Back to معاویہ

معاویہ کی علی ع کے بارے میں بدگوئی

معاویہ کی علی ع کے بارے میں بدگوئی
معاویہ کی علی ع کے بارے میں بدگوئی
معاویہ کی علی ع کے بارے میں بدگوئی
معاویہ کی علی ع کے بارے میں بدگوئی
معاویہ کی علی ع کے بارے میں بدگوئی
معاویہ کی علی ع کے بارے میں بدگوئی
معاویہ کی علی ع کے بارے میں بدگوئی
معاویہ کی علی ع کے بارے میں بدگوئی
معاویہ کی علی ع کے بارے میں بدگوئی
معاویہ کی علی ع کے بارے میں بدگوئی
معاویہ کی علی ع کے بارے میں بدگوئی
معاویہ کی علی ع کے بارے میں بدگوئی
معاویہ کی علی ع کے بارے میں بدگوئی
معاویہ کی علی ع کے بارے میں بدگوئی

المصنف ابن ابی شیبہ میں نقل ہوا ہے کہ 

 

📜 ابن سابط، سعد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:

 

معاویہ اپنے بعض حج کے سفروں میں سعد کے پاس آیا۔ وہاں علی علیہ السلام کا ذکر کیا گیا، تو معاویہ نے علی کے بارے میں برائی کی۔ اس پر سعد غضبناک ہو گئے اور کہا:

 

"کیا تم ایسے شخص کے بارے میں بدگوئی کرتے ہو؟! میں نے رسول خدا ﷺ سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے:

 

علی میں تین ایسی خصوصیات ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی مجھے مل جاتی تو وہ میرے لیے سرخ اونٹوں (یعنی دنیا کی سب سے قیمتی دولت) سے زیادہ محبوب ہوتی:

 

1. میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ انہوں نے فرمایا:

'جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے۔'

 

2. اور میں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

'تمہارا مجھ سے وہی مقام ہے جو ہارون کا موسیٰ سے تھا، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔'

 

3. اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا:

'میں کل جھنڈا اس شخص کو دوں گا جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں، اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔'"

 

📚 المصنف ابن ابی شیبہ

 

✅ ٣٢٧٤١ - اس کی سند مضبوط ہے۔

 

📚 اور اسے ابن أبي عاصم نے اپنی کتاب «السنة» (۱۳۸۷) میں مصنف سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

 

📚 اور اسی طرح کی سند کے ساتھ اسے ابن ماجه (۱۲۱) نے بھی روایت کیا ہے۔

 

✅ جسے ناصر الدین البانی نے صحیح قرار دیا ہے

 

📚 اور اسے النسائي (۸۳۹۹) نے موسیٰ بن مسلم کے طریق سے روایت کیا ہے۔

 

۔

 

▪️ ایک دوسری سند ناسبی ابن کثیر نے لکھی ہے 

 

ابو زرعہ الدمشقی کہتے ہیں: ہم سے احمد بن خالد الذہبی ابو سعید نے روایت کی، انہوں نے محمد بن اسحاق سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی نجیح سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ:

جب معاویہ بن ابی سفیان نے حج کیا تو انہوں نے سعد بن ابی وقاص کا ہاتھ پکڑا اور کہا:

اے ابو اسحاق! ہم لوگ جہاد میں اس قدر مشغول رہے کہ حج سے دور ہو گئے، یہاں تک کہ اس کی بعض سنتیں بھولنے لگے ہیں، لہٰذا آپ اپنے طواف کے مطابق ہمیں بھی طواف کرائیں۔

وہ کہتے ہیں: جب سعد طواف سے فارغ ہوئے تو معاویہ انہیں دار الندوہ میں لے گئے، اور اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا۔ پھر علی بن ابی طالب کا ذکر کیا اور ان کے بارے میں ناپسندیدہ بات کہی

تو سعد نے کہا:

آپ نے مجھے اپنے گھر میں داخل کیا، اپنے تخت پر بٹھایا، پھر آپ علی کو برا کہتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

📚 البدایہ ولنہایہ

 

👈 اور ایک جماعت نے اسے روایت کیا ہے، سوائے اس جملے کے: “جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے”، کیونکہ ان کے ہاں اس کے بدلے یہ الفاظ ہیں: “اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں”، اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ آیت نازل ہوئی: “پس کہہ دو: آؤ ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو بلائیں...”

 

✅ جیسا کہ صحیح مسلم میں نقل ہوا

 

📜 ہم سے قتیبہ بن سعید اور محمد بن عباد نے روایت کیا، دونوں کے الفاظ قریب قریب ہیں، انہوں نے کہا: ہم سے حاتم بن اسماعیل نے روایت کیا، انہوں نے بکیر بن مسمار سے، انہوں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا، انہوں نے کہا:

 

معاویہ بن ابی سفیان نے سعد کو حکم دیا اور کہا: تمہیں کیا چیز روکتی ہے کہ تم ابو تراب (حضرت علیؓ) کو برا کہو؟

 

تو انہوں نے جواب دیا: جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے ان (علیؓ) کے بارے میں فرمائی ہیں، میں ہرگز انہیں برا نہیں کہوں گا۔ اگر ان میں سے ایک بات بھی مجھے مل جائے تو وہ میرے لیے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہے۔

 

میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، جب آپ ﷺ نے ایک غزوہ میں علیؓ کو پیچھے چھوڑا، تو علیؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ رہے ہیں؟

 

تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارون کو موسیٰ سے تھی، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں؟

 

اور میں نے آپ ﷺ کو خیبر کے دن فرماتے ہوئے سنا: میں ضرور جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔

 

ہم سب اس کے لیے منتظر ہو گئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: علی کو بلاؤ۔ انہیں لایا گیا جبکہ ان کی آنکھ میں تکلیف تھی، تو آپ ﷺ نے ان کی آنکھ میں لعاب لگایا اور جھنڈا انہیں دے دیا، پس اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی۔

 

اور جب یہ آیت نازل ہوئی:

"پس کہہ دو: آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو، اور اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو..." (آل عمران: 61)

 

تو رسول اللہ ﷺ نے علیؓ، فاطمہؓ، حسنؓ اور حسینؓ کو بلایا اور فرمایا:

"اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔"

 

📚 صحیح مسلم جلد: 7 صفحہ: 120، حدیث نمبر: 2404

 

Invisibleislam.com

 

۔

 

❌ اعتراض  ❌

 

❌ المنقظع روایت ہے 

 ❌ ابن سابط نے سعد سے نہیں سنا۔ 

📚 تہذیب الکمال و تہذیب التھذیب

 

وقال عباس الدوري: قيل ليحيى: سمع عبد الرحمن بن سابط من سعد ؟ قال: من سعد بن إبراهيم ؟ قالوا: لا، من سعد بن أبي وقاص ؟ قال: لا، قيل ليحيى: سمع من أبي أمامة ؟ قال: لا، قيل ليحيى: سمع من جابر ؟ قال: لا، هو مرسل، كان مذهب يحيى أن عبد الرحمن بن سابط يرسل عنهم، ولم يسمع منهم [تهذيب الكمال (17/ 123)]عن أبي بكر الصديق: قال أبو زرعة: مرسل، وعن سعد بن أبي وقاص وأبي أمامة وجابر، قال ابن معين: هو مرسل لم يسمع منهم. [تحفة التحصيل في المراسيل (1/ 288)] 

 

✅ جواب 

 

یہاں ابن معین نے صرف سعد سے نہیں بلکہ جابر اور ابو امامہ سے بھی مرسل روایت کا دعوی کیا ہے 

اور ابن معین کا قول باطل ہے۔ 

کیونکہ ابن حبان نے متصل سند کے ساتھ روایت بیان کی ہے

📜 یعقوب بن سفیان کی راہ سے روایت کیا ہے کہ محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، ان کے والد نے، ربیع بن سعد نے عبد الرحمن بن سابط سے کہ: میں جابر ۔۔۔۔۔۔

 

اور ابن ابی حاتم نے الجرح والتعديل میں کہا ہے کہ ابن سابط نے عمر سے مرسل روایت کی اور جابر سے متصل روایت کی 

 

📚 آخری اسکین دیکھیں 

 

اس وجہ سے ابن معین کا پورا قول باطل ہو گیا، خصوصاً اس بات کی وجہ سے کہ ابن سابط سعد بن ابی وقاص کے معاصر تھے

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14