Back to معاویہ

علی بن ابی طالب ع معاویہ پر نماز میں لعنت کرتے تھے

علی بن ابی طالب ع معاویہ پر نماز میں لعنت کرتے تھے
علی بن ابی طالب ع معاویہ پر نماز میں لعنت کرتے تھے
علی بن ابی طالب ع معاویہ پر نماز میں لعنت کرتے تھے

🔴 عبد الوہاب النجار (معاصر اہلِ سنت عالم): علی بن ابی طالب معاویہ پر نماز میں لع_نت کرتے تھے!

 

تاریخی حقائق میں سے ایک یہ ہے کہ مؤرخین نے اسے نقل کیا ہے اور بعض اہلِ سنت علماء نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام قنوتِ نماز میں معاویہ بن ابی سفیان اور اس کے بعض ساتھیوں پر لع_نت کرتے تھے، اور اس کے مقابلے میں معاویہ بن ابی سفیان امیرالمؤمنین، امام حسن، امام حسین علیہم السلام، ابن عباس اور مالک اشتر کو اپنے قنوت میں سبّ (برا بھلا کہنا) کرتا تھا۔

 

▪️عبد الوہاب النجار، جو معاصر اہلِ سنت عالم ہیں، اس بارے میں لکھتے ہیں:

 

📜 “جب وہ (علی) نمازِ فجر پڑھتے تو قنوت میں کہتے:

اے اللہ! معاویہ، عمرو، ابو الاعور، حبیب، عبد الرحمن بن خالد، ضحاک بن قیس اور ولید پر لع_نت فرما۔”

 

▪️ اور میں (عبد الوہاب النجار) اس کے مقابلے میں کہتا ہوں:

 

“علی رحمہ اللہ نے اپنے مخالفین کے لیے یہ طریقہ قائم کر دیا کہ وہ بھی ان کے عمل کا اسی طرح جواب دیں اور ان پر لع_نت کو نمازوں کے بعد ایک قسم کی عبادت بنا لیں۔ چنانچہ معاویہ جب قنوت کرتا تو علی، ابن عباس، حسن، حسین اور اشتر کو برا بھلا کہتا تھا، اور یہ بنی امیہ میں عمر بن عبد العزیز کے زمانے تک ایک رواج (سنت) بن گیا تھا، جس پر لوگوں کو اسلامی علاقوں میں عمل کروایا جاتا تھا۔”

 

📚 الخلفاء الراشدون، ص 450

 

ملاحظہ کریں کہ عبد الوہاب النجار کوشش کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام پر نوا_صب کی طرف سے لع_نت کو کسی نہ کسی طرح جواز دیں اور اس کا سبب خود امیرالمؤمنین علیہ السلام کے عمل کو قرار دیں۔

 

عبد الوہاب بن شیخ سید احمد النجار: ایک محقق اور مؤرخین میں شمار ہوتے ہیں، مصر کے فقہاء میں سے ہیں۔ القرشیہ (مصر کے صوبہ غربیہ کا ایک گاؤں) میں پیدا ہوئے، وہیں تعلیم حاصل کی، پھر طنطا میں تعلیم جاری رکھی۔ بعد ازاں قاہرہ منتقل ہوئے اور دارالعلوم سے 1315ھ میں فارغ التحصیل ہوئے۔ شرعی وکالت میں کام کیا، پھر خرطوم کالج میں ادب اور شریعت کے استاد مقرر ہوئے۔ اس کے بعد جامعہ مصریہ میں تاریخِ اسلام کے استاد، پھر دارالعلوم میں شریعت کے استاد اور پھر مدرسہ عثمان ماہر پاشا کے ناظم رہے، یہاں تک کہ وفات تک اسی طرح خدمات انجام دیتے رہے۔ متعدد اسلامی انجمنوں میں شریک رہے، خصوصاً جمعیة الشبان المسلمین میں۔

 

📚 الأعلام للزرکلی، ج4، ص182

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3