🔴 بلاذری نے اپنی تاریخ میں روایت کیا:
▪️ہم سے یوسف بن موسیٰ اور ابو موسیٰ اسحاق الفروی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں جرير بن عبدالحمید نے روایت کیا، انہوں نے کہا: ہمیں اسماعیل بن ابی خالد اور اعمش نے حسن بصری سے روایت کیا، انہوں نے کہا کہ نبی محمد ﷺ نے فرمایا:
📜 “جب تم معاویہ بن ابی سفیان کو میرے منبر پر دیکھو تو اسے ق/تل کر دو۔”
⭕ رجالِ سند:
1. یوسف بن موسیٰ:
📜 صحیحین وغیرہ کے راویوں میں سے ہیں اور انہیں ثقہ کہا گیا ہے۔
2. جرير بن عبدالحمید:
📜 صحاح ستہ کے راوی، متفقہ طور پر ثقہ۔
3. اسماعیل بن ابی خالد:
📜 صحاح ستہ کے راوی، ثقہ۔
4. اعمش:
📜 صحاح ستہ کے راوی، محدثین میں نہایت صدوق۔
5. حسن بصری:
📜 ثقہ اور جلیل القدر تابعی۔
📚 انساب الاشراف ج۵ ص١٣٦
🧮 وہسے اس حدیث کی بہت ساری اسناد ہیں
▪️چند ملاحظہ کریں
▪️پہلی سند
📜 عباد بن یعقوب عن شریک عن عاصم عن زر عن عبداللہ
▪️دوسری سند
📜 منصور بن سلمۃ عن سلیمان بن بلال عن جعفر بن محمد عن محمد بن علی عن جابر صحابی
▪️تیسری سند
📜 نصر: عمرو بن ثابت عن اسماعیل عن الحسن
▪️چوتھی سند
📜 حماد عن علی بن زید عن ابی نصرۃ عن ابی سعید
حماد بن سلمۃ مفتی بصرہ
📚 سير أعلام النبلاء - الذهبي - ج ٣ - الصفحة ١٤٩
اسناد بہت زیادہ ہیں لیکن اتنی ہی کافی ہیں اپنی تسلی آپ یہاں کر سکتے ہیں 👇
https://dorar.net/h/7nvr3kMG?sims=1
👈 اب ان اسناد کے راویوں پر گفتگو کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے وہ کیسے ؟
❓ آئیں اب آپکو میں بتاتا ہوں کیوں
یہ حدیث متعدد اسناد کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ اگر مثال کے طور پر فرض بھی کر لیں کہ ان سندوں میں کوئی نہ کوئی علمی مسئلہ ہے تو پھر بھی ہم اس کے حجت نہ ہونے کو قبول نہیں کر سکتے، کیونکہ اہل سنت کے علم رجال کے قواعد کے مطابق، اگر ایک روایت کی تین سے زیادہ اسناد ہوں اور وہ تمام کی تمام اسناد ضعیف بھی ہوں تو ، پھر بھی وہ اسناد ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں اور نتیجے کے طور وہ روایت صحیح و حجت ہو جاتی ہے۔
▪️ جیسا کہ بدر الدين عينی (متوفي 855 ہجری) نے کتاب عمدة القاری میں محيی الدين نووی سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
📜 وقال النووي في (شرح المهذب): إن الحديث إذا روي من طرق ومفرداتها ضعاف يحتج به، علي أنا نقول: قد شهد لمذهبنا عدة أحاديث من الصحابة بطرق مختلفة كثيرة يقوي بعضها بعضا، وإن كان كل واحد ضعيفا.
📃 نووی نے کتاب شرح مہذب میں کہا ہے کہ: اگر ایک روایت متعدد سندوں کے ساتھ نقل ہو ، لیکن اسکے بعض راوی ضعیف ہوں، پھر بھی اس روایت کے ساتھ استدلال کیا جا سکتا ہے۔ اسکے علاوہ ہم کہتے ہیں کہ: کچھ روایات صحابہ اور دوسرے راویوں سے نقل ہوئی ہیں کہ وہ روایات ایک دوسرے کی تائید اور تقویت کرتی ہیں، اگرچہ ان روایات میں سے ہر ایک ضعیف ہی کیوں نہ ہوں۔
📚 العيني، بدر الدين محمود بن أحمد (متوفي 855هـ)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج 3، ص 456
▪️ ابن تيميہ حرّانی ناصبی نے اپنی کتاب مجموع فتاوی میں لکھا ہے کہ:
📜 تعدّد الطرق وكثرتها يقوي بعضها بعضا حتي قد يحصل العلم بها ولو كان الناقلون فجّارا فسّاقا فكيف إذا كانوا علماء عدولا ولكن كثر في حديثهم الغلط.
📃 روایات کا متعدد اور کثیر واسطوں (اسناد) سے نقل ہونا، یہ ایک دوسرے کی تائید و قوی کرتے ہیں کہ اس سے اس روایت کے صحیح (معتبر) ہونے کا علم حاصل ہو جاتا ہے، اگرچہ وہ راوی فاسق اور فاجر بھی ہوں، تو پھر کیسے وہ روایات صحیح نہ ہوں کہ جنکو عالم و عادل راویوں نے نقل کیا ہو، لیکن انکی نقل کردہ احادیث میں خطائیں بہت زیادہ بھی ہوں۔
📚 ابن تيميه الحراني، أحمد عبد الحليم أبو العباس (متوفي 728 هـ)، كتب ورسائل وفتاوي شيخ الإسلام ابن تيمية، ج 18، ص 18
▪️ضعیف احادیث ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں۔
اور امام نووی نے شرح المهذب میں فرمایا:
📜 جب کوئی حدیث مختلف طرق سے روایت کی جائے اور ان میں سے ہر ایک ضعیف ہو، تو اس سے استدلال کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ ہمارے موقف کے حق میں صحابہ سے متعدد احادیث مختلف کثیر طرق سے مروی ہیں، جو ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں، اگرچہ ہر ایک (الگ الگ) ضعیف ہو۔
invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen