Back to معاویہ

معاویہ کا سعد بن ابی وقاص کی موجودگی میں حضرت علی علیہ السلام کی توہین و گستاخی

معاویہ کا سعد بن ابی وقاص کی موجودگی میں حضرت علی علیہ السلام کی توہین و گستاخی
معاویہ کا سعد بن ابی وقاص کی موجودگی میں حضرت علی علیہ السلام کی توہین و گستاخی
معاویہ کا سعد بن ابی وقاص کی موجودگی میں حضرت علی علیہ السلام کی توہین و گستاخی
معاویہ کا سعد بن ابی وقاص کی موجودگی میں حضرت علی علیہ السلام کی توہین و گستاخی

🔴 ابن ابی شیبہ (جو بخاری کے استاد ہیں) اپنی کتاب المصنف میں ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ معاویہ نے سعد بن ابی وقاص کی موجودگی میں حضرت علی علیہ السلام کی توہین و گستاخی کی، جس پر سعد غصے میں آگئے۔

 

لیکن ابن ابی عاصم (اہل سنت کے بڑے عالم، کتاب السنة کے مصنف) بھی یہی روایت نقل کرتے ہیں، مگر انہوں نے دوسرے علما کی طرح “سقیفہ مکتب” کے طریقے کے مطابق اس حصے کو کاٹ دیا جہاں معاویہ نے رسول اللہ ﷺ کے بھائی (حضرت علیؑ) کی توہین کی تھی، 

 

تاکہ “صحابہ کی عدالت” کے عقیدے کو نقصان نہ پہنچے۔

 

▪️ابن ابی شیبہ کی روایت (جس میں معاویہ کی توہین موجود ہے):

 

📜 32676 ابو معاویہ نے موسیٰ بن مسلم سے، انہوں نے عبدالرحمن بن سابط سے، انہوں نے سعد سے روایت کی کہ:

 

معاویہ اپنے بعض حج کے سفر میں آیا۔ سعد اس کے پاس گئے۔ وہاں حضرت علیؑ کا ذکر ہوا تو معاویہ نے ان کے بارے میں نازیبا کلمات کہے۔ اس پر سعد غصے میں آگئے اور کہا:

 

“تم اس شخص کے بارے میں ایسی بات کہتے ہو؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ ان کے بارے میں تین خصوصیات ایسی ہیں کہ ان میں سے ایک بھی میرے پاس ہو تو وہ میرے لیے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب سے زیادہ محبوب ہو۔”

 

(پھر سعد نے حضرت علیؑ کے فضائل بیان کیے جیسے حدیثِ منزلت، حدیثِ مولا وغیرہ)

 

📚 المصنف ابن ابی شیبہ، جلد 10، صفحہ 482، حدیث 32676

 

▪️ ابن ابی عاصم کی روایت (جس میں حذف کیا گیا):

 

📜 ابو بکر (ابن ابی شیبہ) اور ابو الربیع نے کہا: ابو معاویہ نے، شیبانی (موسیٰ بن مسلم) سے، انہوں نے عبدالرحمن بن سابط سے روایت کی کہ:

 

معاویہ اپنے بعض حج کے سفر میں آیا۔ سعد اس کے پاس گئے، (یہاں سے وہ حصہ غائب ہے جہاں علیؑ کا ذکر اور معاویہ کی توہین تھی)، پھر سعد نے کہا:

 

“میں نے رسول اللہ ﷺ سے علیؑ کے بارے میں تین خصوصیات سنی ہیں…”

 

📚 السنہ ابن ابی عاصم، جلد 1، صفحہ 920، حدیث 1421

 

دیکھا کہ ابن ابی عاصم نے “فذکروا علیاً” والا حصہ حذف کر دیا، یعنی وہ جگہ جہاں معاویہ کی طرف سے توہین کا ذکر تھا، اسے کاٹ دیا گیا۔ 

 

👈 اسے متن میں تحریف اور امیرالمؤمنین علیہ السلام پر ظلم قرار دیا گیا ہے۔

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4