اے اللہ! ان دونوں کو الٹا سر فتنے میں ڈال دے اور انہیں جہنم کی طرف سخت دھکیل دے
ابو برزہ کہتے ہیں:
📜 میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔ جب ترانے کی آواز آئی تو حضرت نے مجھ سے فرمایا: دیکھو یہ کس کی آواز ہے؟ میں گیا اور دیکھا کہ معاویہ اور عمرو بن عاص آپس میں شعر کہہ رہے تھے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
📜 اَللّٰهُمَّ ارْكِسْهُمَا فِي الْفِتْنَةِ رَكْسًا وَدَعْهُمَا إِلَى النَّارِ دَعًّا۔
📃 اے اللہ! ان دونوں کو الٹا سر فتنے میں ڈال دے اور انہیں جہنم کی طرف سخت دھکیل دے۔
📚📕المعجم الكبير للطبراني، ج11، ص32 ـ مسند أبی يعلي، ج13، ص429 ـ كتاب المجروحين لإبن حبان، ج3، ص101 ـ وقعة صفين لإبن مزاحم المنقري، تحقيق و شرح عبد السلام محمد هارون، ص219 ـ سير أعلام النبلاء للذهبي، ج3، ص132 و ج6، ص131 ـ المصنف لإبن أبي شيبة الكوفي، ج8، ص695 ـ مسند احمد بن حنبل، ج4، ص421 ـ مجمع الزوائد للهيثمي، ج8، ص121 ـ مسند بزار، ج9، ص303 و 310 و المعجم الأوسط للطبراني، ج7، ص133 ـ القول المسدد في مسند أحمد لأبن حجر العسقلاني، ص97 ـ ميزان الإعتدال للذهبي، ج4، ص424 ـ النصائح الكافية لمحمد بن عقيل، ص125
بعض مآخذ میں صحابہ کی احترام کی خاطر معاویہ اور عمرو بن عاص کے نام کی جگہ "فلان و فلان" آیا ہے، جو اہل سنت کے بعض علماء کی احادیث میں کی گئی زیادتیوں میں سے ایک ہے۔
یہ لعن نہیں بلکہ نبی مکرم ﷺ کی طرف سے نفرین ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی نفرین ضرور پوری ہوتی ہے۔
✅🟥 کتاب "القول المسدد" میں سیوطی اہل سنت کے علمی ستون سے نقل کرتے ہوئے ابن حجر عسقلانی یہ روایت نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں:
📜 ہمارے بعض علماء نے کوشش کی کہ یہ روایت ضعیف کہیں۔ نہیں، یہ روایت صحیح ہے اور ہمارے پاس معجم کبیر طبرانی میں ابن عباس کی روایات سے شواہد بھی موجود ہیں۔
📚📕القول المسدد في مسند أحمد لأبن حجر العسقلاني، ص96
Gallery
Tap any image to view full screen