Back to بنو امیہ کے ناصبی

بنی امیہ اور احادیث کے ساتھ کھیل

بنی امیہ اور احادیث کے ساتھ کھیل
بنی امیہ اور احادیث کے ساتھ کھیل
بنی امیہ اور احادیث کے ساتھ کھیل
بنی امیہ اور احادیث کے ساتھ کھیل
بنی امیہ اور احادیث کے ساتھ کھیل
بنی امیہ اور احادیث کے ساتھ کھیل

🔴 بنی امیہ اور احادیث کے ساتھ کھیل

 

✍🏻 یہ بے سبب نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی امیہ کو اس طرح دیکھا جیسے بندر آپ کے منبر پر اچھل کود کر رہے ہوں، اور حکم دیا کہ اگر معاویہ کو منبر پر دیکھو تو اسے ق/تل کر دو۔ کیونکہ خاتم الانبیاء ﷺ جانتے تھے کہ بنی امیہ دین اور سنت کو اپنا کھیل بنا لیں گے۔ 

 

▪️ذیل میں چند مثالیں پیش ہیں:

 

⭕ من گھڑت احادیث!

 

○ ایک روایت میں آیا ہے:

 

📜 حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا أَعْطَاهُ مُعَاوِيَةُ سَكَتَ، وَإِذَا أَمْسَكَ عَنْهُ تَكَلَّمَ

 

📃 “جب معاویہ ابو ہریرہ کو مال دیتا تھا تو وہ خاموش ہو جاتے تھے، اور جب مال روک لیتا تو وہ بولتے تھے!”

 

📚 الثقات، العجلي، ج 1، ص 405

 

پس ابو ہریرہ معاویہ کی طرف سے ملنے والی رقم کے بدلے حدیث کو چھپا لیتے تھے، اور اس کے برعکس بھی معاملہ ہوتا تھا۔

 

⭕ مسلماتِ تاریخ میں تحریف

 

○ معمر بن راشد کہتے ہیں:

 

📜 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ: مَنْ كَانَ كَاتِبَ الْكِتَابِ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ؟ فَضَحِكَ وَقَالَ: هُوَ عَلِيٌّ، وَلَوْ سَأَلْتَ هَؤُلَاءِ قَالُوا: عُثْمَانُ، يَعْنِي بَنِي أُمَيَّةَ

 

📃 “میں نے زہری سے پوچھا کہ صلح حدیبیہ کے معاہدے کا کاتب کون تھا؟ زہری ہنسے اور کہا: علی تھا، اور اگر تم ان (یعنی بنی امیہ) سے پوچھو گے تو وہ کہیں گے عثمان تھا!”

 

📚 فضائل الصحابة، ج 2، ص 591

 

یہ کہ امام علیؑ کاتبِ معاہدہ تھے، تاریخ کی واضح باتوں میں سے ہے، لیکن خود زہری کے اقرار کے مطابق بنی امیہ اس حقیقت کو بھی بدل دیتے تھے۔

 

⭕ روایات میں فریب اور الزام

 

○ زہری کہتے ہیں:

 

📜 عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَقَالَ: نَزَلَتْ فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ

 

📃 “میں ولید بن عبدالملک کے پاس تھا، اس نے یہ آیت پڑھی:

«وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ»

اور کہا: یہ آیت علی بن ابی طالب کے بارے میں نازل ہوئی!”

 

📚 حلية الأولياء، ج 3، ص 369

 

⭕️ ولید بن عبدالملک نے تحریف کرتے ہوئے امام علیؑ کو واقعۂ افک کا ذمہ دار قرار دیا، حالانکہ زہری نے خود اس کی تصحیح کی کہ اس آیت کا مصداق “عبداللہ بن ابی” ہے، نہ کہ امام علیؑ۔

 

🩸 پس بنی امیہ، جن کے سرِ فہرست معاویہ تھا، احادیث، سنت اور تاریخ میں تحریف سے دریغ نہیں کرتے تھے۔

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6