▪️ مشہور اہل حدیث عالم مولانا وحید الزمان خان فاروقی حیدر آبادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
📜 صحابہ کرام کے لئے رضی اللہ عنہم کہنا مستحب ہے ما سوائے ابو سفیان ، معاویہ ، عمرو بن العاص ، مغیرہ بن شعبہ ، سمرہ بن جندب کے ان پانچ سے سکوت مستحب ہے انکا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا جائے انکو برا کہا جائے اور نا ہی انکی تعریف کی جائے ۔
📚 ( كنز الحقائق من فقه خير الخلائق ص234 )
▪️ شیخ الکل فی الکل شمس العلماء ، استاذالاساتذہ سید میاں محمد نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ فصیح غازی پوری کا قول نقل فرماتے ہیں :
📜 حضرت علی علیہ السلام کے مقابلے میں جہاں معاویہ کا تذکرہ ہو وہاں لفظ ”حضرت“ یا دعائیہ کلمات کہنا درست نہیں کیونکہ انہوں نے آخری خلیفہ راشد (سیدنا علی) کے خلاف بغاوت کی لہذا انکو غلط کار اور باغی سمجھنا چاہیے اور اس سے آگے بڑھ کر انکو برا بھلا کہنا درست نہیں ہے اس سے زبان کو روکنا چاہیے ۔
📚 ( فتاویٰ نذیریہ 3/446 )
🖋 عبد الله الهاشمي/امامی
Gallery
Tap any image to view full screen