Back to اذان اور نمازِ شیعہ کتب اہل سنت سے

امام زین العابدین علیہ السلام اپنے اذان میں "حَیَّ عَلَی خَیْرِ الْعَمَل" کہا کرتے تھے

امام زین العابدین علیہ السلام اپنے اذان میں "حَیَّ عَلَی خَیْرِ الْعَمَل" کہا کرتے تھے
امام زین العابدین علیہ السلام اپنے اذان میں "حَیَّ عَلَی خَیْرِ الْعَمَل" کہا کرتے تھے
امام زین العابدین علیہ السلام اپنے اذان میں "حَیَّ عَلَی خَیْرِ الْعَمَل" کہا کرتے تھے

📌 اہلِ سنت کی صحیح روایت:

📙 امام زین العابدین علیہ السلام اپنے اذان میں "حَیَّ عَلَی خَیْرِ الْعَمَل" کہا کرتے تھے،

اور فرماتے تھے کہ یہی وہ اصل اذان ہے جو رسولِ خدا ﷺ کے زمانے میں تھی۔

 

📒 روایت:

حدیث میں ہے کہ

📗 جعفر بن محمد (امام صادقؑ) اپنے والد (امام باقرؑ) اور مسلم بن ابی مریم سے نقل کرتے ہیں کہ علی بن حسین (امام سجادؑ) جب اذان دیتے اور "حَیَّ عَلَی الْفَلَاح" تک پہنچتے تو اس کے بعد کہتے: "حَیَّ عَلَی خَیْرِ الْعَمَل"، اور فرماتے: "یہی پہلی (اصلی) اذان ہے۔"

 

📚 ماخذ:

ابن ابی شیبہ الکوفی، المصنف فی الأحادیث والآثار، جلد ۲، صفحہ ۲۷، حدیث ۲۲۵۱،

تحقیق: حمد بن عبد اللہ الجمعہ و محمد بن ابراہیم اللحیدان،

ناشر: مکتبۃ الرشد، 1425ھ / 2004م۔

 

---

 

📙 روایت کی سندی حیثیت (اہل سنت محدثین کے مطابق):

 

۱. ابو بکر بن ابی شیبہ الکوفی:

"وہ حافظ، دقیق، اور کثیر الحدیث محدث تھے۔"

📚 تاریخ بغداد، جلد ۱۱، صفحہ ۲۵۹

 

۲. حاتم بن اسماعیل:

"ثقہ، امانت دار، اور کثیرالحدیث راوی تھے۔"

📚 الطبقات الکبری، جلد ۵، صفحہ ۴۹۳

 

۳. جعفر بن محمد (امام صادقؑ):

"ثقہ، مامون، معتبر، اور علم و تقویٰ کے امام۔"

📚 سیر أعلام النبلاء، جلد ۶، صفحہ ۲۵۶

 

۴. ان کے والد امام باقرؑ:

"علم، فقہ، شرافت اور دیانت میں سب سے آگے، ثقہ اور معتبر۔"

📚 تاریخ الاسلام، جلد ۳، صفحہ ۳۰۸

 

۵. مسلم بن ابی مریم:

"اہلِ مدینہ کے معتبر تابعی، ثقہ، کم حدیث بیان کرنے والے، اور قدریہ کے سخت مخالف تھے۔"

📚 الطبقات الکبری، جلد ۵، صفحہ ۴۳۱

 

---

 

📜 نتیجہ:

یہ روایت سنداً صحیح اور اہل سنت کے نزدیک قابلِ اعتماد ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ "حَیَّ عَلَی خَیْرِ الْعَمَل"

رسولِ خدا ﷺ کے زمانے کی اصل اذان کا حصہ تھی،

اور امام سجادؑ اسے ہمیشہ اپنی اذان میں شامل کرتے تھے۔

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3