Back to معاویہ

معاویہ کا والد کون ؟

معاویہ کا والد کون ؟

🔴 معاویہ کا والد کون تھے ؟ 

 

❓ ابو سفیان یا مسافر بن ابو عمرو؟”

 

👈 تمام حوالہ جات کی کتب کے لنکس پوسٹ کے منسلک ہیں

 

▪️ زمخشری نے کہا ہے:

 

📜 “معاویہ کو چار لوگوں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا: مسافر بن ابو عمرو کی طرف، عمارة بن الولید کی طرف، عباس بن عبدالمطلب کی طرف، اور ایک حبشی گانے والے سیاہ فام شخص صبّاح کی طرف جو عمارة کا تھا۔

 

کہتے ہیں کہ ابو سفیان کم قد اور بدصورت تھا، جبکہ صبّاح ابو سفیان کا نوکر تھا جو ایک خوبصورت نوجوان تھا، اور ہند نے اسے اپنے قریب کیا۔”

 

📚 ربیع الابرار (4/276)

 

https://shamela.ws/book/10668/1665#p1

 

▪️ سبط ابن جوزی کا بیان:

 

📜 کہا جاتا ہے کہ معاویہ کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ اس کے تین باپ تھے: عمارة بن الولید بن مغیرہ مخزومی، مسافر بن ابو عمرو، اور ابو سفیان۔

 

سبط ابن جوزی لکھا ہے:

 

📜 “حسن (علیہ السلام) کے معاویہ سے یہ قول کہ تم اس بستر کو جانتے ہو جس پر تم پیدا ہوئے، اس کا مطلب یہ ہے کہ معاویہ کو قریش کے تین افراد کی طرف منسوب کیا جاتا تھا: عمارة بن الولید بن مغیرہ مخزومی، مسافر بن ابو عمرو، اور ابو سفیان۔ یہ لوگ ابو سفیان کے ہم نشین تھے اور ہر ایک پر ہند کے بارے میں شبہ کیا جاتا تھا۔

 

اور جہاں تک مسافر بن ابو عمرو کا تعلق ہے، ابن کلبی کہتے ہیں کہ عام لوگوں کا خیال ہے کہ معاویہ انہی سے ہے، کیونکہ وہ ہند سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا۔ جب ہند معاویہ کے ساتھ حاملہ ہوئی تو مسافر کو خوف ہوا کہ کہیں یہ ظاہر نہ ہو کہ بچہ اس کا ہے، تو وہ حیرہ کے بادشاہ (ہند بن عمرو) کے پاس بھاگ گیا اور وہاں رہنے لگا۔

 

پھر ابو سفیان حیرہ آیا تو مسافر سے ملا، اور وہ اس وقت عشقِ ہند میں بیمار تھا اور اس کا پیٹ خراب ہو چکا تھا۔ اس نے اہلِ مکہ کے بارے میں پوچھا، تو اسے خبر دی گئی۔

 

اور کہا جاتا ہے کہ ابو سفیان نے ہند سے شادی کر لی تھی جب مسافر مکہ سے جا چکا تھا۔ ابو سفیان نے مسافر سے کہا: میں نے تمہارے بعد ہند سے شادی کر لی ہے۔ اس پر مسافر کا مرض بڑھ گیا، وہ کمزور ہوتا گیا، اور اس کے لیے داغنے (علاج) کا مشورہ دیا گیا۔ داغنے کے دوران ایک واقعہ پیش آیا جس پر وہ مشہور جملہ کہا گیا کہ “جانور بھی داغنے کے وقت ہوا خارج کر دیتا ہے”، اور یہی بات ضرب المثل بن گئی۔ آخرکار مسافر عشقِ ہند میں مر گیا۔”

 

📚 تذکرۃ الخواص (1/473)

 

https://ketabonline.com/ar/books/20362/read?part=1&page=231&index=1981022/1981025&q=%D9%88%D9%82%D9%88%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D9%84%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%88%D9%8A%D8%A9

 

▪️ انساب الاشراف میں بلاذری لکھتے ہیں:

 

📜 مسافر بن ابو عمرو بن امیہ: وہ قریش کے نوجوانوں میں سے ایک تھا، جو خوبصورتی، سخاوت اور شاعری میں مشہور تھا۔ اور وہ حیرہ چلا گیا جب اس پر ایک عورت “ہند” کے معاملے میں تہمت لگائی گئی، اور وہ وہاں بھاگ کر گیا۔

 

📚 انساب الاشراف (9/340)

 

https://shamela.ws/book/9773/3752

 

▪️الأغاني میں الأصفهانی نے لکھا ہے:

 

📜 “مسافر بن ابو عمرو بن امیہ قریش کے نوجوانوں میں سے تھا، جو خوبصورتی، شاعری اور سخاوت میں مشہور تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ہند بنت عتبہ بنت عتبہ بن ربیعہ سے محبت کرتا تھا اور وہ بھی اس سے محبت کرتی تھی۔ پھر اس پر تہمت لگائی گئی کہ وہ اس سے حاملہ ہو گئی ہے۔ بعض راویوں کے مطابق معروف بن خربوذ کہتے ہیں کہ جب اس کا حمل ظاہر ہونے کے قریب ہوا تو اس نے اسے کہا کہ یہاں سے چلا جائے، چنانچہ وہ نکل گیا اور حیرہ پہنچ گیا، اور وہاں عمرو بن ہند کے پاس چلا گیا۔”

 

https://ketabonline.com/ar/books/54761/read?part=9&page=2233&index=1077810/1077813&q=%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%B1%20%D8%A8%D9%86%20%D8%A3%D8%A8%D9%8A%20%D8%B9%D9%85%D8%B1%D9%88

 

▪️تاریخ دمشق میں ابن عساکر لکھتے ہیں:

 

📜 “مسافر بن ابو عمرو بن امیہ بن عبد شمس قریش کے نوجوانوں میں سے تھا، جو خوبصورتی، سخاوت اور شاعری میں مشہور تھا۔ وہ ہند بنت عتبہ سے محبت کرتا تھا یہاں تک کہ اس کا چرچا ہو گیا۔

 

پھر (روایت کے مطابق) ابو سفیان بن حرب نے مسافر کی غیر موجودگی میں ہند سے شادی کر لی۔ اس کے بعد ابو سفیان تجارت کے لیے حیرہ گیا تو وہاں اسے مسافر بن ابو عمرو ملا۔ مسافر نے اس سے مکہ اور قریش کے حالات پوچھے، ابو سفیان نے اسے خبر دی، پھر کہا کہ میں نے تمہارے بعد ہند بنت عتبہ سے شادی کر لی ہے۔

 

اس پر مسافر غمگین ہو گیا، بیمار پڑ گیا اور اس کی حالت بگڑ گئی۔” 💔🥲

 

📚 تاریخ دمشق جلد 70، صفحہ 173 

 

https://shamela.ws/book/71/31646

 

▪️ الجليس الصالح الكافي میں ابن زکریا لکھتے ہیں:

 

📜 “مسافر بن ابو عمرو بن امیہ بن عبد شمس قریش کے نوجوانوں میں سے تھا، جو خوبصورتی، سخاوت اور شاعری میں مشہور تھا۔ وہ ہند بنت عتبہ سے محبت کرتا تھا یہاں تک کہ اس کا چرچا ہو گیا۔

 

پھر ابو سفیان بن حرب نے مسافر کی غیر موجودگی میں ہند سے شادی کر لی۔ اس کے بعد ابو سفیان تجارت کے لیے حیرہ گیا تو وہاں اسے مسافر بن ابو عمرو ملا۔ مسافر نے اس سے مکہ اور قریش کے حالات پوچھے، ابو سفیان نے اسے خبر دی، پھر کہا کہ میں نے تمہارے بعد ہند بنت عتبہ سے شادی کر لی ہے۔

 

اس پر مسافر غمگین ہو گیا، بیمار پڑ گیا اور اس کی حالت بگڑ گئی۔"

 

📚 الجليس الصالح الكافي جلد 1، صفحہ 738

 

https://shamela.ws/book/7301/734

 

▪️ کامل البهائی میں عماد الدین الطبری لکھتے ہیں:

 

📜 “شیخ زاہد، حافظ ابو سعید اسماعیل بن علی السمان جو اہلِ سنت کے علماء میں سے ہیں اور پہلی جماعت میں شمار کیے گئے اپنی کتاب ‘مثالب بنی امیہ’ میں کہتے ہیں:

 

مسافر بن عمرو ہند کے ساتھ میل جول رکھتا تھا، جو ہند بنت عتبہ (معاویہ کی ماں، حمزہ رضی اللہ عنہ کے جگر کو چبانے والی) تھی۔ اس نے کئی مرتبہ اس کے ساتھ زنا کیا، اور یہ ناجائز تعلق کئی سال تک جاری رہا۔ وہ اسے اپنے ساتھ نکاح کا وعدہ بھی دیتا رہا، لیکن تقدیر نے ایسا نہ ہونے دیا، یہاں تک کہ وہ اس سے حاملہ ہو گئی۔ حمل کے چھ ماہ گزرے تو مسافر کو بدنامی کا خوف ہوا، اس لیے وہ نعمان (بادشاہ) کے پاس حیرہ بھاگ گیا۔

 

ادھر ہند نے ابو سفیان بن حرب سے شادی کر لی۔ بعض لوگوں نے انہیں نکاح کے بعد ان کے گھر میں داخل کیا، اور کچھ عرصہ بعد (تین ماہ کے قریب) ہند نے ابو سفیان کے بستر پر معاویہ کو جنم دیا۔

 

جب ہند کی خبر مسافر تک پہنچی تو وہ شدید غم میں مبتلا ہو گیا۔”

 

📚 کامل البهائی جلد 2، صفحہ 364

 

https://lib.eshia.ir/86689/2/263/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%88%D9%8A%D8%A9_%D8%A8%D9%86_%D9%85%D8%B3%D8%A7%D9%81%D8%B1

 

▪️المنمق میں محمد بن حبیب لکھتے ہیں:

 

“مسافر بن ابو عمرو ہند بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس سے محبت کرتا تھا۔ وہ نعمان بن منذر کے پاس گیا تو اس نے اس کی عزت کی اور اسے اپنے ساتھ ہم نشین بنایا۔

 

پھر ایک آنے والے شخص نے اسے خبر دی کہ ہند نے ابو سفیان بن حرب سے شادی کر لی ہے، اس پر مسافر غم کی وجہ سے بیمار ہو گیا۔”

 

📚 المنمق جلد 1، صفحہ 369

 

https://shamela.ws/book/12212/366

 

▪️الفاخر میں المفضل بن سلمة لکھتے ہیں:

 

📜 “اس کے واقعے میں یہ ہے کہ وہ ہند بنت عتبہ سے محبت کرتا تھا اور وہ بھی اس سے محبت کرتی تھی۔ اس نے کہا: میرے گھر والے تم سے میری شادی نہیں کریں گے کیونکہ تم تنگ دست ہو، اگر تم کسی بادشاہ کے پاس جاؤ تو شاید مال حاصل کر لو اور پھر مجھ سے شادی کر سکو۔

 

چنانچہ وہ حیرہ کی طرف روانہ ہوا اور نعمان بن منذر کے پاس گیا۔ جب وہ وہاں مقیم تھا تو مکہ سے ایک شخص آیا، جس نے اس سے مکہ کے حالات پوچھے۔ اس نے اسے بتایا کہ ابو سفیان نے ہند سے شادی کر لی ہے، تو وہ غم کی وجہ سے بیمار پڑ گیا۔”

 

📚 الفاخر جلد 1، صفحہ 155

 

https://shamela.ws/book/9236/155

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1