Back to معاویہ

امیرالمومنین علیہ السلام کی طرف سے معاویہ پر نہایت صریح، واضح اور روشن تنقیدیں

امیرالمومنین علیہ السلام کی طرف سے معاویہ پر نہایت صریح، واضح اور روشن تنقیدیں

اگر کوئی شخص نہج البلاغہ کی طرف رجوع کرے تو وہ دیکھے گا کہ اس میں امیرالمومنین علیہ السلام کی طرف سے معاویہ پر نہایت صریح، واضح اور روشن تنقیدیں موجود ہیں۔ امیرالمومنین علیہ السلام کے معاویہ کے بارے میں سب سے واضح بیانات میں سے ایک نہج البلاغہ کے خط نمبر 17 میں ہے، جب معاویہ امیرالمومنین علیہ السلام کو لکھتا ہے:

 

تو امیرالمومنین علیہ السلام اس کے جواب میں لکھتے ہیں:

 

📜 اگر تم ایسے ہو، تو جان لو کہ: "لیکن امیہ ہاشم کی مانند نہیں، نہ حرب عبدالمطلب کی طرح ہے، نہ ابو سفیان ابو طالب جیسا ہے، نہ مہاجر اس شخص کی مانند ہے جو فتح مکہ کے دن آزاد کیا گیا، نہ خالص النسب اس کی مانند ہے جو چپکا ہوا (منسوب کیا گیا) ہو، نہ حق والا باطل والے کی طرح ہے، نہ مومن فریب کار کی مانند ہے، اور منا/فق مومن کا ہم درجہ نہیں ہے اور بہت ہی برا جانشین ہے وہ جو ایسے پیش رو کی پیروی کرے جو جہنم کی آگ میں گرا ہو..."

 

تمہارا جدِ اعلیٰ امیہ میرے جدِ اعلیٰ ہاشم جیسا نہیں، تمہارا جد حرب میرے جد عبدالمطلب جیسا نہیں، تمہارا باپ ابو سفیان میرے باپ ابو طالب جیسا نہیں، میں جو مہاجرین میں سے ہوں، تمہاری طرح نہیں جو فتح مکہ کے دن آزاد کیے گئے (اور قتل کے مستحق تھے مگر رسول اکرم ﷺ نے تم پر احسان کرتے ہوئے تمہیں آزاد کر دیا)، جو لالچ یا ڈر سے اسلام لائے، میں جس کا نسب خالص اور واضح ہے، تمہاری طرح نہیں جو غیر کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔

 

📚📕 الامامة و السیاسة لابن قتیبہ دینوری، تحقیق الزینی، ج1، ص104 ـ ربیع الابرار للزمخشری، ج3، ص470 ـ مروج الذهب للمسعودی، ج2، ص61 ـ وقعة صفین لابن مزاحم المنقری، ص471 ـ کتاب الفتوح لابن اعثم کوفی، ج3، ص155 ـ المناقب للموفق الخوارزمی، ص256 ـ شرح نہج البلاغہ لابن ابی الحدید المعتزلی، ج15، ص117 ـ منهاج البراعة للخوئی، ج18، ص239

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1