🔴 اہلِ سنت کے بعض بڑے علماء کی طرف سے معاویہ سے براءت کا اعلان!
⭕ عبد اللہ بن موسیٰ
▪️جو امام بخاری کے بڑے اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ وہ معاویہ پر لع_نت کرنے اور اس پر اکتفا کرنے کے ساتھ ساتھ، یہاں تک کہ جس شخص کا نام بھی “معاویہ” ہوتا، اسے اپنے گھر میں داخل ہونے نہیں دیتے تھے اور اس سے بات کرنے سے بھی انکار کر دیتے تھے۔۔ اور کہتے کہ جو معاویہ پر لعنت نہیں کرتا اس پر بھی لعنت
▪️ احمد بن حنبل اپنی کتاب السنة میں روایت نقل کرتے ہیں
📜 میں نے محمد بن عبید اللہ بن یزید منادی کو کہتے ہوئے سنا:
ہم مکہ میں سن 9 (ہجری/یا متعلقہ سال) میں تھے، اور ہمارے ساتھ عبید اللہ بن موسیٰ بھی تھا۔ اس نے سفر کے دوران حدیث بیان کی، پھر اس نے ایک حدیث معاویہ کے بارے میں ذکر کی اور معاویہ پر لعنت کی اور کہا: “جو اسے لعنت نہ کرے اس پر بھی لعنت ہو۔”
ابن المنادی کہتے ہیں: پھر میں نے اس بات کی خبر امام احمد بن حنبل کو دی تو انہوں نے کہا: “اے ابو جعفر! یہ حد سے بڑھنے والا ہے۔”
پھر مجھے محمد بن ابی ہارون نے بتایا کہ حبیش بن سندی نے ان سے بیان کیا کہ ابو عبد اللہ (امام احمد) کے سامنے عبید اللہ بن موسیٰ کی ایک حدیث کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا: “میرا خیال ہے کہ وہ اس قابل نہیں کہ اس سے روایت لی جائے، کیونکہ وہ صحابۂ رسول ﷺ (معاویہ) پر طعن کرتا ہے۔”
اور انہوں نے مزید کہا: مجھے چند دن پہلے ہمارے ایک آدمی نے بتایا (مجھے امید ہے کہ وہ سچا ہے) کہ وہ مکہ کے راستے میں اس کے ساتھ تھا، اس نے ایک حدیث بیان کی جس میں معاویہ پر لعنت تھی، اور اس نے کہا: “ہاں، اللہ اس پر لعنت کرے اور جو اس پر لعنت نہ کرے اس پر بھی لعنت ہو۔”
پھر امام احمد نے اس پر انکار کیا اور فرمایا کہ وہ روایت لینے کے قابل نہیں۔
📚 السنة ج۳ ص۵۰۵
▪️ذھبی نقل کرتے ہیں کہ
ابن مندہ کہتے ہیں:
📜 “احمد بن حنبل لوگوں کو عبید اللہ کی طرف رہنمائی کرتے تھے، اور وہ (عبد اللہ بن موسیٰ) رفض (اہلِ بیت کی طرف میلان) کے ساتھ معروف تھے۔
وہ کسی ایسے شخص کو، جس کا نام معاویہ ہو، اپنے گھر میں داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔
کہا گیا: ایک مرتبہ معاویہ بن صالح الاشعری ان کے پاس آئے، تو انہوں نے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟
اس نے کہا: معاویہ۔
تو انہوں نے کہا:
‘اللہ کی قسم! میں نہ تم سے حدیث بیان کروں گا، اور نہ ہی ایسے لوگوں سے روایت کروں گا جن میں تم موجود ہو۔’”
📚 سیر أعلام النبلاء، ج9، ص556
📌 نوٹ:
یہ شخص (عبد اللہ بن موسیٰ) اہلِ سنت کے بڑے راویوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی روایات صحیح بخاری و صحیح مسلم میں موجود ہیں۔
⭕ امام ذہبی کہتے ہیں:
📜 “وہ امام بخاری کے بڑے اساتذہ میں سے ہیں۔”
📚 تاریخ الاسلام، ج15، ص162
https://shamela.ws/book/12397/7881
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen