حضرت علیؑ نے جنگِ جمل کے دن ایک نماز پڑھائی
حضرت علیؑ نے جنگِ جمل کے دن ایک نماز پڑھائی

اہم اعتراف ابو موسیٰ اشعری

 

1️⃣ مسلمانوں پر سب سے اہم عبادتی فرائض میں سے ایک نماز ہے، جسے رسول اللہ ﷺ نے کئی سالوں تک بہت محنت اور کوشش کے ساتھ مسلمانوں کو سکھایا۔

 

2️⃣ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد اسلام میں بڑی بڑی تبدیلیاں پیدا ہوئیں؛ نماز، روزہ، حج وغیرہ جیسے عبادتی احکام غاصب حکومت کے نظام کے زیرِ اثر آگئے۔

 

3️⃣ غاصب خلفاء اور دنیا طلب و مفاد پرست صحابہ نے نماز میں سب سے زیادہ تبدیلیاں اور بدعتیں پیدا کیں، یہاں تک کہ:

 

ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے:

 

“حضرت علیؑ نے جنگِ جمل کے دن ہمیں ایک نماز پڑھائی، جس نے ہمیں رسول اللہ ﷺ کی نماز یاد دلا دی۔ پس یا تو ہم وہ نماز بھول چکے تھے، یا ہم نے اسے جان بوجھ کر چھوڑ دیا تھا۔”

 

(روایت)

 

یعنی ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں:

 

“علیؑ نے جمل کے دن ہمیں نماز پڑھائی، اور اپنی نماز کے ذریعے ہمیں رسول اللہ ﷺ کی نماز یاد آ گئی؛ وہ نماز جسے ہم بھول چکے تھے یا ہم نے جان بوجھ کر چھوڑ دیا تھا۔”

 

 

⁉️ سوال:

 

کیا وہ صحابہ جو نماز جیسے سب سے اہم عبادتی فریضے کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں، پیروی کے لائق ہیں؟

 

کیا ان لوگوں سے احکامِ الٰہی سیکھے جا سکتے ہیں جنہوں نے جان بوجھ کر نماز کے کچھ حصے چھوڑ دیے؟

 

اہلِ سنت حضرت امیر علیؑ کی نماز کو، بغیر بدعت اور تحریف کے، اپنی نماز کا معیار کیوں نہیں بناتے؟

 

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2