Back to معاویہ

ابن تیمیہ (سلفی عالم): معاویہ نے قاتلانِ عثمان کو قصاص نہیں لیا

ابن تیمیہ (سلفی عالم): معاویہ نے قاتلانِ عثمان کو قصاص نہیں لیا
ابن تیمیہ (سلفی عالم): معاویہ نے قاتلانِ عثمان کو قصاص نہیں لیا
ابن تیمیہ (سلفی عالم): معاویہ نے قاتلانِ عثمان کو قصاص نہیں لیا

🔴 ابن تیمیہ (سلفی عالم): معاویہ نے قاتلانِ عثمان کو قصاص نہیں کیا!

 

“اور اس بات کو واضح کرنے والی چیزوں میں سے یہ ہے کہ معاویہ پر علی بن ابی طالب کی وفات کے بعد لوگوں کا اجماع ہو گیا اور وہ تمام مسلمانوں کا امیر بن گیا۔ اس کے باوجود اس نے عثمان کے ان قاتلوں کو قتل نہیں کیا جو باقی رہ گئے تھے۔ بلکہ اس سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ جب وہ حج کے لیے مدینہ آیا تو اس نے عثمان کے گھر سے آواز سنی: ‘ہاے امیر المؤمنین! ہاے امیر المؤمنین!’

 

اس نے کہا: یہ کیا ہے؟

لوگوں نے کہا: عثمان کی بیٹی اپنے والد پر نوحہ کر رہی ہے۔

 

تو اس نے لوگوں کو ہٹا دیا، پھر اس کے پاس گیا اور کہا:

‘اے میری چچا زاد! لوگوں نے ناگواری کے باوجود ہماری اطاعت قبول کی ہے، اور ہم نے بھی غصے کے باوجود ان کے ساتھ حلم و بردباری کا معاملہ کیا ہے۔ اگر ہم اپنا حلم واپس لے لیں تو وہ بھی اپنی اطاعت واپس لے لیں گے۔ تمہارے لیے یہ بہتر ہے کہ تم امیر المؤمنین کی بیٹی بن کر رہو بجائے اس کے کہ عام لوگوں میں سے ایک ہو جاؤ۔ پس آج کے بعد میں تم سے نہ سنوں کہ تم عثمان کا ذکر کرو۔’”

 

📚 ابن تیمیہ، منہاج السنة النبویة، ج4، ص 407-408

 

⭕ ترجمہ کا خلاصہ:

 

ابن تیمیہ کے مطابق، علیؑ کی وفات کے بعد معاویہ کو خلافت ملی، لیکن اس کے باوجود اس نے عثمان کے قاتلوں سے قصاص نہیں لیا۔ بلکہ ایک موقع پر اس نے عثمان کی بیٹی کو بھی خاموش رہنے کا کہا تاکہ سیاسی استحکام برقرار رہے۔

 

🚩 اہم نکتہ:

 

👈 یہاں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ معاویہ کی طرف سے امام علیؑ کے خلاف جنگ کی ایک بڑی وجہ یہی بیان کی جاتی تھی کہ عثمان کے قاتلوں سے قصاص نہیں لیا گیا، جبکہ خود اس کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی اس نے ایسا نہیں کیا۔

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3