🔴 عبدالرحمٰن بن حسان کو معاویہ نے زندہ درگور کردیا
▪️ ابن اثیر کتاب تاریخ الکامل میں لکھتے ہیں:
📜 ثم قال لعبد الرحمن بن حسان: يا أخا ربيعة ما تقول في علي قال: دعني ولا تسألني فهو خير لك. قال: والله لا أدعك. قال: أشهد أنه كان من الذاكرين الله تعالى كثيرًا من الآمرين بالحق والقائمين بالقسط والعافين عن الناس. قال: فما قولك في عثمان قال: هو أول من فتح أبواب الظلم وأغلق أبواب الحق. قال: قتلت نفسك! قال: بل إياك قتلت ولا ربيعة بالوادي يعني ليشفعوا فيه فرده معاوية إلى زياد وأمره أن يقتله شر قتلة فدفنه حيًا.
📃 جب حضرت عبدالرحمٰن بن حسان کو گرفتار کیا گیا اور معاویہ کے سامنے پیش کیا گیا تب معاویہ نے ان سے پوچھا کہ تمہاری علی کے متعلق کیا رائے ہے؟ عبدالرحمٰن نے جوا ب دیا کہ تمہارے لئے بہتر یہی ہوگا کہ تم مجھ سے علی کے متعلق میری رائے نہ پوچھو۔ معاویہ نے کہا باخدا میں تمہیں نہیں چھوڑونگا۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ علی ان لوگوں میں سے ہیں جو اللہ کا ذکر بہت زیادہ کرتے ہیں اور دنیا میں انصاف کرتے ہیں اور لوگوں کی خطاؤں کو درگزر کرتے ہیں۔ پھر معاویہ نے پوچھا کہ عثمان کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ عبدالرحمٰن نے جواب دیا کہ عثمان پہلے شخص تھے جنہوں نے ظلم کا باب کھولا اور حق کا باب بند کردیا۔ معاویہ نے کہا، تم نے اپنے آپ کو قتل کرڈالا۔ حضرت عبدالرحمٰن نے جواب دیا، نہیں بلکہ تم نے خود کو قتل کرڈالا۔ پھر معاویہ نے عبدالرحمٰن کو زیاد کے پاس اس حکم کے ساتھ بھیج دیا گیا کہ انہیں بری طرح قتل کردیا جائے لہٰذا زیاد نے انہیں زندہ درگور کردیا۔
📚 تاریخ کامل، ج 3 ص 245
📚 البدایہ والنہایہ، ج 8
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen