محمد رشید رضا (معاصر اہل سنت عالم): معاویہ اقتدار کا طلبگار اور تفرقہ پیدا کرنے والا تھا
🔴 محمد رشید رضا (معاصر اہل سنت عالم): معاویہ اقتدار کا طلبگار اور تفرقہ پیدا کرنے والا تھا!
▪️ محمد رشید رضا، جو معاصر دور کے مشہور مخالفینِ شیعہ علماء میں شمار ہوتے ہیں، معاویہ بن ابی سفیان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:
📜 (ج) معاویہ کی پوری سیرت، تفصیل کے ساتھ، یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ حکومت اور ریاست کا طالب تھا اور اقتدار کا عاشق تھا۔ میرا عقیدہ ہے کہ اس نے یہ اقتدار زبردستی حاصل کیا، اور اس کے لیے یہ مناسب نہیں تھا کہ وہ حضرت علیؑ کی بیعت سے انکار کرتا، جبکہ اہلِ حل و عقد (اہم فیصلہ کرنے والے لوگ) پہلے ہی حضرت علیؑ کی بیعت کر چکے تھے۔
اگرچہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ وہ امت کے امور سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن صرف اپنی اہلیت کا عقیدہ کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اس معاملے میں تنازع کھڑا کرے۔
حضرت علیؑ کا عقیدہ تھا کہ وہ خلافت کے زیادہ حقدار ہیں، لیکن لوگوں نے ان سے پہلے والوں کی بیعت کر لی..................
لیکن معاویہ نے اس اصول کی پابندی نہیں کی۔
وہی شخص ہے جس نے مسلمانوں کو اس حد تک پہنچایا کہ وہ آپس میں تقسیم ہو گئے اور جنگیں شروع ہو گئیں، اور اسی کی وجہ سے خلافت “ملکِ عضوض” (موروثی بادشاہت) بن گئی۔
پھر اس نے خلافت کو اپنے خاندان میں موروثی بنا دیا، اور اسلامی نظام کو قرآن کے اصول (شورٰی) سے ہٹا کر آمرانہ نظام میں بدل دیا، حتیٰ کہ اس کے دور میں منبر پر یہ کہا گیا:
"جو مجھے کہے کہ اللہ سے ڈرو، میں اس کی گردن اڑا دوں گا!"
📚 مجلة المنار، جلد 9، صفحہ 212-213
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen