🔴 مغیرہ بن شعبہ کا معاویہ کو کا/فر کہنا
▪️ مطرف بن مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں:
میں اپنے والد کے ساتھ معاویہ بن ابی سفیان کے پاس جایا کرتا تھا۔ میرے والد اس کے پاس جاتے، اس سے باتیں کرتے، پھر واپس آ کر مجھے اس (معاویہ) کی عقل اور اس کی باتوں کا ذکر کرتے اور اس پر تعجب کرتے تھے۔
ایک رات وہ واپس آئے تو کھانا نہیں کھایا، اور میں نے انہیں غمگین دیکھا۔ میں نے کچھ دیر انتظار کیا اور گمان کیا کہ شاید ہمارے متعلق کوئی بات ہوئی ہے۔ میں نے کہا: آپ کو کیا ہوا ہے، میں آپ کو غمگین دیکھ رہا ہوں؟
👈 انہوں نے کہا: اے بیٹے! میں ابھی سب سے زیادہ کا/فر اور خبیث آدمی کے پاس سے آیا ہوں۔
میں نے کہا: وہ کیا بات ہے؟
انہوں نے کہا: میں نے معاویہ سے کہا: “اے امیر المؤمنین! آپ اب عمر کو پہنچ چکے ہیں، اگر آپ عدل ظاہر کریں اور بھلائی پھیلائیں، اور اپنے بنی ہاشم کے بھائیوں کی طرف توجہ کریں، ان کے ساتھ صلہ رحمی کریں، کیونکہ آج آپ کو ان سے کوئی خطرہ نہیں، اور یہ کام آپ کے لیے اچھا ذکر اور ثواب چھوڑ جائے گا۔”
تو معاویہ نے کہا: “ہیہات! ہیہات! میں کون سا ایسا ذکر چاہتا ہوں جو باقی رہے؟ تیم کا ایک آدمی (یعنی ابو بکر) حکومت میں آیا، اس نے عدل کیا اور جو کیا، پھر وہ مر گیا اور اس کا ذکر بھی ختم ہو گیا، سوائے اس کے کہ کوئی کہہ دے: ابو بکر۔
پھر عدی کا ایک آدمی (یعنی عمر) حکمران بنا، اس نے محنت کی اور دس سال تک کوشش کی، پھر وہ مر گیا اور اس کا ذکر بھی ختم ہو گیا، سوائے اس کے کہ کوئی کہہ دے: عمر۔
لیکن ابنِ ابی کبشہ (یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کا نام ہر روز پانچ مرتبہ بلند کیا جاتا ہے (أشهد أن محمدًا رسول الله)، تو اس کے بعد کون سا عمل باقی رہ سکتا ہے؟ اور کون سا ذکر قائم رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! اللہ کی قسم، سوائے اس کے کہ (اس ذکر کو) دفن کر دیا جائے، مکمل طور پر دفن!”
📚 الأخبار الموفقيات: تأليف الزبير بن بكار
📚 موفقیات زبیر بن بکار ٥٧٦
📚 كشف الغمة: ج ٢ ص ٤٤ ط بيروت.
📚 وسائل الشيعة (آل البيت) - الحر العاملي - ج ١ - الصفحة مقدمة التحقيق ٣٨
📚 المسترشد - محمد بن جرير الطبري ( الشيعي) - الصفحة ٦٧٩
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen