Back to معاویہ

محمد متولی الشعراوی (مشہور اہل سنت عالم): معاویہ کا مقصد حکومت تھا، نہ کہ عثمان کے قاتلوں سے قصاص لینا!

محمد متولی الشعراوی (مشہور اہل سنت عالم): معاویہ کا مقصد حکومت تھا، نہ کہ عثمان کے قاتلوں سے قصاص لینا!
محمد متولی الشعراوی (مشہور اہل سنت عالم): معاویہ کا مقصد حکومت تھا، نہ کہ عثمان کے قاتلوں سے قصاص لینا!
محمد متولی الشعراوی (مشہور اہل سنت عالم): معاویہ کا مقصد حکومت تھا، نہ کہ عثمان کے قاتلوں سے قصاص لینا!
محمد متولی الشعراوی (مشہور اہل سنت عالم): معاویہ کا مقصد حکومت تھا، نہ کہ عثمان کے قاتلوں سے قصاص لینا!

🔴 محمد متولی الشعراوی (مشہور اہل سنت عالم): معاویہ کا مقصد حکومت تھا، نہ کہ عثمان کے قاتلوں سے قصاص لینا!

 

▪️ معاویہ بن ابی سفیان کو بلا جھجک صدرِ اسلام کے منافقین کے سرکردہ افراد میں شمار کیا جا سکتا ہے، اور اس نے کئی مواقع پر رسول اللہ ﷺ کی سنت کے خلاف کھل کر عمل کیا، یہاں تک کہ آج بھی بعض غیر شیعہ علماء اس کے جرائم کا اعتراف کرتے ہیں۔

 

▪️ شیخ محمد متولی الشعراوی : ایک معروف معاصر اہل سنت عالم — حضرت یوسفؑ کے واقعے اور ان کی قمیص سے متعلق مثالوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:

 

📜 اسی لیے علماء اور ادباء نے لفظ “قمیص” کو بعض چیزوں کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اس کی مثال لوگوں کی وہ بات ہے جو حضرت علیؑ اور معاویہؓ کے درمیان جنگ کے بارے میں کرتے ہیں کہ معاویہ نے حضرت عثمانؓ کی قمیص (خون آلود پیراہن) کو بطور بدلہ طلبی کے استعمال کیا۔

 

یہاں “قمیص عثمان” ایک علامتی لفظ بن گیا جس کا مقصد اصل ہدف کو چھپانا تھا۔ اور حقیقت یہ تھی کہ معاویہ کا مقصد یہ تھا کہ وہ حضرت علی بن ابی طالبؓ کی جگہ خود حکومت حاصل کرے۔

 

📚 تفسیر الشعراوی، ص 6888-6889

 

▪️ خلاصہ یہ کہ علماء و ادباء کے ہاں “قمیص عثمان” ایک علامت کے طور پر استعمال ہوتا ہے، اور اس سے مراد یہ ہے کہ اصل مقصد چھپایا جائے۔

 

▪️ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ معاویہ کا بنیادی ہدف سیاسی اقتدار اور دنیاوی حکومت تھی، اور عثمانؓ کے قاتلوں سے قصاص کا نعرہ اس کے اصل مقصد کو حاصل کرنے کا ذریعہ اور بہانہ تھا۔

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4