Back to معاویہ

امیرالمؤمنین، امام حسن، امام حسین اور بعض صحابہ معاویہ سے بیزار تھے!

امیرالمؤمنین، امام حسن، امام حسین اور بعض صحابہ معاویہ سے بیزار تھے!
امیرالمؤمنین، امام حسن، امام حسین اور بعض صحابہ معاویہ سے بیزار تھے!
امیرالمؤمنین، امام حسن، امام حسین اور بعض صحابہ معاویہ سے بیزار تھے!

🔴 ابو بکر جصاص (اہلِ سنت کے عالم): امیرالمؤمنین، امام حسن، امام حسین اور بعض صحابہ معاویہ سے بیزار تھے!

 

❓ اکثر نواسب اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اگر حسنین ع و معاویہ کے درمیان دشمنی تھی تو وہ ان سے وظیفے (اصل میں خمس) کیوں لیتے تھے ؟

 

▪️معاویہ کی سیرت اس قدر غیر اسلامی بلکہ ضدِ اسلامی تھی کہ ابو بکر جصاص، جو اہلِ سنت کے معروف عالم ہیں، کے بقول بعض صحابہ اور تابعین اور ان کے سرِ فہرست امیرالمؤمنین علیہ السلام، امام حسن اور امام حسین علیہما السلام معاویہ سے بیزار تھے۔

 

ابو بکر جصاص لکھتے ہیں:

 

📜 “حسن، سعید بن جبیر، شعبی اور دیگر تابعین ان ظالم حکمرانوں کے ہاتھ سے اپنا رزق لیتے تھے، نہ اس معنی میں کہ وہ ان کی ولایت کو مانتے تھے یا ان کی امامت کے قائل تھے، بلکہ اس لیے کہ وہ اسے اپنا حق سمجھتے تھے جو فا/جر لوگوں کے ہاتھ میں تھا۔ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ (مال لینا) ان کی دوستی اور ولایت کی دلیل ہو، جبکہ انہوں نے حجاج کے خلاف تلوار اٹھائی، اور قاریوں میں سے چار ہزار آدمی جو بہترین تابعین اور فقہاء تھے اس کے خلاف نکلے اور عبد الرحمن بن محمد بن اشعث کے ساتھ اہواز، پھر بصرہ اور پھر دیر الجماجم (فرات کے قریب کوفہ کے پاس ایک مقام) میں اس سے جنگ کی، اس حال میں کہ وہ عبد الملک بن مروان کی بیعت توڑ چکے تھے، انہیں لع_نت کرتے تھے اور ان سے بیزاری ظاہر کرتے تھے۔

 

اور اسی طرح ان سے پہلے لوگوں کا طریقہ معاویہ کے ساتھ بھی تھا، جب وہ علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد حکومت پر غالب آ گیا تھا۔ حسن اور حسین اور اس زمانے کے دیگر صحابہ معاویہ سے عطیات لیتے تھے، اس حال میں کہ وہ اس کی ولایت کو قبول نہیں کرتے تھے بلکہ اس سے بیزاری ظاہر کرتے تھے، اسی طریقے پر جس پر علی علیہ السلام اپنی وفات تک قائم رہے، یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اپنی جنت اور رضوان میں جگہ دی۔ پس ان کی طرف سے قضاء (منصب) قبول کرنا یا ان سے مال لینا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ ان کی ولایت اور امامت کے قائل تھے۔”

 

📚 ابو بکر احمد بن علی الجصاص، احکام القرآن، ج1، ص88

 

اس کلام کی بنیاد پر معلوم ہوتا ہے کہ ایک بڑی تعداد صحابہ کی جن میں سرِ فہرست امیرالمؤمنین، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام شامل ہیں معاویہ سے بیزار تھے اور اس سے اظہارِ براءت کرتے تھے، اور ان کا اس سے مال لینا اس بنیاد پر تھا کہ وہ اسے اپنا حق سمجھتے تھے، نہ کہ وہ معاویہ کی مشروعیت یا ولایت کے قائل تھے۔

 

بدر علی

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3