺ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہو۔
وہ اضافہ جو رافضیوں (شیعوں) نے کیا ہے وہ ہے:
'حيّ علی خیر العمل'
اور اگر یہ بات درست تسلیم کر لی جائے،
تو بعض صحابہ، جیسے ابن عمر رضی اللہ عنہ،
بعض اوقات تاکید کے طور پر یہ جملہ کہا کرتے تھے۔"
📘 کتاب: منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية
✍️ مصنف: ابن تیمیہ
📖 جلد: 6 — صفحہ: 294
⭕ نتیجہ
1. اہل سنت "حيّ علی خیر العمل" کو اذان میں شامل نہیں کرتے،
حالانکہ روایات میں یہ اذان کا حصہ بیان ہوا ہے۔
2. اور اس کے برعکس وہ "الصلاة خیر من النوم" کو اذان کا حصہ مانتے ہیں،
جب کہ یہ رسولِ خدا ﷺ کی سنت میں نہیں تھا۔
حتیٰ کہ ایک بھی معتبر روایت اس کے حق میں موجود نہیں۔
3. بلکہ "الصلاة خیر من النوم" کا اضافہ عمر بن خطاب کی بدعتوں میں سے ہے۔
والسلام۔
Gallery
Tap any image to view full screen